الغرب أنفسهم لا يطبقون الديمقراطية، فلماذا على المسلمين تطبيقها؟ (مترجم)
الغرب أنفسهم لا يطبقون الديمقراطية، فلماذا على المسلمين تطبيقها؟ (مترجم)

الخبر: يقول تقرير المخابرات المركزية السرية أن روسيا تحاول مساعدة ترامب في الفوز بالبيت الأبيض. لخصت وكالة المخابرات المركزية في تقييم سري أن روسيا تدخلت في انتخابات 2016 لمساعدة دونالد ترامب في الفوز بالرئاسة، بدلاً من مجرد إضعاف الثقة في النظام الانتخابي الأمريكي، وفقاً لمسؤولين مطّلعين على المسألة.

0:00 0:00
Speed:
December 15, 2016

الغرب أنفسهم لا يطبقون الديمقراطية، فلماذا على المسلمين تطبيقها؟ (مترجم)

الغرب أنفسهم لا يطبقون الديمقراطية، فلماذا على المسلمين تطبيقها؟

(مترجم)

الخبر:

يقول تقرير المخابرات المركزية السرية أن روسيا تحاول مساعدة ترامب في الفوز بالبيت الأبيض.

لخصت وكالة المخابرات المركزية في تقييم سري أن روسيا تدخلت في انتخابات 2016 لمساعدة دونالد ترامب في الفوز بالرئاسة، بدلاً من مجرد إضعاف الثقة في النظام الانتخابي الأمريكي، وفقاً لمسؤولين مطّلعين على المسألة.

وقد حددت وكالات الاستخبارات هويات الأشخاص المرتبطين بالحكومة الروسية والذين قدموا لويكيليكس آلاف الرسائل البريدية المخترقة من اللجنة الوطنية الديمقراطية وغيرها، بما في ذلك رئيس حملة هيلاري كلينتون، وفقاً لمسؤولين أمريكيين. وقد وصف هؤلاء المسؤولون الأفراد بأنهم نشطاء معروفون لدى أجهزة الاستخبارات وبأنهم جزء من عملية روسية واسعة لتعزيز ترامب وضرب فرص كلينتون.

وقال مسؤول أمريكي كبير والذي اطّلع على عرض الاستخبارات السرية الذي قدم لمجلس الشيوخ الأمريكي "إن تقييم أجهزة الاستخبارات بأن هدف روسيا كان تفضيل مرشح على الآخر، للمساعدة على انتخاب ترامب" وقال: "هذا هو الرأي المجمع عليه" (واشنطن بوست).

التعليق:

إن الادعاءات حول التدخل الروسي ليس سوى إضافة جديدة للقائمة الطويلة عن عيوب العملية الانتخابية الأمريكية. فخلال انتخابات الحزب الجمهوري التمهيدية، كانت هناك اتهامات بالتلاعب الإعلامي، مع ترامب، الخارج عن السياسة، حيث تلقى تغطية حرة لا مثيل لها على شاشة التلفزيون الأمريكي مما دفعه للفوز بالترشح لرئاسة الحزب. وفي الانتخابات العامة، فقد تقرر فوز ترامب بالمجمع الانتخابي على الرغم من حصول كلينتون على مليوني صوت أكثر منه. إن هذه الشكاوي فقط من هذا العام. إن أكثر القضايا التي يطول أمدها هي تلك المتعلقة بتأثير المال على السياسة، وهيمنة الحزبين الجمهوري والديمقراطي على نظام الانتخابات، وسيطرة الشركات على وسائل الإعلام وتأثير الشركات النخبة على السياسة الأمريكية عموماً، والتي حذر منها الرئيس أيزنهاور وسماها "المركب الصناعي-العسكري" في خطابه التلفزيوني بعد انتهاء ولايته منذ أكثر من خمسين عاماً. (وقد قيل إنه سماها في مسودته الخطابية باسم المركب الكونغرس الصناعي العسكري).

لم ينعم الغرب بالراحة أبداً مع الانتخابات. في الواقع، لقد كانت الديمقراطية نفسها مقبولة كفكرة سياسية من قبل الدول الغربية خلال الـ 150 سنة الماضية أو نحو ذلك. الديمقراطية في الواقع، هي فكرة إلحادية قديمة أحياها المادّيون الأوروبيون وشاعت في القرن التاسع عشر من قبل الحركات الاشتراكية التكتلية. لقد كانت تحت تهديد من الثورات التي بدأتها الحكومات الغربية لفتح عملياتها السياسية، مع "حق الانتخاب العالمي" لم تعتمد بشكل كامل في معظم الدول الغربية حتى فترة متقدمة من القرن العشرين.

قبل اعتماد الديمقراطية، اعتبر الغرب الفكرة الرومانية "حكومة مختلطة" كأفضل شكل من أشكال الحكم، والتي تجمع بين أنظمة ثلاثة ناقصة وهي الحكم الملكي والأرستقراطي والديمقراطي، حيث تغطي كل واحدة عيوب الأخرى. كان ينظر إلى الديمقراطية لوحدها على أنها تحمل مخاطر الفوضى "حكم الغوغاء". كما كانت الأرستقراطية تحمل مخاطر حكم الأقلية وكذلك النظام الملكي يحمل مخاطر الدكتاتورية. وحتى اليوم، يتم تعليم طلاب العلوم السياسية الغربية مزايا وعيوب الأنظمة الثلاثة الحاكمة، حيث يملؤهم بالشكوك بشكل طبيعي فيما يتعلق بكل واحدة. المعلقون الغربيون، رداً على ترامب وغيره، ينتقدون مخاطر "الشعبوية" أي محاولة استجابة السياسيين لمطالب الجماهير، الشيء الذي يتوقعه المرء أن يكون الهدف من الديمقراطية. ولكن الذي يفسر هذا هو أن الغرب لا يطبق الديمقراطية بل "التمثيلية الديمقراطية".

تظهر أعمال الرئيس المنتخب ترامب والتي تلت الانتخابات أن المؤسسة السياسية الأمريكية في الواقع قد فازت حتى الآن، حيث إنه من أكثر المرشحين الذين يتبعون النظرية الشعبية. وتعكس تشكيلة مجلس الوزراء الرئيسي مطالب المؤسسة التي تختلف اختلافاً كبيراً عن خطاب الحملة الخاصة بترامب. وأول تعيينين قام بهما ترامب، نائبه ورئيس أركانه هما من الشخصيات الأساسية الثابتة للحزب الجمهوري.

وبأخذ هذا المثال الحالي على الأعمال غير الديمقراطية، يتم انتخاب الرئيس الأمريكي فعلياً من قبل المجمع الانتخابي وليس من قبل الشعب مباشرة. هذا هو سبب فوز البعض بالرئاسة في حين إنهم خسروا في جمع أصوات الناخبين. ألكسندر هاملتون، باعتباره واحداً من "الآباء المؤسسين" لأمريكا حاول أن يشرح: "موهبة الخداع البسيط والقليل من الفنون الشعبية قد تكفي وحدها لرفع رجل إلى مرتبة الشرف الأولى في دولة واحدة. ولكن الأمر يتطلب مواهب أخرى، ونوعاً مختلفاً من الخصائص والميّزات، ليحظى بالتقدير والثقة من الاتحاد كله، أو أن يُعتبر جزءاً منه، كما يكون من الضروري أن يكون المرشح الفائز لمنصب رئيس الولايات المتحدة".

في الواقع، يحافظ الغرب على العديد من الإجراءات الوقائية - السياسية والقانونية والمؤسسية والثقافية - ضد الحكم الديمقراطي في الوطن حتى في الوقت الذي تتهم الحكومات غير الغربية بأنها غير ديمقراطية بما فيه الكفاية. لقد أجبروا المسلمين بوجه خاص من خلال الدعاية الغربية الحاقدة على الابتعاد عن نظامهم الإلهي، ألا وهو الخلافة والبحث اليائس في النصوص الإسلامية عما يسمى الشرعية والديمقراطية. وتم عرض الأحكام الشرعية مثل الشورى أو انتخاب الخليفة كدليل على الديمقراطية بالرغم من أنها لا تمت للديمقراطية بصلة. إذ إن الديمقراطية تجعل للإنسان أن يعيش ويتصرف وفقاً لقانونه الخاص، بينما يدعو الإسلام إلى أن يعيش الإنسان وفقاً لأوامر خالقه. لقد حان الوقت لأن يضع المسلمون حداً لذلك.

كل شخص عاقل يعلم أن الحكومة لا يمكن أن تسير وفقاً لرغبات وأهواء الجماهير. المشكلة، بالطبع لدى غير المسلمين، أن رفض حكم الأغلبية يؤدي إلى قبول حكم الأقلية أو حكم الفرد. ولكن المسلمين لا يواجهون هذه المعضلة. لأنه في ديننا، دين الإسلام توجد هنالك فرصة لتحقيق نظام حكم يرفعنا إلى مرتبة أعلى من القوانين الوضعية جميعها. إن إقامة الخلافة الثانية على منهاج النبوة تنقذ الإنسان من عبادة المخلوقات وتحرره لمتابعة الطريق المستقيم الصحيح، ليتوجه لعبادة الخالق وحده. وبإذن الله فإن الخلافة قاب قوسين أو أدنى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست