الحكام والرأسماليون يتقاسمون الملكية العامة فيما بينهم
الحكام والرأسماليون يتقاسمون الملكية العامة فيما بينهم

الخبر: قالت شركة بحوث هيندنبورغ إن التحقيق الذي أجرته لمدة عامين، والذي نُشر في 24 كانون الثاني/يناير، أظهر أن مجموعة أداني، التي يقودها ثالث أغنى شخص في العالم غوتام أداني، متورطة في "تلاعب فاضح في الأسهم" و"مخطط احتيال محاسبة". وقد أدى الانهيار في أسهم أداني إلى إلحاق الضرر بالأسواق الهندية على نطاق أوسع أيضاً. (بلومبرج)

0:00 0:00
Speed:
March 16, 2023

الحكام والرأسماليون يتقاسمون الملكية العامة فيما بينهم

الحكام والرأسماليون يتقاسمون الملكية العامة فيما بينهم

(مترجم)

01

الخبر:

قالت شركة بحوث هيندنبورغ إن التحقيق الذي أجرته لمدة عامين، والذي نُشر في 24 كانون الثاني/يناير، أظهر أن مجموعة أداني، التي يقودها ثالث أغنى شخص في العالم غوتام أداني، متورطة في "تلاعب فاضح في الأسهم" و"مخطط احتيال محاسبة". وقد أدى الانهيار في أسهم أداني إلى إلحاق الضرر بالأسواق الهندية على نطاق أوسع أيضاً. (بلومبرج)

التعليق:

أصبح غوتام أداني، مؤسس ورئيس مجلس إدارة مجموعة أداني، ثالث أغنى رجل في العالم في غضون 3 سنوات فقط. فمنذ عام 2018، ارتفعت خمسة أسهم من شركة أداني في أي مكان ما بين 1200٪ إلى 7992٪. وبلغت ثروته في عام 2022، 136.1 مليار دولار، وأضاف 65 مليار دولار إلى ثروته في العام نفسه، ما جعله ثالث أغنى رجل بعد أيلون ماسك وجيف بيزوس. على الجانب الآخر، شهدت المجموعة التي يقودها زيادة في مستويات ديونها على مدار السنوات الخمس الماضية من 1 ألف كرور روبية إلى 2.2 كرور روبية اعتباراً من آذار/مارس 2022. وقد أصبح الاستثمار العام في شركة التأمين على الحياة وبنك الدولة الهندي رأس مال أداني بواسطة شركة التأمين على الحياة وبنك الدولة الهندي تشتري أسهماً ضخمة. حيث قدم بنك الدولة الهندي مبلغ 1 مليار دولار لمجموعة أداني كقرض لمشاريعه في أستراليا.

المساهم الأساسي في نمو أداني السريالي هو حزب بهاراتيا جاناتا الحاكم وسياساته الرأسمالية. لعبت الخصخصة دوراً رئيسياً في نمو أداني مثل Adani Enterprises وRajasthan Govt وقّعتا اتفاقا لتكوين مشروع مشترك لإنشاء حديقة للطاقة الشمسية والتي أعطت ازدهاراً لقطاع أداني الأخضر وأصبح أكبر لاعب متجدد. وتم منح المطارات والموانئ في المدن الرئيسية لمجموعة أداني من طرف حزب بهاراتيا جاناتا الحاكم. مودي متهم بمساعدة أداني في الحصول على صفقات مربحة لمشروعات الفحم والطاقة المتجددة في سريلانكا وبنغلادش المجاورتين. أصبحت العلاقة بين رئيس الوزراء مودي وأداني مثيرة للجدل وموضوع النقاش الحالي في الهند. اعتاد أداني على مرافقة رئيس الوزراء مودي خلال زياراته الرسمية وهي ليست بروتوكولا إلى جانب ذلك، بعد كل زيارة، هو نمط يفوز أداني بعقد من الدولة الزائرة. كما أثار زعيم المعارضة قلقاً بشأن الأمر نفسه في البرلمان. واجهت مجموعة أداني مراراً وتكراراً مزاعم بالفساد وغسل الأموال وسرقة أموال دافعي الضرائب، بإجمالي يقدر بنحو 17 مليار دولار أمريكي. التحقيقات إما أوقفتها أو أعاقتها مختلف أذرع الحكومة الديمقراطية الهندية.

سياسة الاقتصاد الرأسمالي مادية، وتجاهل المفهوم الروحي ينتج المزيد لتغذية العقيدة البشرية. هذه الصيغة لا تهتم بتوزيع الثروة بين الناس وتشجيع بقاء الأصلح. تسعى الأنظمة الرأسمالية إلى الكفاية المعيشية من خلال الإجراءات التي تحركها المصلحة الذاتية، ولهذا السبب فإنها مشغولة بالبطالة والتلوث والفقر غير المنضبط؛ عادة ما تكون اللوائح والأنظمة الخاصة بتصحيح أوجه القصور في الرأسمالية غير فعالة لأن أولئك الذين يطبقونها تحكمهم قيم خاطئة لا تهتم بالإنسان. أحد الأمثلة الأولية هو أن الثروة الإجمالية لأغنى 100 شركة هندية زادت من حوالي 25 كرور روبية إلى أكثر من 32 كرور روبية بين عامي 2014 و2019 وهو ما يمثل 34٪ من الناتج المحلي الإجمالي للهند والذي كان 147.79 كرور روبية في ذلك الوقت. هذا مقياس لدرجة عدم المساواة العالية في البلدان الديمقراطية بسبب المبادئ الرأسمالية.

يختلف النظام الاقتصادي الإسلامي جوهرياً عن نظام الرأسمالية. فالإسلام يسمح بالملكية الخاصة والعامة لأنواع محددة من الممتلكات والموارد. تعد الملكية متعددة الأوجه، والحرية الاقتصادية ضمن حدود الشريعة، والعملة ذات الغطاء التام من الذهب والفضة من أساسيات الاقتصاد الإسلامي. يؤكد الاقتصاد الإسلامي على تشجيع التوزيع والقيم غير الفردية ومحاربة الكنز. قال الله تعالى في القرآن الكريم: ﴿وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾.

المال هو مال لله، والإنسان مستخلف على أموال يكون مسئولاً عنها أمام الله، وفقاً للأحكام التي حددتها الشريعة بوضوح. لذلك فإن الملكية المطلقة للإنسان هي مفهوم غريب في الإسلام، لأنها ملك لله وحده. يسمح الإسلام بزيادة الثروة في حدود معقولة، لكنه لا يتسامح مع هذا الاختلاف المتزايد لدرجة أن بعض الناس يقضون حياتهم في الرفاهية والراحة، في حين تُترك الغالبية العظمى من الناس ليعيشوا حياة البؤس والجوع والفقر. لا يمكن تحقيق العدالة الاقتصادية إلا من خلال إقامة إصلاحات مؤسسية مثل جمع الزكاة، وتحريم الربا، والعملة ذات الغطاء من الذهب والفضة، وغير ذلك مما نصّ عليه الإسلام. يحرم الإسلام على الحكّام نهب ثروات عامة الناس من حيث الضرائب أو الربا وتقاسمها بين الرأسماليين وأنفسهم، بل يوفر "القرض الحسن"، وهو قرض لا يتقاضى بموجبه المُقرض أي ربا أو مبلغ إضافي على المال المُقرَض. منذ هدم دولة الخلافة العثمانية في 3 آذار/مارس 1924م، جلب العالم بقيادة الرأسماليين الغربيين (في البداية بريطانيا تلتها أمريكا) البؤس للعالم. لن يتمّ التراجع عنها إلاّ عندما يقيم المسلمون دولة الخلافة، ويسعون لإزالة الهيمنة الغربية في بقية العالم، بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق – الهند

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست