الفساد الإداري نتاج طبيعي لعقيدة علمانية ليبرالية
الفساد الإداري نتاج طبيعي لعقيدة علمانية ليبرالية

الخبر:   الطامحان للرئاسة رايلا أودينجا من الحركة الديمقراطية البرتقالية وويليام روتو من التحالف الديمقراطي المتحد يجوبان البلاد في الحملات الانتخابية لعام 2022 بوعود من كليهما للناخبين بالقضاء على الفساد! فقد قال أودينجا مخاطباً 500 مندوب في توركانا: "إنّ المشكلة الأكبر التي تؤثر على كينيا هي الفساد، لقد اختلس الناس الأموال العامة، عندما وصلوا إلى الحكومة كانوا أكثر نحافة، لكنهم الآن سمينون مثل القراد". في العديد من التجمعات، أكدّ روتو أيضاً أنه بمجرد انتخاب حكومته ستصلح الفساد المتجذر وترعى كبار السن في كينيا.

0:00 0:00
Speed:
January 03, 2022

الفساد الإداري نتاج طبيعي لعقيدة علمانية ليبرالية

الفساد الإداري نتاج طبيعي لعقيدة علمانية ليبرالية

(مترجم)

الخبر:

الطامحان للرئاسة رايلا أودينجا من الحركة الديمقراطية البرتقالية وويليام روتو من التحالف الديمقراطي المتحد يجوبان البلاد في الحملات الانتخابية لعام 2022 بوعود من كليهما للناخبين بالقضاء على الفساد! فقد قال أودينجا مخاطباً 500 مندوب في توركانا: "إنّ المشكلة الأكبر التي تؤثر على كينيا هي الفساد، لقد اختلس الناس الأموال العامة، عندما وصلوا إلى الحكومة كانوا أكثر نحافة، لكنهم الآن سمينون مثل القراد". في العديد من التجمعات، أكدّ روتو أيضاً أنه بمجرد انتخاب حكومته ستصلح الفساد المتجذر وترعى كبار السن في كينيا.

التعليق:

تستعد كينيا كدولة لدخول عام 2022 والجوّ العام مسيس للغاية. ينخرط الناس في نقاشات سياسية في جميع أطياف المجتمع والتي تحولت إلى حدّ ما إلى قبيحة وفوضوية في ما يسمى بيت أغسطس (مبنى البرلمان الكيني) مع تبادل اللكمات بين أعضاء المجلس التشريعي في مناقشة تعديل مشروع قانون الأحزاب السياسية. إنّ موضوع جميع الطامحين السياسيين هو القضاء على الفساد وبناء اقتصاد قوي.

في هذه السنة الانتخابية بالذات، كان الانقسام السياسي بين ما يسمى "السلالة" ضد "الأمة المحتالة". وقد صيغت هذه الشعارات لتحويل الأنظار عن القضية الجوهرية التي أدّت بالناس اليوم إلى البؤس والفقر. إن كل فرد طموح يناصر القضاء على الفساد في جميع مجالات الحكم، والمفارقة هي أنه قد مضى أكثر من 50 عاماً على الاستقلال وظروف الناس في جميع جوانب الحياة تزداد من سيئ إلى أسوأ.

تعتبر الاتهامات والاتهامات المضادة داخل الفساد حجر عثرة أمام التحرّر الاقتصادي والازدهار. من المهم فهم وجهة النظر القانونية حول ما يشكل فساداً، على سبيل المثال لا الحصر؛  أ- جريمة بموجب أي من أحكام الأقسام 39 إلى 44 و46 و47، ب- الرشوة، ج- الاحتيال، د- الاختلاس أو اختلاس الأموال العامة، هـ- إساءة استخدام المنصب.

لقد وضعت كينيا إطاراً ومؤسسات قانونية لمكافحة الفساد، فقط لتكون شكلاً من أشكال الفساد في حدّ ذاتها. هذه الجهود القانونية والمؤسسية جعلت الأمور أسوأ وأكثر تعقيداً. علاوةً على ذلك، أصبحت جميع أشكال الفساد بموجب القانون أكثر قبولاً من المجتمع. هذا الوضع الطبيعي الجديد يحتاج إلى تمحيص وتحليل عميقين لأنه أصبح ظاهرة عالمية.

إن فهم ما يشكل فساداً في ظل النظام الحالي غامض وغير واضح لأن المناطق الرمادية في الجوانب القانونية تجعل من الصعب مقاضاة الأفراد. هذا الافتقار إلى الوضوح يجعل الفرد أكثر تصميماً على ارتكاب الجريمة. كما شكلت النخبة السياسية عصابة مافيا فوق القانون ترتكب مثل هذه الجرائم دون عقاب. هذه الثغرات الموجودة في الزوايا السياسية والتشريعية تجعل النظام الحالي غير قادر على رعاية شؤون الناس.

يخلو التشريع من مفهوم الخير والشر، لأنّ هذا يبني الجانب الروحي كأساس لقانون الأرض. هذا الغياب الروحي طبيعي لأنه قائم على العقيدة العلمانية التي تنكر أن خالق الكون والإنسان والحياة هو المشرّع الوحيد. بالإضافة إلى ذلك، فإن التفاوت البشري يجعل من المستحيل وجود تعريف عالمي لمعنى الفساد، وبالتالي إفساح المجال للانحلال الأخلاقي.

لذا بما أن القانون يربط الفساد بشكل مباشر بالفرد ويسمح للمجتمع ككل أن يلعب دور الضحية، ويخلق الفردية بقدر ما هو الجانب الاقتصادي أيضاً، ويلزم جدارة الإنسان فيما يتعلق بإنتاج السلع والخدمات التي ينتجها تحت القناع الشرير لحرية الملكية والحرية الشخصية، أصبح الإنسان شريراً بدون وعي، ينظر إلى المقاعد السياسية على أنها وسيلة لتحقيق غاية بدلاً من كونها مسؤولية كبيرة.

إنّ الإسلام، نظام ينبثق من عقيدة روحية وسياسية على حد سواء، يرى الفساد ككل وليس منفصلاً. ما تراه الرأسمالية على أنه فساد، في الإسلام هو نتيجة الفساد. في جوهره، يزدهر الفساد من نظام شرير يبني بنية لدعم وتعزيز الشر بجميع أشكاله. قال الله سبحانه وتعالى في سورة المائدة: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾.

مع هذا التعريف الواضح لما يعنيه الفساد في الإسلام على أنه تطبيق للقوانين والأنظمة التي تنبع من غير الله سبحانه وتعالى، فإن العلمانية وكل المذاهب هي السبب الجذري للفساد. علاوة على ذلك، فإن الإسلام كنظام نشأ من رب الكون والإنسان والحياة ويتفق مع الطبيعة الفطرية للإنسان وبالتالي فهو عالمي ويتجاوز الزمان والمكان.

يا أيها المثقفون: هذا الشر لا يقهره إلا الإسلام، وهو نظام لا يطبق إلاّ في ظل دولة الخلافة. يا من يكرهون الشر بجميع أشكاله، اعملوا على استئناف أسلوب الحياة الإسلامي باعتباره المحرّر الوحيد من أغلال الشر.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي عمر البيتي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست