الديمقراطية والفساد يسيران جنبا إلى جنب وحدها الخلافة ستنهي الفساد (مترجم)
الديمقراطية والفساد يسيران جنبا إلى جنب وحدها الخلافة ستنهي الفساد (مترجم)

الخبر:   اعتُقل رئيس وزراء البنجاب السابق شاهباز شريف يوم الجمعة 5 تشرين الأول/أكتوبر 2018، في مكتبه في لاهور، من قبل مكتب المساءلة الوطني (NAB) فيما يتعلق بقضية مشروع أشيانا إي-إقبال للإسكان بـ14 مليار روبية، حسبما ذكر المكتب في بيان. اتُّهم شاهباز، زعيم المعارضة في الجمعية الوطنية، بالفساد في قضية مخطط الإسكان في أشيانا. وقد ندد زعيم الرابطة الإسلامية الباكستانية نواز شريف باعتقال شقيقه الأصغر قائلا: إنه "ليس مؤسفا فحسب بل سخيف أيضا". وقال نواز إن حكومة تحريك إنصاف (PTI) يجب أن تظل مستعدة لمواجهة نفس نوع المعاملة التي تطرحها على خصومها اليوم، غداً.

0:00 0:00
Speed:
October 22, 2018

الديمقراطية والفساد يسيران جنبا إلى جنب وحدها الخلافة ستنهي الفساد (مترجم)

الديمقراطية والفساد يسيران جنبا إلى جنب

وحدها الخلافة ستنهي الفساد

(مترجم)

الخبر:

اعتُقل رئيس وزراء البنجاب السابق شاهباز شريف يوم الجمعة 5 تشرين الأول/أكتوبر 2018، في مكتبه في لاهور، من قبل مكتب المساءلة الوطني (NAB) فيما يتعلق بقضية مشروع أشيانا إي-إقبال للإسكان بـ14 مليار روبية، حسبما ذكر المكتب في بيان. اتُّهم شاهباز، زعيم المعارضة في الجمعية الوطنية، بالفساد في قضية مخطط الإسكان في أشيانا. وقد ندد زعيم الرابطة الإسلامية الباكستانية نواز شريف باعتقال شقيقه الأصغر قائلا: إنه "ليس مؤسفا فحسب بل سخيف أيضا". وقال نواز إن حكومة تحريك إنصاف (PTI) يجب أن تظل مستعدة لمواجهة نفس نوع المعاملة التي تطرحها على خصومها اليوم، غداً.

التعليق:

نظام "التغيير" الجديد، بقيادة حكومة تحريك إنصاف باكستان، وصل للسلطة في خطاب قوي لمكافحة الفساد. خلال السنوات العديدة الماضية، كان عمران خان، رئيس مجلس إدارة تحريك إنصاف، والآن رئيس وزراء باكستان، يقول لشعب باكستان بأن فساد الحكام هو السبب الرئيسي لجميع المشاكل التي تواجه باكستان. ووعد أنه إذا وصل إلى السلطة فإنه سيعيد كل الأموال التي سُلبت من أموال دافعي الضرائب إلى خزانة الدولة بغض النظر عما إذا كانت داخل أو خارج باكستان. اجتمع عمران خان مع رئيس مكتب المساءلة الوطني في 28 آب/أغسطس، وأكد له أن "الحكومة ملتزمة بتقديم كل الدعم الممكن لتعزيز مكتب المساءلة الوطني وزيادة قدرة المكتب".

هذا ليس النظام الأول في باكستان الذي أعلن عن اتخاذ إجراءات صارمة ضد الفساد وتطهير باكستان من هذا الخطر. حيث تولى برويز مشرف السلطة في تشرين الأول/أكتوبر 1999 بعد انقلاب عسكري ضد رئيس الوزراء نواز شريف بالوعد نفسه وأسس مكتب المساءلة الوطني. ولكن حتى هذا اليوم، لم يتمكن مكتب المساءلة الوطني من القضاء على الفساد في باكستان، والآن وضع نظام "التغيير" كل ثقله على مكتب المساءلة الوطني متوقعاً نتيجة مختلفة من المؤسسة نفسها والنهج الفاشل ذاته.

لكن فساد النخبة الحاكمة ليس ظاهرة فريدة من نوعها بالنسبة لباكستان، فحيثما توجد ديمقراطية، فإن الفساد مترسخ في داخلها. هذا هو السبب في أن الناس في الغرب أيضا لا يثقون بسياسييهم وحكوماتهم. وفقاً لتقرير PEW البحثي المنشور في 14 كانون الأول/ديسمبر 2014، فإن 18٪ فقط من الأمريكيين يقولون إنهم يستطيعون الوثوق بالحكومة في واشنطن.

طالما الديمقراطية باقية، فسيبقى الفساد؛ هذا لأن الديمقراطية تعطي حق التشريع للإنسان. وهذا بطبيعة الحال يجذب الفاسدين والجشعين نحو احتمال الحصول على قوانين تسهل سعيهم لتكديس كميات هائلة من الثروة. ومن خلال التأثير على العملية التشريعية، يسعى الأفراد الطموحون والأثرياء إلى الحصول على إعفاءات ضريبية، وإعانات ومِنَح من الدولة، وحقوق حصرية، وحمايات قانونية، وما شابه ذلك من أجل مصالحهم التجارية. من خلال التشريعات المواتية يسعى الفاسدون إلى تخصيص موارد الدولة بطريقة تميزهم على بقية المجتمع. لهذا السبب نجد أن الغالبية الساحقة من المرشحين الذين يتنافسون في الانتخابات هم من الأفراد الأثرياء الذين ينفقون قدراً هائلاً من الثروة في عملية الانتخابات لأنهم ينظرون إليها على أنها استثمار سيتم استرداده مرات عديدة إذا قاموا بالانتقال إلى البرلمان.

وهكذا، فإن خطاب عمران خان لمكافحة الفساد يركز على الأموال التي يتم سحبها من خزينة الدولة من خلال وسائل "غير قانونية"، لكنه لا يستهدف المصدر الحقيقي للفساد الذي هو الحق في سن القوانين. وهكذا رأينا أن المحكمة العليا في إسلام أباد ألمحت إلى نقض إدانة رئيس الوزراء السابق نواز شريف في مرجع أفينفيلد للفساد لأنها قررت بأنه لم يتم حدوث أمر غير قانوني في تركة نواز شريف لثروة هائلة. وعلاوة على ذلك، فإن السياسيين المحنكين وذوي الخبرة الذين يعرفون النظام في الداخل قد طوروا فهماً متطوراً لكيفية عمل النظام وكيفية جني الأموال منه دون الوصول إلى "عتبة غير قانونية" أو إلى حالة اكتساب الثروة بطريقة غير مشروعة، وكيفية التأكد من الأنشطة غير القانونية يبقى خارج نطاق اختصاص وكالات إنفاذ القانون ومكافحة الفساد.

لذا فإن اعتقالات مكتب المساءلة الوطني الخاصة بزعيم المعارضة أو زعيم البيت أو أي سياسي آخر لن تنهي خطر الفساد. لا يمكن التعامل مع فساد حكام بفعالية إلا في ظل دولة الخلافة. ففي ظل الخلافة لا يستطيع الخليفة إصدار التشريعات والقوانين، فقد حددت الشريعة بالفعل كيف ستقوم الدولة بجمع مواردها وإنفاقها. وهذا يعني أن الأفراد الفاسدين لا يجدون أي جاذبية أو حافز في الوصول إلى السلطة لأن الحكام في الإسلام لا يضعون القوانين، بل ينفذون القوانين التي سبق تقريرها في القرآن والسنة. وثانياً، يفرض الإسلام بأن يتم تحديد ثروة الحاكم قبل توليه للسلطة وعند تركها. وأي زيادة غير طبيعية في ثروة الحاكم تتم مصادرتها وتوضع في بيت المال. لذا فإن الخلافة على منهاج النبوة هي فقط التي ستنهي تهديد الفساد من باكستان والعالم الإسلامي. لذا يجب على المسلمين أن يعملوا بجد من أجل إقامة دولة الإسلام لضمان عيش باكستان بلا فساد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ

نائب الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست