الحفيد الذي سوف يخجل أجداده منه (مترجم)
الحفيد الذي سوف يخجل أجداده منه (مترجم)

بعد شهور من عرقلة مفاوضات تركيا للانضمام إلى الاتحاد الأوروبي وأزمة الهجرة المتنامية، زارت المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل أنقرة الأسبوع الماضي.

0:00 0:00
Speed:
November 01, 2015

الحفيد الذي سوف يخجل أجداده منه (مترجم)

الخبر:

بعد شهور من عرقلة مفاوضات تركيا للانضمام إلى الاتحاد الأوروبي وأزمة الهجرة المتنامية، زارت المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل أنقرة الأسبوع الماضي. وقد عرضت المساعدة في إحياء المحادثات المتوقفة لعضوية تركيا في الاتحاد الأوروبي، إذا تعاونت تركيا في إيقاف تدفق المهاجرين إلى أوروبا.

وقال الرئيس التركي أردوغان: "إن أمن واستقرار الغرب وأوروبا يتوقف على أمننا واستقرارنا. لقد قبلوا بهذا الآن. في المفاوضات التي أجريتها في بروكسل الأسبوع الماضي قبلوا بكل هذا. لا يمكن أن يتم هذا بدون تركيا. لذلك فإن كان حدوثه بدون تركيا غير ممكن فلم لا تضمون تركيا للاتحاد الأوروبي؟ (المصدر: يورونيوز)

التعليق:

إن من المحزن للغاية أن نرى، سليل الخلفاء العثمانيين من أرض الخلافة العثمانية السابقة يتاجر برعاية اللاجئين من أجل الحصول على إذن من الاتحاد الأوروبي للمشاركة في هذه الوحدة، والذي ليس لديه أية علاقة مشتركة مع قيم شعب تركيا المسلم.

ومن المحزن للغاية أن نرى، حكام تركيا الذين استقرت سلطتهم على العاصمة السابقة للخلافة في اسطنبول يستخدمون قضية رعاية اللاجئين كأداة في حملاتهم الانتخابية للبرلمان، والذي سوف يقر قوانين غير إسلامية سينفذها هؤلاء الحكام على المسلمين في تركيا.

ومن المحزن للغاية أن نرى، هؤلاء الحكام فيما هم مطالبون بإنقاذ الشعب التركي المسلم من الذل نراهم يطأطئون رؤوسهم لعقود طالبين الإذن للانضمام إلى الاتحاد الأوروبي. وبرغبتهم الانضمام إلى الاتحاد الأوروبي فإنهم يهددون أوروبا بأن تركيا ستنضم إلى منظمة شنغهاي للتعاون إذا رفضت أوروبا قبولها، في حين أن منظمة شنغهاي للتعاون هي منظمة تقودها روسيا، المعروفة بجرائمها ضد المسلمين داخل وخارج حدودها.

ومن المحزن للغاية أن نرى، كيف أن تركيا الحديثة، حاضرة الخلافة سابقا، أصبحت أداة في الصراع الأمريكي الأوروبي وتستخدم من قبل أمريكا لخلق مشاكل اقتصادية وعرقية داخل أوروبا عن طريق تدفق اللاجئين. ومن المعروف أنه في الأشهر الأخيرة سمحت تركيا للاجئين بالتسلل إلى حدودها الغربية، في حين أنها خلقت العقبات أمام لاجئي سوريا للحصول على تصاريح الإقامة، التي تمنحهم الحق في العمل بشكل قانوني واستخدام الرعاية الطبية. من ناحية أخرى، ومن أجل توسيع الانقسام في الاتحاد الأوروبي فإن أمريكا تريد انضمام تركيا إلى الاتحاد الأوروبي، حيث إن تركيا شريك موثوق ومنقاد لأمريكا.

ومن المحزن للغاية أن نرى، رئيس دولة سكانها مسلمون يريدها أن تكون مخفرا لحماية أمن دول الكفر. فضد أي عدو سيستخدم هذا المخفر وفقا لأردوغان؟ هل ضد المسلمين؟ إن على أردوغان أن يخجل من نفسه لتحيره على أي جانب من الحاجز يقف. ألا ينبغي لتركيا أن تكون مخفرا لحماية أمن الأمة الإسلامية من الهجمات والجرائم التي تسببت فيها الدول الغربية في العالم الإسلامي، كما كانت على مدى قرون من الزمن في ظل الخلافة العثمانية؟

إن دعم الأسد من قبل الدول الغربية بقيادة أمريكا ضد المسلمين في سوريا هو السبب الحقيقي لما يقوم به الأسد من تهجير المسلمين من سوريا بكل الوسائل، بينما يتم إزاحة جميع الخطوط الحمراء عندما ينتهكها هذا المجرم. إن هذا الدعم هو الذي أوجد تدفق موجات الملايين من اللاجئين إلى تركيا ولبنان والأردن وغيرها من البلدان.

فهل أردوغان وأنصاره ليس لديهم أي وعي سياسي لكي يدركوا أن الاتحاد الأوروبي سوف لن يسمح بانضمام تركيا إليه في أي ظرف من الظروف؟ ألا يدركون أن الاتحاد الأوروبي لا يريد سوى تقويض استقرار تركيا اقتصاديا وسياسيا بسجن اللاجئين داخل الحدود التركية؟ وقد ثبت ذلك من خلال الإهانة السافرة التي تلقتها القيادة التركية في 25 تشرين الأول/أكتوبر في بروكسل، عندما لم يُدع الوفد التركي إلى قمة الاتحاد الأوروبي حول اللاجئين.

بدلا من التسول وراء أبواب هذه الاتحادات كالاتحاد الأوروبي، ومنظمة شنغهاي للتعاون لعقود للمساومة في قضية اللاجئين، يجب على أردوغان العودة إلى تطبيق الإسلام في القضايا الخارجية بتوحيد كافة البلاد الإسلامية وإعلان الوحدة الإسلامية الحقيقية التي هي الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. إن نصوص القرآن والسنة تطلب منه كحاكم يمتلك آلة الجيش والدولة تعبئتها من أجل إنقاذ المسلمين في سوريا. إن الإسلام يطالبه بحشد الجيش التركي الشجاع، لدخول سوريا والقضاء على النظام السوري، والذي هو السبب الحقيقي لأزمة اللجوء، ونتيجة لذلك ستنتهي الثورة السورية النبيلة بإقامة دولة إسلامية حقيقية على منهاج النبوة. أزمة اللجوء السورية تحتاج إلى حل جذري وليس إلى تخدير آخر يخدم مصالح أجنبية للقوى العظمى العدائية.

في الختام، أود أن أناشد بعض المسلمين الذين تغرهم خطابات أردوغان الإسلامية.

أيها الإخوة الأعزاء،

لا ينبغي لنا أن ننخدع بتحركات وتصريحات أردوغان كمبادرته تلك في دافوس، ووعده بوقف حدوث أية مجزرة، كتلك التي حدثت في حماة، وبكلماته "لو كانت تركيا في أوائل التسعينات بقوة اليوم، فإن نزاع ناغورني كاراباخ لم يكن ليحدث".

هذه التصريحات والتحركات المتخذة لحماية المسلمين تستحق الثناء لو كانت آتية من قبل مسلم عادي، ولكن عندما نتحدث عن حاكم يمتلك جيشا مسلما شجاعا، فإن رد الفعل المناسب بالنسبة له هو تعبئة جيشه وليس استخدام الكلمات والمبادرات. هكذا كان رد فعل السلف الصالح من أردوغان والمسلمين الأتراك، ورد الفعل هذا ينبغي أن تنفذه ذرياتهم في جميع الأوقات إلى يوم القيامة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست