الحفاظ على الأونروا استمرار في لعبة التضليل السياسي
الحفاظ على الأونروا استمرار في لعبة التضليل السياسي

الخبر   الغد الأردني – القاهرة – أكد وزير الخارجية وشؤون المغتربين أيمن الصفدي، أن الحفاظ على وكالة الأمم المتحدة لإغاثة وتشغيل اللاجئيين الفلسطينيين الأونروا، استثمار ضروري لبناء السلام والاستقرار اللذين ننشد جميعا. واعتبر الصفدي، أن للفشل في حماية الوكالة ودورها الكامل تبعات خطرة على أمن المنطقة، خصوصا مع تعمق مشاعر الغضب واليأس وزيادة احتمالات تفجر الأوضاع جراء استمرار غياب آفاق إنهاء الاحتلال وتلبية حق الشعب الفلسطيني في الحرية والدولة المستقلة. وأكد أن الأردن سيستمر بالعمل مع الأشقاء ومع المجتمع الدولي لإسناد الوكالة سياسياً وماليا، وللتأكيد على أهمية استمرارها في القيام بدورها. وقال الصفدي إننا نعمل معكم جميعاً لضمان أن يكون التصويت على تجديد ولايتها العام المقبل في الجمعية العامة وقفة دولية للتأكيد على أن للاجئين حقوقا حياتية وسياسية لا مساومة فيها.

0:00 0:00
Speed:
September 12, 2018

الحفاظ على الأونروا استمرار في لعبة التضليل السياسي

الحفاظ على الأونروا استمرار في لعبة التضليل السياسي

الخبر

الغد الأردني – القاهرة – أكد وزير الخارجية وشؤون المغتربين أيمن الصفدي، أن الحفاظ على وكالة الأمم المتحدة لإغاثة وتشغيل اللاجئيين الفلسطينيين الأونروا، استثمار ضروري لبناء السلام والاستقرار اللذين ننشد جميعا.

واعتبر الصفدي، أن للفشل في حماية الوكالة ودورها الكامل تبعات خطرة على أمن المنطقة، خصوصا مع تعمق مشاعر الغضب واليأس وزيادة احتمالات تفجر الأوضاع جراء استمرار غياب آفاق إنهاء الاحتلال وتلبية حق الشعب الفلسطيني في الحرية والدولة المستقلة.

وأكد أن الأردن سيستمر بالعمل مع الأشقاء ومع المجتمع الدولي لإسناد الوكالة سياسياً وماليا، وللتأكيد على أهمية استمرارها في القيام بدورها.

وقال الصفدي إننا نعمل معكم جميعاً لضمان أن يكون التصويت على تجديد ولايتها العام المقبل في الجمعية العامة وقفة دولية للتأكيد على أن للاجئين حقوقا حياتية وسياسية لا مساومة فيها.

التعليق:

أسست الأونروا عام 1950 أي بعد نكبة فلسطين عام 1948 وتسليم فلسطين للعصابات اليهودية التي أعلنت قيام كيان يهود، وشردت الشعب الفلسطيني في الداخل وأرض الجوار في الأردن وسوريا ولبنان، وأقامت لهم مخيمات تطورت فيما بعد وبنيت فيها المدارس والمستشفيات، وتم تمويل الأونروا من قبل الدول الاستعمارية المجرمة التي دعمت يهود ومكنت لهم في الأرض المباركة وفي مقدمتها الولايات المتحدة الأمريكية التي مولت ثلث الميزانية.

الأونروا هي جزء من التضليل السياسي الذي مورس على هذه الأمة من قبل أعدائها، التي جاءت لتعالج النتائج الكارثية التي ترتبت على احتلال فلسطين وتشريد شعبها منها، لتصرف أذهان المسلمين عن تحرير فلسطين وطرد الغاصبين منها.

فبدلا من أن تتحرك الأمة لتحرير فلسطين، تم تضليلها بفك الارتباط بين فلسطين وبين الأمة وتحويلها من قضية إسلامية إلى قضية عربية ثم إلى قضية وطنية ثم تحويلها إلى قضية لاجئين وحدود وحق عودة، وأخيرا لا بد من إنهاء القضية وتوطين اللاجئين في البلاد التي لجأوا إليها... كل ذلك من التضليل السياسي الذي مارسته الدول الكبرى على الأمة الإسلامية لدرجة أصبحت الشعوب هي التي تحرص على المطالبة بما أملته عليها الدول الاستعمارية، فبقاء الأونروا أصبح مطلبا شعبيا وليس مطلبا للدول العربية فقط، لأن الدول الغربية الكافرة وعلى رأسها أمريكا استطاعت أن تربط مصالح الشعوب والدول بهذه المنظمات الدولية المشؤومة.

إنه لمن المؤسف أن يجتمع وزراء الخارجية العرب للمطالبة بدعم الأونروا وتحقيق المطلب الأمريكي الذي رفض تمويلها وطلب من الدول الخليجية الغنية أن تمولها، إنه لمن المؤسف حقا أن يكون زعماؤنا هم أبواق التضليل السياسي الغربي وهم الداعين له، كان المفروض من الزعماء أن يحرروا أنفسهم أولا وشعوبهم ثانيا من السيطرة الغربية، ولكن أنى لهم ذلك وهم مجرد فئة مأجورة لتنفيذ ما يريده الغرب الكافر منها!

إن الذي يحقق السلام والاستقرار هو التحرر من الهيمنة السياسية والاقتصادية الغربية، وهذا يوجب علينا كأمة مسلمة أن نتصدى لهذا التضليل السياسي والاقتصادي وأن نملك إرادتنا وقراراتنا وأن نخرجها من يد عدونا.

لماذا يحتاج الشعب الفلسطيني للأونروا؟

لأنه لا زال مشردا لا يستطيع الحصول على التعليم والعمل والصحة إلا بوجود هذه المنظمة، ما الحل؟ ليس الحل في الأونروا والأمم المتحدة، وليس الحل في تنفيذ القرارات الدولية، إنما يكمن الحل في عودة القضية إلى مسارها الطبيعي؛ قضية إسلامية وليست قضية فلسطينية، قضية تحرير الأرض المباركة التي فيها أولى القبلتين وثالث الحرمين وليست قضية لاجئين وحدود وحق عودة، إنها قضية إعادة الأمة الإسلامية إلى سابق عهدها، لتكون الأمة الأولى في العالم تملك إرادتها وقراراتها وتملك اقتصادها، فإذا صار للمسلمين دولة حررت فلسطين وأنهت وجود المخيمات.

لسنا أمة فقيرة تتسول على أبواب المنظمات الدولية، إننا أمة عظيمة تملك أعظم مبدأ وأعظم حضارة تحمل مشعل النور والهداية للعالم أجمع، تحمل مشروعا سياسيا يملك القدرة على تنظيم العلاقات الدولية وحل المشاكل الناتجة عن هذه العلاقات حلا يحترم إنسانية الإنسان، نحن أمة تملك أقوى موقع استراتيجي وتملك أعظم الثروات التي يحتاجها العالم كله، لسنا بحاجة إلى دولارات أمريكا ويورو أوروبا وينّ اليابان، فلتذهب الأونروا إلى الجحيم.

إن إقامة الخلافة الراشدة هي التي تعيد ثروات الأمة المنهوبة إليها وهي التي تقضي على ظاهرة التشرد والتسول.

اللهم أكرمنا بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. اللهم آمين

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست