الغرب ووكلاؤه يؤججون النزاعات في جمهورية الكونغو الديمقراطية على مواردها الهائلة
الغرب ووكلاؤه يؤججون النزاعات في جمهورية الكونغو الديمقراطية على مواردها الهائلة

الخبر:   أفادت صحيفة "ديلي مونيتور" الأوغندية يوم الثلاثاء الموافق 24 كانون الأول/ديسمبر 2019 أن رئيس الوزراء الكونغولي السابق أدولف موزيتو دعا الحكومة إلى شن حرب على رواندا المجاورة كوسيلة لإنهاء عنف المليشيات. وقال رئيس الوزراء السابق فى مؤتمر صحفى فى كينشاسا "يتعين علينا شن حرب على رواندا لاستعادة السلام فى بلادنا. تؤثر رواندا على سياساتنا. وكذلك الحال بالنسبة لأوغندا". وقال "لا يمكننا صنع السلام إلا من خلال تهديد رواندا واحتلال أراضيها إذا أمكن ذلك بضمها". ونأى اثنان من زعماء لاموكا، المعارضة الرئيسية في البلاد، مويس كاتومبي وجان بيير بيمبا، بنفسيهما عن تصريحات موزيتو، قائلين إنهما "فوجئا" بتعليقاته.

0:00 0:00
Speed:
January 06, 2020

الغرب ووكلاؤه يؤججون النزاعات في جمهورية الكونغو الديمقراطية على مواردها الهائلة

الغرب ووكلاؤه يؤججون النزاعات في جمهورية الكونغو الديمقراطية على مواردها الهائلة

(مترجم)

الخبر:

أفادت صحيفة "ديلي مونيتور" الأوغندية يوم الثلاثاء الموافق 24 كانون الأول/ديسمبر 2019 أن رئيس الوزراء الكونغولي السابق أدولف موزيتو دعا الحكومة إلى شن حرب على رواندا المجاورة كوسيلة لإنهاء عنف المليشيات. وقال رئيس الوزراء السابق فى مؤتمر صحفى فى كينشاسا "يتعين علينا شن حرب على رواندا لاستعادة السلام فى بلادنا. تؤثر رواندا على سياساتنا. وكذلك الحال بالنسبة لأوغندا". وقال "لا يمكننا صنع السلام إلا من خلال تهديد رواندا واحتلال أراضيها إذا أمكن ذلك بضمها". ونأى اثنان من زعماء لاموكا، المعارضة الرئيسية في البلاد، مويس كاتومبي وجان بيير بيمبا، بنفسيهما عن تصريحات موزيتو، قائلين إنهما "فوجئا" بتعليقاته.

التعليق:

تُظهر تصريحات ألدوف موزيتو كيف يغرق السياسيون بتهديد بلدانهم بالنزاعات والحروب أثناء هرعهم بحثاً عن سلامتهم الخاصة على يد أسيادهم الاستعماريين الغربيين تاركين وراءهم الملايين من الناس في كمد. ومع ذلك، تشير تعليقاته إلى كيفية تأجيج الصراع في جمهورية الكونغو الديمقراطية من أطراف خارجية إقليمية ودولية. كان هذا بعد الإطاحة بنظام الهوتو في رواندا، حيث يُعتقد أن أكثر من مليونين من الهوتو فروا إلى جمهورية الكونغو الديمقراطية خوفاً من أعمال انتقامية ضدهم من الحكومة الجديدة التي يسيطر عليها التوتسي والذين كان من بينهم العديد من رجال المليشيات المسؤولين عن الإبادة الجماعية. في أواخر التسعينات من القرن الماضي، اتهمت رواندا رئيس جمهورية الكونغو الديمقراطية السابق كابيلا بعدم التحرك ضد متمردي الهوتو وحاولت الإطاحة به، ما أدى إلى نشوب صراع دام خمس سنوات. من عام 1998 إلى عام 2003، قاتلت القوات الحكومية المدعومة من أنغولا وناميبيا وزيمبابوي المتمردين المدعومين من رواندا وأوغندا فيما يعرف باسم حرب الكونغو الثانية التي أسفرت عن مقتل أكثر من ثلاثة ملايين. على الرغم من اتفاق السلام في عام 2002 وتشكيل حكومة انتقالية في عام 2003، استمرت أعمال العنف التي ترتكبها الجماعات المسلحة ضد المدنيين في المنطقة الشرقية.

في أوائل عام 2019، قررت خمس دول من البحيرات الكبرى وهي جمهورية الكونغو الديمقراطية وبوروندي ورواندا وتنزانيا وأوغندا دمج عملياتها العسكرية في المنطقة. حقق الجيش الكونغولي في الأشهر الأخيرة العديد من الانتصارات على المليشيا المعروفة باسم المجلس الوطني لتجديد الديمقراطية، وهو حزب سياسي أنشأه اللاجئون الروانديون في الكونغو بعد الإبادة الجماعية التي قام بها الهوتو في عام 1994 على يد التوتسي. رحبت الحكومة الرواندية التي يسيطر عليها التوتسي بالعمليات المناهضة للمليشيات في جمهورية الكونغو الديمقراطية، قائلة إن أراضيها كانت مستهدفة من متمردي الهوتو.

كان نظام جمهورية الكونغو الديمقراطية في قلب حربين إقليميتين مريرتين بين عامي 1997 و2003، شملت جارتيها رواندا وأوغندا، حيث اتهم كينشاسا رواندا وأوغندا بمحاولة زعزعة استقرار جمهورية الكونغو الديمقراطية بينما قال جيرانها إن المليشيات المعارضة لحكومتيها قد استخدمت جمهورية الكونغو الديمقراطية كقاعدة خلفية للهجمات. منذ ربع قرن، ابتلي الجزء الشرقي من جمهورية الكونغو الديمقراطية بانعدام الأمن بسبب وجود العشرات من الجماعات المسلحة المحلية والأجنبية. واحدة من أبرز الجماعات المتمردة التي ظهرت في أعقاب الحرب كانت تعرف باسم حركة 23 آذار/مارس (M23)، والتي تتكون في المقام الأول من عرقية التوتسي الذين كانوا بلا شك يدعمون الحكومة الرواندية.

لا شك في أن جمهورية الكونغو الديمقراطية ثرية للغاية - وكبيرة للغاية وذات حجم مماثل لأوروبا الغربية وغنية بالألماس والذهب والنحاس والكوبالت والزنك. الدولة التي تعد الأكبر في أفريقيا من حيث مساحة الأراضي لديها أيضاً إمدادات من الكولتان، والذي يستخدم في الهواتف المحمولة وغيرها من الأدوات الإلكترونية، والكاسيتريت، المستخدم في تغليف المواد الغذائية. لذلك، فإن مواردها الهائلة جعلت لدى اللاعبين الأجانب من الولايات المتحدة وأوروبا مصالح خاصة في الكونغو. إن الاستراتيجيات المعتمدة حديثاً والتي تسعى إلى تحقيق الاستقرار في جمهورية الكونغو الديمقراطية، تبنتها مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة الذي تدعمه الولايات المتحدة بالتوازي مع محاولة تشيسيكيدي للتوصل إلى اتفاق أمني جديد مع الدول المجاورة، ما يزيد من المخاطر على ثروات الدول.من الواضح أن الجهات الدولية الفاعلة ساهمت في نزاعات البلدان التي ترتكز أساساً على الموارد الهائلة. حرضت الولايات المتحدة على احتلال جمهورية الكونغو الديمقراطية من وكيليها رواندا وأوغندا في أواخر التسعينات من القرن الماضي، وأدت المذابح التي أعقبت مقتل 6.9 مليون كونغولي إلى تدمير البلاد. كان هدف واشنطن هو نهب ثروات الكونغو المعدنية الضخمة من خلال قوات رواندا وأوغندا التي دعمت قوات المتمردين لوضع الكونغو تحت نفوذها. من ناحية أخرى، تعمل كل من فرنسا وبلجيكا وبريطانيا بجد للحصول على عملائها السياسيين وحتى دعم بعض المتمردين ضد طموحات أمريكا.

لذلك فإن صراع المصالح الاقتصادية بين القوى الأجنبية قد حول الكونغو إلى بلد تهيمن عليه الحرب. لا شك أن الوضع في جمهورية الكونغو الديمقراطية حتى بعد تنحي جوزيف كابيلا وتولي فيليكس تشيسيكيدي الرئاسة، بعد إعلان فوزه في 30 كانون الأول/ديسمبر 2018، لا يزال متوتراً. إن الإدارة الحالية لفيليكس تشيسيكيدي ليس لديها أي فرق كبير عن إدارة سلفها جوزيف كابيلا من حيث بيع ثروات البلاد إلى كبار أصحاب المليارات الرأسماليين، مما يترك العديد من الكونغوليين يعانون من الفقر المدقع.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شعبان معلم

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست