الديمقراطية تخدم النخبة الحاكمة فقط على حساب عامة الناس
الديمقراطية تخدم النخبة الحاكمة فقط على حساب عامة الناس

استدعى رئيس وزراء باكستان عمران خان يوم 18 آذار/مارس 2019 رئيس وزراء البنجاب عثمان بوزدار إلى إسلام أباد، وقد وبخه لسماحه بتمرير مشروع قانون يعد بزيادة باهظة في رواتب وامتيازات المشرّعين الإقليميين.

0:00 0:00
Speed:
March 21, 2019

الديمقراطية تخدم النخبة الحاكمة فقط على حساب عامة الناس

الديمقراطية تخدم النخبة الحاكمة فقط على حساب عامة الناس

الخبر:

استدعى رئيس وزراء باكستان عمران خان يوم 18 آذار/مارس 2019 رئيس وزراء البنجاب عثمان بوزدار إلى إسلام أباد، وقد وبخه لسماحه بتمرير مشروع قانون يعد بزيادة باهظة في رواتب وامتيازات المشرّعين الإقليميين.

التعليق:

وافق برلمان البنجاب بالإجماع على مشروع قانون خاص، ينص على تعديل قانون لرفع الرواتب والامتيازات لرئيس الوزراء ورئيس مجلس النواب وأعضاء البرلمان ونائب رئيس مجلس إقليم البنجاب في 13 آذار/مارس 2019. ووفقاً لمشروع قانون التعديل، فقد ارتفع راتب رئيس مجلس النواب من 37,000 روبية إلى 200,000 روبية شهرياً، ونائب رئيس البرلمان من 35,000 روبية إلى 185,000 روبية، مع ارتفاعات مماثلة لأعضاء مجلس الوزراء والمستشارين. ووفقاً لمشروع القانون، فإن زيادة أعضاء برلمان البنجاب تصل إلى 80,000 روبية شهرياً بدلاً من 18,000 روبية. وينص مشروع القانون أيضاً على رفع راتب رئيس وزراء الإقليم من 59,000 روبية إلى 375,000 روبية.

لقد تم إقرار مشروع القانون هذا بينما يتحمل الناس عبئاً ثقيلاً بسبب الزيادة في فواتير الكهرباء والغاز، بالإضافة إلى زيادة التضخم بسبب انخفاض قيمة الروبية بنسبة 30 في المائة في الأشهر القليلة الأولى من فترة حكم حزب إنصاف. وبعد إقرار مشروع القانون هذا من برلمان البنجاب، كان هناك رد فعل شعبي قوي أجبر عمران خان على أن ينأى بنفسه عن هذا القانون، وأعرب عن استيائه من خلال تغريدة في اليوم التالي، حيث قال فيها "أشعر بخيبة أمل كبيرة لقرار برلمان البنجاب رفع رواتب وامتيازات أعضاء البرلمان والوزراء ورئيس وزراء الإقليم، وقد كان ذلك مبرَّرا بمجرد عودة الرخاء إلى باكستان، ولكن ليس الآن، حيث لا تتوفر لدينا موارد كافية لسد حاجات الناس الأساسية، لذلك لا يمكن الدفاع عن هذه الخطوة".

كان عمران وحزبه قد انتقد الأحزاب الحاكمة السابقة لفسادها، وكان يقول إنه لن يقبل أبداً أشخاصاً فاسدين في حزبه. ولكن من أجل الفوز في الانتخابات، رحّب حزب عمران بكل مرشح محتمل يمكنه الفوز في الانتخابات في دائرته الانتخابية، بغض النظر عن سمعته السيئة، وقد تم انتقاده لهذا الدور، ولكنه برر ذلك بقوله في 4 تموز/يوليو 2018 "أنت تخوض الانتخابات للفوز، وأنت لا تخوض الانتخابات لتكون صبيا جيدا... أريد أن أفوز... الطبقة السياسية هنا لا تغير الكثير". وأشارت التقارير إلى أن العديد من القادة السياسيين الفاسدين كانوا في فترة حكمه! فكيف يكون هناك أمل في أي حاكم يحكم بالديمقراطية للقضاء على الفساد؟!

من الواضح أن الديمقراطية لا تنتج إلا طبقة سياسية آخر همها الناس، بغض النظر عن الحزب الذي يتولى السلطة، وبالتالي فإن المشكلة هي في الديمقراطية نفسها، حيث تُمكّن الديمقراطية النخبة الحاكمة من الاستفادة القصوى من المناصب لصالح السياسيين الذين يحصلون عليها، لأنهم يمتلكون السلطة على سن القوانين، ولهذا السبب رأينا دائماً، وما زلنا، أنه فيما يتعلق بالحصول على المزايا والامتيازات، فإن مطامع كل من أحزاب المعارضة والحزب الحاكم واحدة، وعند المصالح يضعون كل الخلافات جانباً. وفي مواجهة الضغط الشعبي القوي، يضطر حزب إنصاف إلى إجراء بعض التغييرات أو قد يؤخر من تنفيذ القانون في الوقت الحالي. ومع ذلك سوف تستمر النخبة الحاكمة الديمقراطية في تأمين مصالحها. ففي الديمقراطية، يخوض السياسيون غمار السياسة فقط لتأمين مصالحهم، كما هو واضح في جميع أنحاء العالم، حيث يعتلي المناصب السياسية أغنى الناس.

يشعر أهل باكستان بخيبة أمل إزاء سلوك أعضاء حزب إنصاف، فهم مثل الحكام السابقين. وعلى الرغم من ادعاء عمران خان وحزبه أنهم سيجعلون باكستان دولة مثل دولة المدينة، لتوفير الرفاهية للناس، إلا أن حملة الدعوة للخلافة قد حذروا الناس قبل وصول حزب إنصاف إلى السلطة، وأكدوا على أنه لن يكون دعاة الديمقراطية قادرين على الوفاء بوعودهم، لأن المزيد من الديمقراطية تعني المزيد من الفساد نفسه، فالديمقراطية ليست نظاما لرعاية شئون الناس بالعدل، بل هو نظام للنخبة الحاكمة ولحاشيتهم، كما تساعد الديمقراطية النخبة الحاكمة على تحقيق مصالحهم لأن لديهم القدرة على التشريع. وحتى يتمكنوا من رفع رواتبهم وأخذ مزيد من الامتيازات وقتما يريدون، وهم يقدّمون للناس الإبر المسكنة من خلال الادّعاءات بأن التغيير سيأتي في يوم من الأيام، وهو اليوم الذي لن يأتي في ظل الديمقراطية!

ليس هناك من شك في أن "نظام التغيير" الذي ادعى خان تبنيه قد تخلى عن الناس أيضاً، كما تخلّت الأنظمة السابقة عن الناس، وما الديمقراطية إلا خدعة يجب على المسلمين الحذر منها. بينما سيحصل المسلمون في باكستان على القيادة المخلصة عندما تقام دولة الخلافة على منهاج النبوة. ففي ظل الخلافة، يعمل الخليفة على ضمان سد احتياجات الناس قبل سد حاجته الخاصة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ». لذلك ورد أن الخلفاء الراشدين اعتادوا أخذ مبلغ لا يكاد يلبي احتياجات أسرهم، ولهذا لم يكن مستوى معيشتهم أعلى من مستوى معيشة عامة الناس، وسنكون قادرين على إعادة ذلك العصر الذهبي مرة أخرى إذا أعدنا الحكم بما أنزل الله سبحانه وتعالى. وقد حان وقت دفن الديمقراطية وإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ

نائب الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست