الحافلات الوردية لنقل النساء فقط في تركيا
الحافلات الوردية لنقل النساء فقط في تركيا

الخبر:   ذكرت عدد من وسائل الإعلام خبر تخصيص حافلتين باللون الوردي مخصصة لنقل النساء في مدينة ملاطية التركية. واختلفت وسائل الإعلام في صياغتها للخبر بشكل واضح، فبعضها كـ BBC بالعربية، ذكرت أن هذا المشروع تم افتتاحه لحماية النساء من التحرش، وأوجزت الخبر في سطرين بتاريخ 9/20. أما ميدل إيست أونلاين فذكرت الخبر بالتفصيل في وقت سابق، مشيرة إلى وجود ضجة في المدينة حول هذا المشروع، الأمر الذي أكده موقع البوابة الذي نشر الخبر بتاريخ 9/21 تحت عنوان: "برغم الاعتراضات... حافلات للنساء فقط في تركيا".

0:00 0:00
Speed:
October 22, 2017

الحافلات الوردية لنقل النساء فقط في تركيا

الحافلات الوردية لنقل النساء فقط في تركيا

الخبر:

ذكرت عدد من وسائل الإعلام خبر تخصيص حافلتين باللون الوردي مخصصة لنقل النساء في مدينة ملاطية التركية. واختلفت وسائل الإعلام في صياغتها للخبر بشكل واضح، فبعضها كـ BBC بالعربية، ذكرت أن هذا المشروع تم افتتاحه لحماية النساء من التحرش، وأوجزت الخبر في سطرين بتاريخ 9/20. أما ميدل إيست أونلاين فذكرت الخبر بالتفصيل في وقت سابق، مشيرة إلى وجود ضجة في المدينة حول هذا المشروع، الأمر الذي أكده موقع البوابة الذي نشر الخبر بتاريخ 9/21 تحت عنوان: "برغم الاعتراضات... حافلات للنساء فقط في تركيا".

التعليق:

بداية يجب التوضيح أن وسائل الإعلام بمعظمها لا تنقل الخبر بصورة دقيقة، فهي إما تخفي بعض التفاصيل أو تضلل في الكلام، أو أنَّها تنقل الصورة بشكل مغاير عمَّا هي عليه في الحقيقة. وذلك لتمرير فكرة معينة أو تركيز مفهوم معين في أذهان المتلقين وإيجاد رأي عام حول مشاريع معينة تخدم بذلك الجهة التابعة لها. ويستطيع المتابع العادي أن يلحظ ذلك في أي خبر تنقله أكثر من وسيلة إعلامية فيرى تفاوتها في النقل، واختلافها في تسمية الأشياء وانتقاء المصطلحات. فالخبر الذي أوجزته البي بي سي في سطرين وفيديو لا تتجاوز مدته 90 ثانية، كانت غيرها قد فصَّلته بشكل واضح، أعطى صورة كما نقلته ميدل إيست عن انتشار ظاهرة التحرش في تركيا وخوف النساء على أنفسهن. وصورةً أخرى عن وجود "صراع سياسي" حول أسلمة المجتمع وظاهرة الجندرة كما أورده موقع البوابة، الذي ذكر فيه اتهاماً لأردوغان من قبل سياسيين في الحكومة التركية بأنه يسعى لأسلمة المجتمع، ويرى في المشروع عزلاً للنساء وتمييزاً حسب الجنس.

ومن هذا المنطلق فيجب على العقلاء والمخلصين في هذه الأمة، أن ينظروا لمثل هذه الأخبار من زاوية الإسلام ويجردوه بمجهر الوعي السياسي المنبثق من العقيدة التي يحملونها. وهذا يوصلنا لنتائج عدة منها:

إن مشكلة التحرش بشكل عام، ظاهرة رأسمالية بحتة، انتشرت بعد غياب الإسلام عن التطبيق. ولسنا هنا بصدد البحث في أسبابها بالتفصيل، فهذا يحتاج لإسهاب. لكن من الجدير ذكره أنَّ الدولة / النظام المطبق هو السبب الرئيسي الذي يسهم في انتشارها أو الحدِّ منها. ولا تتعلق فقط بما ترتديه المرأة أو بغض الرجل لبصره أم لا. فدولة مثل تركيا تطبق النظام الرأسمالي، وتتبنى مفهوم الحريَّات وتطلقها على وُسعها، ليس غريباً أن تظهر فيها هذه الكارثة سواء أكان سكانها مسلمين أم لا، فالعبرة ليست بالأفراد بقدر ما تتعلق بالنظام المطبق عليهم.

الإسلام قد حلَّ هذه المشكلة بشكل جذري عبر جملة من أحكام النظام الاجتماعي، منها تحريم التبرج والاختلاط، والخلوة، وفرض غض البصر، والحياء، وضمن أن تؤثر هذه الأحكام في المجتمع؛ أولاً بجعل تطبيقها واجباً في حق الدولة، وثانياً بتكليف هذه الدَّولة برعاية المجتمع رعايةً قائمة على نشر الثقافة الإسلامية، بنشر مفاهيم العفة والحياء والغيرة على الأعراض والشهامة والرجولة والأخوة بين المسلمين. فأساس العلاقة بين الرجل والمرأة هي علاقة بناء وتعاون أخوي في ظل أحكام ربَّانية لا تتغير.

هذه الأحكام ليست خاضعة لرقابة البشر ولا رغباتهم، ولا تميِّز بين ذكر وأنثى. فهي أحكام لمعالجة شؤون البشر بوصفهم بشراً دون النظر إلى جنسهم أو عرقهم أو لونهم. فالإسلام أرقى من كل النظرات الوضعية الوضيعة التي تحاول حلَّ مشكلة ما بوصفها مشكلة تتعلق بالمرأة تارة أو الرجل تارة أخرى؛ فهي أحكام عادلة بحق كلا الجنسين. وهو، أي الإسلام، قد سبق كل الدعوات والدعاوى لإنصاف المرأة وتكريمها، وفضح نفاق الدّاعين للمساواة.

يجب الانتباه أنَّ تفعيل هذه الأحكام لإنهاء مشكلة التحرش، لن يكون بتطبيقها وحدها في ظل النظام الرأسمالي، بينما بقية أحكام الإسلام معطلة. فالإسلام إما يؤخذ كلُّه أو لن يؤتي أُكُلَه. وما يحاول البعض في بلاد المسلمين فعله من التدرج بتطبيق بعض الأحكام ومحاولات أسلمة المجتمع، لمحاولة إقناع الرأي العام أو المجتمع الدولي بصلاحية الإسلام ونجاعته، ليس إلا محاولات عبثية عقيمة تزيد الطين بِلَّة. فأولاً أحكام الإسلام لن تثمر إلا بتطبيقها كلِّها جملة واحدة ووحدها، وهذا الأمر يفهمه كل عاقل. وثانياً حتى هذه التنازلات في عدم تطبيق الإسلام واختصاره في حكم هنا أو هناك لن يرضي المجتمع الدولي. فقول رب العالمين فصل: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ﴾ [البقرة 120]. والأجدر بأردوغان إن كان صادقاً في ادِّعائه العمل على تطبيق الإسلام أن ينصر دعوة الخلافة ويخشى الله وحده ولا يخشى سواه لا من الغرب ولا من الشرق، فلا ناصر إلا الله، ولو اجتمعت كل الدُّنيا على أذيته فلن يصيبه إلا ما كُتب له!

﴿أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤُمِنِينَ﴾ [التوبة 13].

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم: بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست