الغرب يحاول تمكين المرأة المسلمة لتكون حارسة لهيمنته في مينداناو
الغرب يحاول تمكين المرأة المسلمة لتكون حارسة لهيمنته في مينداناو

الخبر:   في 16 تشرين الثاني/نوفمبر، أفادت صحيفة "مانيلا تايمز" أن السفير النرويجي لدى الفلبين بيورن ستوراست جانسن وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي في الفلبين أطلقوا شراكة جديدة لدعم بناء السلام وقدرات الوساطة في النزاعات لدى النساء والمشاركة النشطة للشباب في منطقة بانجسامورو. وبموجب هذه الاتفاقية، ستعمل النرويج وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي في الفلبين مع حكومة منطقة بانجسامورو ذاتية الحكم لتنشيط لجنة بانجسامورو للمرأة ولجنة بانجسامورو للشباب من خلال مبادرات مختلفة لبناء القدرات.

0:00 0:00
Speed:
November 22, 2020

الغرب يحاول تمكين المرأة المسلمة لتكون حارسة لهيمنته في مينداناو

الغرب يحاول تمكين المرأة المسلمة لتكون حارسة لهيمنته في مينداناو

(مترجم)

الخبر:

في 16 تشرين الثاني/نوفمبر، أفادت صحيفة "مانيلا تايمز" أن السفير النرويجي لدى الفلبين بيورن ستوراست جانسن وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي في الفلبين أطلقوا شراكة جديدة لدعم بناء السلام وقدرات الوساطة في النزاعات لدى النساء والمشاركة النشطة للشباب في منطقة بانجسامورو. وبموجب هذه الاتفاقية، ستعمل النرويج وبرنامج الأمم المتحدة الإنمائي في الفلبين مع حكومة منطقة بانجسامورو ذاتية الحكم لتنشيط لجنة بانجسامورو للمرأة ولجنة بانجسامورو للشباب من خلال مبادرات مختلفة لبناء القدرات.

التعليق:

إن تعزيز قدرة النساء على بناء السلام هي استراتيجية للمستعمرين لإسكات ضحاياهم وكذلك جعلهم مطفأة للهيب الصراع الذي كانوا يشعلونه منذ ما يقرب من خمسة عقود في مينداناو. إن مصطلح "السلام العالمي" الذي تتداوله الولايات المتحدة وحلفاؤها طوال هذا الوقت ليس سوى شعار لترسيخ هيمنتهم في البلاد الإسلامية، بما في ذلك مينداناو، وهي أرض إسلامية لم تتمكن إسبانيا من احتلالها لأكثر من ثلاثة قرون.

إن تمكين النساء بجعلهن ضمن قوات حفظ سلام في مناطق الصراع فكرة سخيفة لأن القواعد والإجراءات ولدت من التصدعات في النظام الرأسمالي الذي تبنته الدول الاستعمارية مما أدى إلى اندلاع الحروب والصراعات. وتتلخص هذه الفكرة في إعلان بكين وقرار مجلس الأمن رقم 1325 بشأن المرأة والسلام والأمن، وتتجاهل هذه الفكرة العبثية حقيقة أن النساء هن دائماً أول ضحايا الحروب المدمرة والصراعات والاحتلال العسكري. فالنساء دائما ضعيفات ومستهدفات في الحروب. لذا فإن السؤال هو: كيف يمكن للمرأة أن تكون فجأة قادرة على المشاركة في عملية السلام بينما لم تكن منخرطة منذ بداية مخططات الصراع في ساحة المعركة؟

لا توجد إجابة أخرى على السؤال أعلاه، سوى أن الأجندة السياسية للقوى العالمية تسعى لاستغلال النساء المسلمات للحفاظ على استقرار هيمنتها. فالنساء والشباب هم آخر معاقل المسلمين، ولكن على الجانب الآخر، من المحتمل أن يكونوا هم المفتاح لفتح عملية علمنة البلاد الإسلامية في مناطق الصراع. ونتيجة لذلك، فإن جعل النساء يلعبن دورا في قوات حفظ السلام في مينداناو يعني جعلهن حارسات لتوازن الاستعمار الغربي في بلادهن. وفي الوقت نفسه، فإنهن محرومات من إمكاناتهن لإحداث تغيير حقيقي نحو تطبيق الإسلام الكفاحي، لأن سياسات ورغبات ومصالح القوى العالمية تحكمهن وتقيدهن.

إن تورط دول غربية مثل النرويج في أرض مينداناو ليس بالأمر الغريب، لأنها تحمل رسالة رأسمالية إلى جانب مهمة "السلام والديمقراطية" التي تبيعها دائماً للبلاد الإسلامية. فمنذ عام 2014، كتفا بكتف مع برنامج الأمم المتحدة الإنمائي، ساعدت النرويج المقاتلين الذين تم تسريحهم من الخدمة في أعقاب اتفاقية السلام بين الحكومة وجبهة تحرير مورو الإسلامية في عام 2014. ومجلس الأعمال الفلبيني-النرويجي موجود أيضاً منذ عام 2011 حيث يمتلك صندوق تقاعد الحكومة النرويجية Global حقوق ملكية لـ25 شركة فلبينية، بقيمة 221 مليون دولار أمريكي. ومن بين الشركات التي اختارت الدولة النرويجية الاستثمار فيها أيالا، وبنك جزر الفلبين، وجوليبي للأغذية، وبترون.

من ناحية أخرى، فإن النظام الفلبيني مطيع جداً للإملاءات الغربية، ولديهم أيضاً مصلحة كبيرة في الحفاظ على استقرار منطقة مينداناو بعد سياسة تنسيق الحكم الذاتي الجديدة التي تم تنفيذها في عام 2019. شكل الحكم الذاتي الجديد في ما يسمى منطقة بانجسامورو ذاتية الحكم هو نتيجة لاتفاقية السلام بين المسلمين في مينداناو وبين النظام العلماني للفلبين، ويحل محل منطقة الحكم الذاتي لمسلمي مينداناو التي اعتبرها رئيس الفلبين "تجربة فاشلة". ومع ذلك، فإن الحكم الذاتي (بأي شكل من الأشكال) لن يوفر أبداً الحماية الحقيقية والاستقلال للمسلمين في مينداناو، بما في ذلك النساء والأطفال المسلمين من الموران الذين عاشوا تحت الاضطهاد لعقود. فقد قتل أكثر من 120 ألف مسلم موراني خلال الخمسين سنة الماضية، ويظل أمن الأرض والممتلكات والشرف في خطر كبير. هذه الأرض الإسلامية تتقلص باستمرار، والفقر مستمر، والقتل مستمر. وفي الوقت نفسه، سيستمر استغلال عدم كفاءة قادة المسلمين المحليين لشيطنة الأحكام الإسلامية وتوجيه أصابع الاتهام لإلقاء اللوم على المسلمين.

إن جهودهم لإشراك النساء المسلمات في السلام والديمقراطية لا تختلف عن الجهود المبذولة لإخفاء الهوية الحقيقية للمسلمين في جنوب الفلبين. وإذا ما نجحت، فسوف تُسرَّع عملية ضم المنطقة الغنية جداً بالموارد الطبيعية وستزيد من ترويض المسلمين ليصبحوا أكثر اعتدالاً وواقعية، حتى يؤمنوا بأن الديمقراطية هي الساحة المثالية للنضال الإسلامي. كل هذه الجهود التي قام بها الكفار حكام الفلبين والمؤسسات الدولية لم تكن إلا لأنهم لا يريدون وجود الإسلام في جنوب الفلبين.

حبيباتي المسلمات في مينداناو! تذكرن أن السبيل الوحيد للاستقلال هو بالعودة إلى الإسلام والاتحاد مع جميع المسلمين في كنف الخلافة! اعلمن أن الأمة الإسلامية يجب ألا تقع في فخ العدو للمرة الألف. لا يجوز أن يجرّد المسلمون من السلطة في فخ الديمقراطية والقومية! ابقين متسقات مع طريق التغيير بالطريقة الثابتة الصحيحة للدعوة كما جسدها النبي ﷺ. لذلك، انضممن إلى النضال من أجل إقامة الخلافة الراشدة الثانية تحت كلمة التوحيد والحكم الإسلامي، والتي ستسكت كل من يهاجم ويمس شرف المرأة المسلمة في جميع أنحاء العالم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست