الديمقراطية لن تجلب التغيير
الديمقراطية لن تجلب التغيير

الخبر: كان طموح وان عزيزة وان إسماعيل في طفولتها أن تصبح طبيبة وتعالج المرضى. والآن وقد أصبحت من أقوى السياسيات في ماليزيا، تقول إن مهمتها هي تحسين حقوق المرأة. سجلت هذه المرأة البالغة من العمر 65 عاما تاريخها هذا الشهر عندما عينت نائبة لرئيس الوزراء الماليزي. وهي أول امرأة تشغل هذا المنصب، وهي واحدة من قلة من السياسيات في المناصب العامة العليا في جنوب شرق آسيا. وقد تعهدت وان عزيزة بالضغط من أجل الحصول على المزيد من الحقوق للمرأة في البلد الذي يعد فيه تمثيل النساء في الهيئات التشريعية الوطنية من أدنى المستويات في العالم. وقالت في مكتبها في العاصمة الإدارية بوتراجايا "أيتها النساء، كما ترين الآن أصبح بالإمكان كسر الحواجز، ويمكن أن يحدث ذلك - بقدر قليل من المثابرة والالتزام والإيمان بأنه يمكن فعل ذلك". مؤسسة طومسون رويترز 29/5/2018  

0:00 0:00
Speed:
June 01, 2018

الديمقراطية لن تجلب التغيير

الديمقراطية لن تجلب التغيير

(مترجم)

الخبر:

كان طموح وان عزيزة وان إسماعيل في طفولتها أن تصبح طبيبة وتعالج المرضى. والآن وقد أصبحت من أقوى السياسيات في ماليزيا، تقول إن مهمتها هي تحسين حقوق المرأة.

سجلت هذه المرأة البالغة من العمر 65 عاما تاريخها هذا الشهر عندما عينت نائبة لرئيس الوزراء الماليزي. وهي أول امرأة تشغل هذا المنصب، وهي واحدة من قلة من السياسيات في المناصب العامة العليا في جنوب شرق آسيا.

وقد تعهدت وان عزيزة بالضغط من أجل الحصول على المزيد من الحقوق للمرأة في البلد الذي يعد فيه تمثيل النساء في الهيئات التشريعية الوطنية من أدنى المستويات في العالم.

وقالت في مكتبها في العاصمة الإدارية بوتراجايا "أيتها النساء، كما ترين الآن أصبح بالإمكان كسر الحواجز، ويمكن أن يحدث ذلك - بقدر قليل من المثابرة والالتزام والإيمان بأنه يمكن فعل ذلك". مؤسسة طومسون رويترز 29/5/2018

التعليق:

كثير من الناس يدخلون النظام السياسي الحالي مع الرغبة في إحداث تغيير إيجابي. قد يكون لديهم نوايا صادقة ولكن بعد مرور بعض الوقت سوف يرون أن "النوايا الحسنة" ليست كافية.

وقالت وان عزيزة "هناك بعض القوانين التي يجب تغييرها، منها مكافحه التحرش، ومكافحة العنف المنزلي، وهذه هي الأشياء التي يجب أن نمر من خلالها".

كما قالت أيضا "إن الحكومة ستنظر أيضا في السياسات لمساعدة النساء في أماكن العمل، وخاصه الأمهات، من خلال تحسين مرافق رعاية الأطفال". (مؤسسة طومسون رويترز 29/5/2018)

في نظام الحكم الديمقراطي، سنرى النساء يمثلن قضايا المرأة، والأشخاص الذين لديهم دين أو عرق معين يدفعون القضايا التي تهم تلك المجموعة وما إلى ذلك. وتعطينا الديمقراطية الانطباع بأن كل شخص يدخل السلطة سيكون قادرا على دفع جدول أعمال تلك المجموعة. وكان هذا بعد كل فكر الديمقراطية الأصلية، وتمثيل الجماهير حتى يكون لكل شخص كلمة. ويعتبر هذا نهجا إيجابيا ويمكن لبلدان مثل كندا، في ظل الحكومة الحالية، أن تتباهى بأكثر الوزراء تمثيلا، وربما أفضل اختيار لكل مجموعة في ذلك المجتمع.

والواقع أن كل شخص، على الرغم من خلفيته الشخصية، سيرتبط بالسياسات العامة وبالنظام العام أيضا. عليك أن تقف في صف الحزب وأن تكون بشكل عام متماشيا مع الإطار الرأسمالي والعلماني.

نرى هذا عندما تأتي الأحزاب الإسلامية إلى السلطة، فالحصول على الأصوات بسبب تزايد المشاعر الإسلامية، ولكن في النهاية الاضطرار إلى الالتزام بالإطار العلماني. وقد أصدرت تونس مؤخرا قانونا يسمح للمرأة المسلمة بالزواج من رجل غير مسلم والمساواة في الميراث. وكلا القانونين يتعارضان مع الشريعة، وأُصدرا تحت ضغط العلمانيين في بلد مسلم مع ما يسمى بتحالف الحزب الإسلامي.

وبالتالي، فإنه ينظر إلى أن التغيير لا يأتي من جانب مجلس الوزراء ولكنه يتأثر بالنظام الذي يتم تطبيقه. كما أن الإصلاح العام يعني أن الجميع يجب أن يشعروا بالتغيير وليس فقط مجموعات مختارة.

يعرف الإسلام السياسة بأنها "رعاية شؤون الناس"، والنظام السياسي الغربي ليس هكذا. حتى لو كانت المرأة ستحصل على قوانين عمل أفضل أو كانت هناك قوانين أشد صرامة بشأن العنف والتمييز من جانب هذه النائبة المنتخبة حديثا، فهل يمكننا أن نقول إن الوضع العام للمجتمع سيتحسن؟ الإجابة لا. في حين إن مجموعة واحدة تُعطى الحقوق، فإن المجموعات الأخرى لن تحصل عليها. على سبيل المثال، هل ستتحسن حالة الأطفال أو العمال الأجانب أو الاقتصاد؟؟

ينظر الإسلام إلى المجتمع ككل ولا يدفع بصورة انتقائية لحقوق مجموعة معينة. سيعمل كل عضو منتخب أو معين، في نظام الحكم الإسلامي، وستعمل الخلافة لصالح المجتمع ككل وليس لفئات معينة.

النظام السياسي الإسلامي فريد من نوعه حيث إنه يسمح لجميع الرعايا بالتعبير وإدلاء صوتهم من خلال الالتزام بمبدأ "الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر". السيدة التي استجوبت عمر بن الخطاب رضي الله عنه، لم تكن عضوا منتخبا، ولكنها أثّرت على السياسة عن طريق التشكيك في تحديد المهور من قبل الحاكم. في الواقع فإن كل شخص مسؤول عن التأكد من التقيد والالتزام بالقوانين، لأنها أحكام شرعية ثابتة من الله سبحانه وتعالى.

ومن الواجب أن نسأل، لماذا لا يكون لدى النساء الحقوق التي تدعو إليها عزيزة وما هي الطريقة المثلى لتأمينها؟ أي شخص يرغب في إجراء تغييرات صادقة يحتاج إلى تحقيق إصلاح عدد قليل من القوانين في الإطار العلماني الحالي سيكون مفيدا كمساعدة الرباط للذراع المكسور. إن هذا الحل هو مجرد مستحضرات تجميلية ولن يشفي من الصدمة الحقيقية.

ما نحتاجه في ماليزيا وكل بلادنا الإسلامية هو العودة إلى نظام حكمنا الخاص، الخلافة القائمة على منهاج النبوة وليس رفع آمال الأمة بأن النماذج العلمانية والديمقراطية والرأسمالية ستنقذنا بطريقة ما، لأن هذا هو السبب الفعلي لمشاكلنا.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نادية رحمان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست