الفشل الذريع للمؤسّسات في ظلّ الحكومة الهندية، هو تذكير بالحاجة إلى الخلافة
الفشل الذريع للمؤسّسات في ظلّ الحكومة الهندية، هو تذكير بالحاجة إلى الخلافة

الخبر:   بحسب ما ذكرت قناة الجزيرة، في 3 آذار/مارس 2024، فقد "اضّطر وكيل حسن إلى تسلّق جدار جاره الذي يبلغ ارتفاعه 1.8 متر (ستة أقدام) للدخول إلى قطعة الأرض المليئة بالرّكام حيث كان منزله قائماً قبل يوم واحد فقط. وكانت الشرطة قد قامت بتحصين الجزء الأمامي من الأرض التي هدمت فيها السلطات يوم الأربعاء منزله المكون من طابق واحد مكون من غرفتي نوم والذي كانت عائلته تعيش فيه لأكثر من عقد من الزمان، في خاجوري خاس، وهو حيٌّ مكتظٌ بالسكان في عاصمة الهند نيودلهي". (الجزيرة. كوم)

0:00 0:00
Speed:
March 24, 2024

الفشل الذريع للمؤسّسات في ظلّ الحكومة الهندية، هو تذكير بالحاجة إلى الخلافة

الفشل الذريع للمؤسّسات في ظلّ الحكومة الهندية، هو تذكير بالحاجة إلى الخلافة

(مترجم)

الخبر:

بحسب ما ذكرت قناة الجزيرة، في 3 آذار/مارس 2024، فقد "اضّطر وكيل حسن إلى تسلّق جدار جاره الذي يبلغ ارتفاعه 1.8 متر (ستة أقدام) للدخول إلى قطعة الأرض المليئة بالرّكام حيث كان منزله قائماً قبل يوم واحد فقط. وكانت الشرطة قد قامت بتحصين الجزء الأمامي من الأرض التي هدمت فيها السلطات يوم الأربعاء منزله المكون من طابق واحد مكون من غرفتي نوم والذي كانت عائلته تعيش فيه لأكثر من عقد من الزمان، في خاجوري خاس، وهو حيٌّ مكتظٌ بالسكان في عاصمة الهند نيودلهي". (الجزيرة. كوم)

التعليق:

لم يكن هذا المنزل سوى منزل وكيل حسن الذي أصبح بطلاً قومياً، حيث قام مع آخرين بإنقاذ 41 عاملاً في نفق سيلكيارا في أوتاراخاند، كانوا محاصرين لمدة سبعة عشر يوماً منذ 12 تشرين الثاني/نوفمبر 2023. وقد فشلت جميع عمليات الإنقاذ الحكومية، بمشاركة العديد من الوكالات الحكومية والخبراء الأجانب والمعدات الحديثة، قبل ذلك، والمحاولة البطولية لوكيل وفريقه. وكان فريق وكيل الذي يُطلق عليه "عمال المناجم في حفرة الجرذان" هو الملاذ الأخير. حبس سكان الهند البالغ عددهم 1.4 مليار نسمة أنفاسهم جميعا بينما كان عمال المناجم يحفرون بأيديهم بشجاعة لمدة 26 ساعة لتحرير الرجال المدفونين في النفق. وبدلاً من التكريم والجوائز التي تقدمها الدولة، تمّ هدم منزل وكيل واعتقاله من قبل الشرطة!

تقع العديد من المؤسسات الحكومية في منطقة العاصمة تحت السيطرة المباشرة لحكومة حزب بهاراتيا جاناتا الاتحادي، بما في ذلك هيئة تنمية دلهي التي هدمت منزل وكيل. إنّ التطبيق الانتقائي لقوانين الهدم التي تمارسها هيئة تنمية دلهي هو نتيجة التعصب والتمييز الذي يمارسه حزب بهاراتيا جاناتا في التعامل مع شؤون الناس في الدولة. ففي 30 كانون الثاني/يناير 2024، هدمت هيئة تنمية دلهي مسجد أخونجي ومدرسة بحر العلوم البالغ عمرها 600 عام. ويزعم السكان المحليون أن المسجد تم بناؤه في عهد السلطانة راضية، ما يجعل عمر البناء ما يقرب من 600-700 عام. وتجري عمليات هدم مستهدفة متكرّرة في العديد من الولايات التي يحكمها حزب بهاراتيا جاناتا. مثل معظم الأنشطة المناهضة للمسلمين التي يرتكبها اليمين، يفعل حزب بهاراتيا جاناتا ذلك من أجل استقطاب الأصوات، مع اقتراب موعد الانتخابات في نيسان/أبريل 2024.

فعلى سكان الهند ذوي العقول المنصفة أن يفكروا في الإسلام. فالشريعة الإسلامية توجب المعاملة الكريمة للرعايا الذميين غير المسلمين في الدولة الإسلامية. ويتمتع أهلّ الذمة بالحقوق نفسها التي يتمتع بها المسلمون، من حيث إدارة شؤونهم وتأمين معيشتهم. عن أبي موسى الأشعري أنّ رسول الله ﷺ قال: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا العاني» رواه البخاري عن طريق أبو موسى، وقال أبو عبيدة: "وكذلك أهل الذمة يجاهد من دونهم، ويفتك عناتهم، فإذا استنقذوا رجعوا إلى ذمتهم وعهدهم أحراراً، وفي ذلك أحاديث". مباشرةً بعد أن فتح سيف الله خالد بن الوليد رضي الله عنه الحيرة في جنوب العراق، كتب إلى الخليفة أبي بكر رضي الله عنه يخبره كيف نفذ الجزية ولكن قد استثنى من ذلك غير المسلمين الفقراء والشيوخ والمعاقين، قائلا: "طُرِحَتْ جزيتُه وعيلَ من بيت مال المسلمين وعياله".

إن غياب الإسلام جعل البشرية تفقد مرجعية الحقّ والباطل. وبينما كان المسلمون يحكمون الهند، سيطرت الثقافة الإسلامية على مدى قرون. حتى غير المسلمين كانوا مدفوعين إلى حدّ كبير بثقافة ذلك الوقت. ولكن، منذ هدم الخلافة، وظهور الثقافة العلمانية، تمّ تعليق المرجعية التي حددها الله سبحانه وتعالى. العلمانية تستبدل البرّ المنفعة المادية والنفعية بالبر. إنّ الإنسانية ككل تتأرجح الآن في حالة تشبه النشوة؛ مثل رجل مشوش لا يدرك ما هو أعلى وما هو أسفل؛ ما هو شمال وما هو يمين. إن عودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة في بلاد المسلمين سوف تظهر المعيار الصحيح للمعاملة الكريمة للرعايا، بإذن الله. قال الله تعالى ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد أنصار

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست