الفاشر امریکہ کے دارفور کو الگ کرنے کے منصوبے کی بھینٹ چڑھ گیا
خبر:
الفاشر میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سلامتی اور انسانی صورتحال کے پیش نظر، تاسیس حکومت کی صدارتی کونسل کے رکن الطاہر حجر اور دارفور کے علاقے کے گورنر الھادی ادریس نے شہر کے باشندوں سے فوری طور پر اسے چھوڑنے اور الفاشر کے شمال مغرب میں واقع قرنی کے علاقے کی طرف جانے کی فوری اپیل کی، جہاں تاسیس اتحاد کی افواج پھیلی ہوئی ہیں، جنہوں نے شہریوں اور ان کی بنیادی خدمات کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔ (اخبار السودان، 2025/8/1)۔
تبصرہ:
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الفاشر شہر کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے مکمل محاصرے کا سامنا ہے اور سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے اور مقامی لوگوں تک امداد کی رسائی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ الجزیرہ نیٹ کی ویب سائٹ پر بتاریخ 2025/7/29 درج ذیل باتیں کہی گئیں: بھوک اور رسد کی عدم دستیابی کے بحران میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے قحط پھیل گیا ہے اور مقامی شہادتوں کے مطابق یہ شہریوں کے خلاف استعمال ہونے والا جنگی ہتھیار بن گیا ہے، جسے مبصرین نے غذائی مواد اور بنیادی اشیاء کی تقریبا مکمل گمشدگی کے پیش نظر ایک سست نسل کشی قرار دیا ہے۔ کارکنوں نے صورتحال کو منظم بھوک مری کی بدترین لہر قرار دیا ہے جو سوڈان نے دہائیوں میں دیکھی ہے، جبکہ زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بین الاقوامی سطح پر غفلت برتی جا رہی ہے۔
الجزیرہ نیٹ سے بات کرتے ہوئے، شمالی دارفور ریاست کے نامزد گورنر حافظ بخیت نے کہا کہ الفاشر شہر کے اندر زندگی کی صورتحال تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے، اس حد تک کہ بعض باشندے جانوروں کے چارے پر گزارا کر رہے ہیں جسے (الامباز) کہا جاتا ہے، جو اس تباہی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی قوتوں اور مزاحمتی کمیٹیوں کے ایک مشترکہ بیان میں الفاشر کے وحشیانہ محاصرے کی مذمت کی گئی اور جو کچھ ہو رہا ہے اسے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔
یہ بات معلوم ہے کہ الطاہر حجر اور الھادی ادریس امریکہ کے ایجنڈے پر چلتے ہیں، اور الفاشر کو باشندوں سے خالی کرانا ریپڈ سپورٹ فورسز کے مفاد میں ہے تاکہ ان کے لیے اس پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے اور شہریوں کی تکالیف کے حوالے سے ان پر کوئی شرمندگی نہ رہے۔
پچھلے سوموار کی رات پورٹ سوڈان میں ایک پریس کانفرنس میں دارفور کے علاقے کے گورنر منی آرکو مناوی نے الفاشر کے بحران سے نمٹنے کے لیے سوڈانی حکومت کے سرکاری رویے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ الفاشر میں جاری بحران سے نمٹنے میں سرکاری اداروں اور متعدد تنظیموں کا رویہ واضح طور پر سست ہے، انہوں نے زور دیا کہ یہ سستی ریپڈ سپورٹ فورسز سے دارالحکومت خرطوم اور الجزیرہ کی بازیابی کے بعد آئی ہے۔ مناوی نے ریپڈ سپورٹ فورسز اور سول ڈیموکریٹک فورسز الائنس آف ریولوشن (صمود) کے ساتھ رابطے میں کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس کے علاوہ مناوی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر محمد بشیر ابو نمو نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فیس بک پیج پر "الفاشر کے لیے آخری چیخ قبل از زوال" کے عنوان سے لکھا۔۔۔ اور اسی وقت ایک مکمل حکومت اپنی مسلح اور مشترکہ افواج، اس سے منسلک بٹالین اور متحرک افراد کے ساتھ مل کر الفاشر کے لوگوں کو بچانے کے لیے فضائی امداد کی فراہمی کا انتظام نہیں کر سکتی اور کردفان محور میں جمع افواج کے ایک حصے کو منتقل کرنے میں بھی مہینوں سے ناکام ہے۔۔۔
مناوی اور ابو نمو کے یہ بیانات خطرے کا احساس ہیں کیونکہ الفاشر کا سقوط ان کے سیاسی خاتمے کا مطلب ہے، کیونکہ الفاشر کے سقوط کے ساتھ ہی پورا دارفور ریپڈ سپورٹ فورسز کے ہاتھوں میں چلا جائے گا، اور اس طرح مناوی، جبریل اور دیگر دارفوری تحریکیں اپنا سیاسی اثر و رسوخ کھو دیں گی، اور برطانیہ کے ایجنڈے پر چلنے والے شہری اور مسلح تحریکیں ایک ناگفتہ بہ صورتحال میں ہوں گے اور امریکہ کے ایجنڈے پر چلنے والے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے رہنما اور ان سے منسلک تحریکیں سوڈان میں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لیں گے۔
یہ واقعی افسوسناک ہے کہ الفاشر اور دیگر علاقوں میں لوگ امریکہ کے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھوک یا گولیوں سے مر رہے ہیں جو عارضی اقتدار اور بوسیدہ کرسیوں کے لیے بعض فوجی اور سویلین بیٹوں کی مدد سے سوڈان کو تقسیم کرنے کے خواہاں ہیں۔ سوڈان کے مخلص لوگوں پر لازم ہے کہ وہ حزب التحریر کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ سوڈان کو متحد کیا جا سکے بلکہ تمام مسلمانوں کے ممالک کو نبوت کے طریقے پر دوسری خلافت راشدہ میں متحد کیا جا سکے جو امریکہ اور دیگر نوآبادیاتی کفار کا ہمارے ملک اور ہمارے مقدرات میں مداخلت کا ہاتھ کاٹ دے گی۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ابراہیم عثمان (ابو خلیل)
حزب التحریر ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان