الهجرة لأوروبا وأزمة اللاجئين
الهجرة لأوروبا وأزمة اللاجئين

الخبر:   أفادت قناة الجزيرة في 16 تموز/يوليو بأن "تونس والاتحاد الأوروبي أنهوا اتفاقاً بشأن الهجرة. ووقعت بروكسل وتونس اتفاقاً حول شراكة استراتيجية تهدف إلى مكافحة المهربين وتعزيز العلاقات الاقتصادية".

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2023

الهجرة لأوروبا وأزمة اللاجئين

الهجرة لأوروبا وأزمة اللاجئين

(مترجم)

الخبر:

أفادت قناة الجزيرة في 16 تموز/يوليو بأن "تونس والاتحاد الأوروبي أنهوا اتفاقاً بشأن الهجرة. ووقعت بروكسل وتونس اتفاقاً حول شراكة استراتيجية تهدف إلى مكافحة المهربين وتعزيز العلاقات الاقتصادية".

التعليق:

عقدت المفوضية الأوروبية ورئيستها أورسولا فون دير لاين ورئيس وزراء هولندا مارك روته ورئيس وزراء إيطاليا جورجيا ميلوني محادثات مع الرئيس التونسي قيس سعيّد. وفي كلمتها في قصر الرئاسة التونسية، قالت أورسولا: "ترتبط تونس والاتحاد الأوروبي بتاريخ وجغرافيا مشتركة، ونحن نتشارك في المصالح الاستراتيجية".

يتم توقيع هذا الاتفاق في وقت تشهد فيه أعداد المهاجرين من جنوب الصحراء الأفريقية وجنوب آسيا والشرق الأوسط زيادة كبيرة. ويرجع ذلك إلى عدم الاستقرار الاقتصادي والسياسي الذي تشهده هذه المناطق. وفي وقت تكون فيه السياسة الأوروبية مقسمة بشكل حاد حول هذه المسألة، وتواصل الجبهة اليمينية المتطرفة اكتساح الساحة السياسية الأوروبية، فإن توقيع هذا الاتفاق يظهر بوضوح الاتجاه الذي تتجه إليه أوروبا.

أشارت رئيسة المفوضية الأوروبية إلى التاريخ المشترك بين أفريقيا وأوروبا عندما قدمت حزمة مساعدات بقيمة 900 مليون يورو أمام رئيس تونس. إن التاريخ الذي أشارت إليه يحتاج إلى نظر أكثر دقة، ففيه تكمن جذور هذه المشكلة. مع أن الدول الغربية تكافح اليوم للتعامل مع أزمة الهجرة، إلا أنها تحتاج إلى النظر الأكثر عمقاً. لم يمضِ وقتٌ طويل منذ أن هبطوا على شواطئ شمال أفريقيا كمستعمرين. وكان لديهم هدف وحيد، وهو استعمار ونهب ثروات هذه المنطقة. لذا كان عليهم تمويل الثورة الصناعية التي تحدث في الغرب.

هذه القصة ليست جديدة، وليست محصورة في أفريقيا وحدها. فغالبية بلاد المسلمين تعاني من وباء الاستعمار على مدى القرون الثلاثة الماضية. وقد شهدوا استغلال بلادهم ومواردهم الطبيعية وثرواتهم الفكرية، وحتى مواردهم البشرية لبناء ما يسمى "الحضارة الغربية التقدمية والمتعددة الثقافات والإنسانية". ولم يتوقف هذا النهب حتى اليوم، بل تغيرت أشكاله ويظهر اليوم على هيئته الاستعمارية الجديدة. وبالتالي، لا يزال البرنامج الاقتصادي والسياسي الغربي يفرض على معظم دول العالم المستعمَرة من خلال حكام وأنظمة عميلة ونموذج اقتصادي رأسمالي فاسد ومؤسسات دولية مثل صندوق النقد الدولي والبنك الدولي والاتحاد الأوروبي والأمم المتحدة. وبالتالي، لا يمكن فصل أزمة الهجرة عن البرنامج الاستعماري الجديد الذي ينتهجه الغرب بشكل ضار وعدائي.

تثير هذه الأزمة أيضاً انتباه مطالبات النمو السريع بالتقدم والتعدد الثقافي وحقوق الإنسان والشمولية التي يُطلقها الاتحاد الأوروبي والغرب بشكل متكرر. سواء أكانت حظر الحجاب والنقاب في فرنسا، أو حظر المسلمين لدى ترامب، أو حرق المصحف الشريف تحت غطاء حرية التعبير، أو التوترات العنصرية والعرقية في شوارع الغرب، فإن هذه الأمور جميعها تدل على وجود عنصرية وتعصب عميقة جذوره. ويُبنى ذلك على نواة يهودية - نصرانية لا تقتصر على النخبة العنصرية البيضاء. كما أُغرقت شمولية الحضارة الغربية الزائفة التي تعلن عن نفسها، في السواحل اليونانية الشهر الماضي، أغرقت مئات الرجال والنساء والأطفال، الذين كانوا ينتظرون بأنفاسهم الأخيرة قدوم إنسانية غير موجودة لإنقاذهم.

عندما نغوص بعمق في التاريخ المشترك بين أفريقيا وأوروبا، الذي أشارت إليه رئيسة المفوضية الأوروبية، نجد أن الفتح الإسلامي للأندلس والفترة التالية من الازدهار والشمولية تقف على تناقض واضح مع المأساة الاستعمارية. على مدى أكثر من 400 عام، ازدهر اقتصاد قائم على المعرفة في مدن إيبيريا مثل طليطلة وقرطبة وغرناطة. وعاش أتباع اليهودية والنصرانية والإسلام معاً في سلام ووئام. منذ بدايتها، كانت الحضارة الإسلامية التي تستند إلى القرآن وسنة النبي ﷺ حضارة حقاً عالمية. فقد استوعبت الإمبراطوريتين الفارسية والرومانية ضمن حضنها عندما امتدت. كما منحتهم هوية جديدة بوصفهم رعايا في الدولة الإسلامية. وتم استيعاب السكان المحليين في شبه القارة الهندية ووسط آسيا وأفريقيا كجسد واحد. ولم يكن هناك تعصب عنصري أو ثقافي أو عرقي. فقد كانت سمعة الخلافة العثمانية بحد ذاتها تجعل يهود إسبانيا والبرتغال يفضلون الهجرة إلى إسطنبول لإنقاذ أنفسهم من النصارى.

تمت تهيئة المكان لإحياء وانبعاث دولة إسلامية عالمية حقيقية، دولة الخلافة التي ستعيد إحياء الحضارة الإسلامية العالمية، التي تستند إلى الشمول الحقيقي والعدل والرحمة. كما ستفتح أبوابها أمام الناس من جميع الأديان والألوان والثقافات والخلفيات، دون تحيز أو ظلم في رعايتهم.

يقول الله سبحانه وتعالى في كتابه العظيم: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس جنيد – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست