الحكومة الأوزبيكية تدعم استراتيجية منظمة الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب لإرضاء "إخوانها الكبار"
الحكومة الأوزبيكية تدعم استراتيجية منظمة الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب لإرضاء "إخوانها الكبار"

الخبر:   في الفترة من 4 إلى 7 آذار/مارس من هذا العام، عقدت ندوة تدريبية حول استخدام التقنيات الجديدة للأغراض الإرهابية في أكاديمية وزارة الشؤون الداخلية لجمهورية أوزبيكستان. ويهدف هذا الحدث إلى تعريف الخبراء الأوزبيكيين بأفضل الخبرات والأساليب والممارسات الحديثة في هذا الصدد، ووضع التدابير والتوصيات الوطنية التي تهدف إلى منع المخاطر والتهديدات ذات الصلة. ...

0:00 0:00
Speed:
March 12, 2024

الحكومة الأوزبيكية تدعم استراتيجية منظمة الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب لإرضاء "إخوانها الكبار"

الحكومة الأوزبيكية تدعم استراتيجية منظمة الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب لإرضاء "إخوانها الكبار"

الخبر:

في الفترة من 4 إلى 7 آذار/مارس من هذا العام، عقدت ندوة تدريبية حول استخدام التقنيات الجديدة للأغراض الإرهابية في أكاديمية وزارة الشؤون الداخلية لجمهورية أوزبيكستان.

ويهدف هذا الحدث إلى تعريف الخبراء الأوزبيكيين بأفضل الخبرات والأساليب والممارسات الحديثة في هذا الصدد، ووضع التدابير والتوصيات الوطنية التي تهدف إلى منع المخاطر والتهديدات ذات الصلة.

يتم تنظيم التدريب من قبل مكتب الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب، ومركز الأمم المتحدة الإقليمي للدبلوماسية الوقائية لآسيا الوسطى، ومعهد الدراسات الاستراتيجية والإقليمية التابع لرئيس جمهورية أوزبيكستان، وأكاديمية وزارة الداخلية لجمهورية أوزبيكستان وجهاز أمن الدولة. (معهد الدراسات الاستراتيجية والإقليمية، 2024/03/05م)

التعليق:

بحسب الرسالة، يقام هذا الحدث كجزء من "خارطة الطريق" لتنفيذ المبادرات والمقترحات التي طرحها رئيس جمهورية أوزبيكستان في المؤتمر الرفيع المستوى بشأن تنفيذ خطة الأمم المتحدة استراتيجية مكافحة الإرهاب في آسيا الوسطى المنعقدة في طشقند يومي 3 و4 آذار/مارس 2022، وقد طرح ميرزياييف في هذا المؤتمر 5 مبادرات ومقترحات، تفاصيلها المختصرة كما يلي:

1- فتح مكتب لإدارة الأمم المتحدة لمكافحة الإرهاب في المنطقة.

2- إنشاء نظام إلكتروني موحد للإرهاب السيبراني في آسيا الوسطى.

3- تحت رعاية إدارة مكافحة الإرهاب للأمم المتحدة، إنشاء مجلس خبراء إقليمي من بين كبار الخبراء في دول آسيا الوسطى.

4- وأكد ميرزياييف أن السياسة الفعالة للشباب هي أهم شرط لنجاح الحرب ضد الإرهاب والتطرف. - انعقاد مجلس شباب دول وسط وجنوب آسيا، الذي سينشط بشكل دائم في مدينة سمرقند عام 2023، لإجراء مناقشة شاملة لهذه القضايا؛

5- عقد مؤتمر رفيع المستوى "التنوير والتسامح الديني" تحت رعاية الأمم المتحدة عام 2023.

ولم يعد سرا أن مكافحة الإرهاب والتطرف تعني الحرب ضد الإسلام والمسلمين. وفي هذا الصدد فإن الحكومة الأوزبيكية - كغيرها من حكومات بلاد المسلمين - لا تخرج عن الخط الذي رسمته الدول الاستعمارية الكافرة والمنظمات الدولية كالأمم المتحدة، التي تخدم مصالح أمريكا، حتى لا يصل الإسلام إلى السلطة.. ولم تكتف الحكومة بذلك، بل إنها أخذت زمام المبادرة لإرضاء "إخوانها الكبار"، حيث تؤكد المقترحات التي قدمها ميرزياييف أعلاه هذا الأمر. ومن بين هذه الأمور لا بد من التأكيد على أهمية اتخاذ إجراءات ضد الدعوة إلى الإسلام التي تنشط بشكل كبير في شبكة الإنترنت العالمية، وإيلاء اهتمام خاص بالشباب. كما أكد ميرزياييف، في كلمته أمام الدورة الـ78 للجمعية العامة للأمم المتحدة، على ضرورة تفعيل الجهود المشتركة لمنع انتشار التطرف وتطرف الشباب.

وطبعا لم تبدأ مثل هذه الأنشطة في الآونة الأخيرة، بل إنها مستمرة منذ فترة طويلة. فمثلا، عُقدت في 15 أيلول/سبتمبر 2016، في طشقند، ندوة نظمتها منظمة الأمن والتعاون في أوروبا، بمشاركة 40 ممثلاً عن الوزارات والمؤسسات والوكالات في جمهورية أوزبيكستان، خصصت لقضايا تطوير برامج وطنية فعالة لتحقيق الأهداف المرتبطة بمكافحة الإرهاب على أساس القواعد القانونية الدولية. وانعقدت في طشقند يومي 11 و15 تشرين الثاني/نوفمبر 2019 بالتعاون مع منظمة الأمن والتعاون في أوروبا والأمم المتحدة ندوة دولية حول موضوع مكافحة تقنين العائدات الإجرامية وتمويل الإرهاب. وقد شملت هذه الأنشطة حتى أدنى هيئة إدارية، وهي المحلات. على وجه الخصوص، في عام 2022، نظم برنامج الأمم المتحدة الإنمائي دورات تدريبية لقادة أحياء مدينة طشقند حول الوقاية من التطرف العنيف والرد السريع على علامات التطرف. ويقال أيضاً إن الدورات ستساعد في التعرف في مرحلة مبكرة على السخط بين السكان الذي يؤدي إلى التطرف. ولذلك فإن مثل هذه الإجراءات التي تنظم لإبعاد الإسلام وأحكامه عن المجتمع، خاصة في محاربة الإسلام السياسي لا تعد ولا تحصى.

ليس من المبالغة القول إن الحكومة الأوزبيكية تستهدف حزب التحرير باعتباره التهديد الأكبر في الحرب ضد "الإرهاب والتطرف والراديكالية"، أي الإسلام السياسي بشكل أساسي. على سبيل المثال، تم تكثيف حجب صفحات فيسبوك وتيليجرام لحزب التحرير/ أوزبيكستان، عدة مرات، وحملات الدعاية المختلفة ضده من قبل بعض الأئمة المرتزقة... وخاصة في الآونة الأخيرة. ويبدو أن قيام الحزب بنشر أوضاع المسلمين في فلسطين المباركة، وبيان الحل الصحيح في هذا الصدد، ودعوته الأمة إلى اتخاذ هذه الإجراءات، وبشكل عام فإن كون الحزب لا يخرج عن الإسلام وقواعده، ولا يخاف لومة لائم، ويتمسك بطريقة رسول الله ﷺ في إقامة الدولة الإسلامية... يبدو أن ذلك أيقظ الحكام الخونة.

من المؤكد أنها خيانة كبيرة أن تكون الحكومة حريصة على تنفيذ مشاريع مليئة بالمؤامرة والفساد لمنظمات عميلة لأمريكا، مثل الأمم المتحدة، من أجل إرضاء "إخوانها الكبار". إن عدم مراعاة شعبنا المسلم لمحبته الإسلام واحترامه والتطلع إليه، ومحاولة إبعاده عنه، يعني أن ادعاءات الحكومة ببناء مجتمع مزدهر وتحقيق التقدم والقوة لا جدوى منها، بل هدفها فقط إطالة عمر نظامها. أما حزب التحرير الذي تحاربه، فرغم أن شباب الحزب تعرضوا لقمع شديد من قبل نظام كريموف المستبد من ملاحقة وتعذيب وحتى قتل غير مسبوق، فإن أنشطة حزب التحرير - والحمد لله - لم تتوقف وستستمر بعد ذلك إن شاء الله لأن الله قد فرض هذا على جميع المسلمين ووعد بنصره. وسيبقى حزبنا العزيز مستمرا بثبات، رغم الصعوبات والمخاطر الكبيرة في هذا الطريق. ولا شك أن الله تعالى سينصر الحزب وأهل الحق المتمسكين بالحق ولو بعد حين!

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست