الغرض من زيارة رحمون لإيران
الغرض من زيارة رحمون لإيران

الخبر: في 16 أيار/مايو، عقد اجتماع لرؤساء أعضاء منظمة معاهدة الأمن الجماعي في موسكو. وقبل ذلك التقى الرئيس الروسي بوتين برحمون رئيس طاجيكستان. وكان الأمر يتعلق بتحديث الجيش الطاجيكي. حتى أثناء حديثه إلى الرؤساء الآخرين، ركز رحمون على مشاكله.

0:00 0:00
Speed:
June 23, 2022

الغرض من زيارة رحمون لإيران

الغرض من زيارة رحمون لإيران

(مترجم)

الخبر:

في 16 أيار/مايو، عقد اجتماع لرؤساء أعضاء منظمة معاهدة الأمن الجماعي في موسكو. وقبل ذلك التقى الرئيس الروسي بوتين برحمون رئيس طاجيكستان. وكان الأمر يتعلق بتحديث الجيش الطاجيكي. حتى أثناء حديثه إلى الرؤساء الآخرين، ركز رحمون على مشاكله.

بعد هذا الاجتماع، في 30 أيار/مايو، استقبل الرئيس الإيراني إبراهيم رئيسي، رئيس طاجيكستان، إمام علي رحمون، كما ذكرت وكالة إيرنا الإيرانية.

التعليق:

بالفعل لمدة 9 سنوات، قطع إمام علي رحمون العلاقات مع إيران واتّهمها بشدّة بدعم المنظمة (الإرهابية) حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان. إذن ما الذي دفعه للذهاب إلى إيران في تلك اللحظة بالذات؟

من أجل فهم أوضح لهذا الموضوع، نحتاج إلى معرفة أن أساس الصّراع بين إيران وطاجيكستان كان بسبب حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان. على الرّغم من أن ذلك الحزب يلتزم بالأساليب الديمقراطية للوصول إلى السلطة، ولكن له من يدعمه، كيف أخافت إيران حكومة رحمون؟ من أجل القضاء على هذا الحزب المعارض، قرر رحمون أن يتقدم عليهم قبل أن يحصلوا على موطئ قدم في جميع هياكل السلطة، وخاصة في الجيش. وحكم على العديد من أعضاء هذا الحزب بأحكام طويلة، وانتقل زعيم الحزب وآخرون إلى دول مختلفة، وحصل عدد كبير، بمن فيهم زعيم هذا الحزب، على حق اللجوء في دول أوروبية.

من هناك، واصلوا أنشطتهم بالعمل من خلال مواقع التواصل، وحاولوا إيجاد رأي عام ضد الرئيس وعائلته وجعل الناس يجرؤون على الوقوف ضد النظام، لكن عملهم لم يؤدّ إلى النتائج التي توقعوها.

لذلك، في 9 أيار/مايو أجرى زعيم هذا الحزب محيي الدين الكبيري مقابلة مع راديو ليبرتي وقال إن نشاطهم الأيديولوجي والسياسي لم يؤدّ إلى نتائج وأن النظام لا يفهم إلا لغة قتاله بالقوة والأسلحة. وأضاف بشأن فتح جناح عسكري وأنهم في المستقبل لن يمنعوا الناس من حمل السلاح.

أخبر كبيرى أيضاً منشورات قريبة من المعارضة أنه "قبل بضع سنوات، تمّ رفض استخدام القوة والأسلحة من قبل غالبية القوى السياسية الطاجيكية، بما في ذلك حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان، ولكن بعد الأحداث في أوكرانيا، تغير العالم".

كان التهديد لنظام رحمون داخلياً وخارجياً. فمن ناحية، كان نظامه خائفاً من طالبان التي وصلت إلى السلطة في أفغانستان، وبعد كلام كبيري، حتى في الداخل بعد أحداث غورنو بدخشان.

لذلك، في اجتماع منظمة معاهدة الأمن الجماعي، اعتمد رحمون على حقيقة أن هذه المنظمة ستساعده في حالة طالبان، وفي حالة وجود أي شيء، مع الأعداء الداخليين.

لسنوات عديدة لم ترغب طاجيكستان في الانضمام إلى منظمة معاهدة الأمن الجماعي في إيران. على ما يبدو، بعد هذه الأحداث، أخبر بوتين خادمه رحمون أن الوقت قد حان لكي يجتمع مع إيران.

وفي هذا الصدد، استقبل رئيس طاجيكستان إمام علي رحمون في 18 أيار/مايو رئيس أركان القوات المسلحة الإيرانية محمد بوكيري.

يذكر أن محمد بوكيري شارك في حفل افتتاح مصنع أبابيل 2 لإنتاج الطائرات بدون طيار.

وقال بوكيري: "اليوم، نحن في وضع يمكننا من خلاله تصدير المعدات العسكرية لتلبية الاحتياجات المحلية للدول الحليفة والصديقة من أجل تحسين الأمن وتعزيز السلام"، واصفاً افتتاح المصنع في طاجيكستان بأنه "نقطة تحول في التعاون العسكري بين البلدين".

تم تصميم الطائرات بدون طيار أبابيل-2 في المقام الأول للمراقبة وجمع المعلومات الاستخبارية. لكن يمكن أيضاً تجهيزها بالمتفجرات واستخدامها كطائرات كاميكازي قتالية بدون طيار، وتحويلها إلى صاروخ موجه. مدة رحلة "أبابيل 2" تصل إلى 1.5 ساعة، وتصل أقصى سرعة تحليق إلى 220 كم / ساعة. ويمكن أن يكون التحكم فيها عن بعد أو تلقائياً.

كما عقد رئيس أركان القوات المسلحة الإيرانية اجتماعات مع وزير الدفاع الطاجيكي شيرالي ميرزو ورئيس لجنة الدولة للأمن القومي في البلاد سايمن ياتيموف.

على ما يبدو، من المربح أكثر لإيران أن تتعاون مع نظام رحمون بدلاً من الخلاف حول حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان، علاوة على ذلك، في إحدى محادثاته عبر الإنترنت مع مجموعة من الطلاب والأساتذة من إحدى الجامعات الإيرانية، أوضح محيي الدين كبيري، زعيم التحالف الوطني في طاجيكستان وزعيم حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان، العديد من القضايا المتعلقة بعلاقات حزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان مع إيران. لم ينكر كبيري فقط بشكل قاطع أن إيران تقدم الدعم والمساعدة لحزب النهضة الإسلامية في طاجيكستان، بل علاوة على ذلك، تعتمد على إيران، لكنه اتهم أيضاً جمهورية إيران الإسلامية بالفشل في الوفاء بالتزاماتها كضامن للسلام بين الطاجيكيين.

للأسف فإن الأحزاب الإسلامية تدرك خطأها بعد فوات الأوان. إنهم لا يؤسسون أنشطتهم على أساس مبدأ الإسلام، فيعانون في النهاية.

لطالما حذر حزبُ التحرير حزبَ النهضة الإسلامية في طاجيكستان من العمل مع النظام في البرلمان، ويذكره اليوم بترك الآراء القومية والعمل لاستئناف الحياة الإسلامية بإقامة الخلافة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مبين أبو داود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست