الحكومة التركية تستغل مشكلة اللاجئين من أجل أهداف شريرة
الحكومة التركية تستغل مشكلة اللاجئين من أجل أهداف شريرة

 الخبر:   لقد أُحضرت مجموعة من المهاجرين من اليونان إلى تركيا ضمن الاتفاقية بين تركيا والاتحاد الأوروبي فيما يتعلق بقبول المهاجرين. وقد وصل 131 من هؤلاء المهاجرين إلى تركيا بالأمس. (وكالة الأناضول 2014/04/04م)

0:00 0:00
Speed:
April 05, 2016

الحكومة التركية تستغل مشكلة اللاجئين من أجل أهداف شريرة

الحكومة التركية تستغل مشكلة اللاجئين من أجل أهداف شريرة

الخبر:

لقد أُحضرت مجموعة من المهاجرين من اليونان إلى تركيا ضمن الاتفاقية بين تركيا والاتحاد الأوروبي فيما يتعلق بقبول المهاجرين. وقد وصل 131 من هؤلاء المهاجرين إلى تركيا بالأمس. (وكالة الأناضول 2016/04/04م)

التعليق:

جاءت مشكلة المهاجرين بعد موت الطفل غيلان الكردي على ساحل بحر إيجة في تركيا في السنة الماضية. ومع ذلك فإن موت هذا الطفل الصغير لم يكن الأول من نوعه، بل هذا أصبح كرمز في الموضوع ووسيلة استغلال في سبيل السياسات الشرسة. لأن تركيا فتحت حدودها مع أوروبا لأغراض متعددة من مثل تحريض الدول الأوروبية على التحرك في أزمة سوريا، والحصول على الدعم الأوروبي لصالح السياسات الأمريكية في سوريا، وكذلك تسريع المفاوضات المتعلقة بعضوية تركيا في الاتحاد الأوروبي، وأخيرًا الحصول على بعض التسهيلات من مثل الإعفاء من التأشيرات والدعم المالي. بعد ذلك تسارعت حركة اللاجئين تجاه أوروبا وأقلقهم هذا الوضع الجديد، فمثلاً اضطرت السلطات في هنغاريا والنمسا إلى إغلاق المعابر الحدودية أمام هذا التدفق، وقد بدأ هذا ينعكس كمأساة إنسانية على الحدود.

حتى نسيت الدول الأوروبية أزمتها الاقتصادية مع اليونان بعد الأزمة الإنسانية هذه بحق لاجئي سوريا فبدأت النقاشات الطويلة في وسائل الإعلام الأوروبية حول الموضوع وقام الزعماء الأوروبيون بعقد الاجتماعات الطارئة من أجل معالجة أزمة اللاجئين. وقامت مستشارة الاتحاد الألماني ميركل بزيارتين خلال أربعة أشهر إلى تركيا بعد أن واجهت ضغوطات كثيفة في الرأي العام المحلي بسبب المشاكل التي تواجه ألمانيا، ومن المعروف أن معظم اللاجئين وطالبي اللجوء يُستضافون في ألمانيا. وأصبحت هذه المشكلة هي البند الرئيسي في جدول الأعمال أثناء هذه الزيارات. وفي النهاية وصل هؤلاء الزعماء الذين قاموا بعقد الاجتماعات الطويلة من أجل إيجاد حل للأزمة، وصلوا إلى الاتفاق بينهم فيما يتعلق بتقديم بعض التنازلات والتسهيلات لصالح تركيا على أن تساعد في حل مشكلتهم هذه. ومن البنود المتفق عليها: مساعدات مالية لتركيا بقيمة 3 مليارات يورو، وإعفاء طلب التأشيرة من أهل تركيا بناءً على هدوء تدفق المهاجرين تجاه أوروبا وأخيرًا تسريع المفاوضات من أجل عضوية تركيا في الاتحاد الأوروبي.

فذهب رئيس وزراء تركيا أحمد داود أوغلو إلى بروكسل في 17 آذار/مارس من أجل توقيع هذه الاتفاقية. فأعلن رئيس مجلس الاتحاد الأوروبي دونالد تاسك وصول الأطراف بعد النقاشات الحادة إلى الاتفاق المتعلق بخطة العمل لمعالجة المشكلة، أثناء تصريحاته في الاجتماع الصحفي المشترك مع رئيس الوزراء التركي أحمد داود أوغلو ورئيس لجنة الاتحاد الأوروبي جان كلود يونكر في 2016/03/18.

وها هي أُحضرت الدفعة الأولى من اللاجئين من اليونان إلى تركيا ضمن هذه الاتفاقية في يوم 4 نيسان/أبريل. ومن المؤسف أن تركيا تستغل هذه الأزمة أو الكارثة كورقة سياسية مقابل الصمت الأوروبي تجاه العمليات العسكرية التركية في شرق تركيا ضد الأكراد وخاصة ضد حزب العمال الكردستاني، وكذلك الحصول على الدعم الأوروبي لصالح السياسات الأمريكية في سوريا أو على الأقل عدم التدخل فيها. ومن المتوقع أن الحكومة سوف تستغل هذه المشكلة ومن ثم هذه المكتسبات من الاتحاد من أجل الحصول على دعم الرأي العام التركي في مشاريعها المحددة من مثل مشروع الانتقال إلى النظام الرئاسي وهو من أحلام أردوغان، وكذلك مشروع الدستور الجديد وفي الاستفتاء المتوقع لقبول هذا الدستور، وبعبارة أخرى، تستغل الحكومة التركية مشكلة اللاجئين التي تحولت إلى مأساة إنسانية من أجل تطلعاتها وسياساتها وأهدافها الشرسة والقذرة، في حين كان من الضروري أن تنظر إليهم بنظر الرحمة بصفتهم إخوتنا المسلمين أو على الأقل كأناس أبرياء هاربين من الظلم والهوان. لا يليق استغلال أزمة إنسانية كأداة أو ورقة سياسية من أجل مصالحها القومية لأي حزب سياسي يدعي أنه في خدمة الشعب أو الأمة، خاصة إن كان يَعُدّ نفسه حزباً إسلامياً مثل حزب العدالة والتنمية. فمساعدة المظلوم هي واجب إنساني قبل أن يكون إسلامياً، وبعيدا عن كل الاعتبارات إلا بالحق. وبلا شك لا يوجد أي قيمة إنسانية أو أخلاقية أو روحية عند أصحاب المبدأ الرأسمالي، وهناك مثل عند أهل تركيا، فيقال أن هذا مثل التجارة القيصرية، بمعنى لا يعتبر في هذه التجارة إلا القيمة المادية، وإن الله وعدنا الحسنى، فقال سبحانه وتعالى في كتابه الكريم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ، تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

لو كانوا يعلمون...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تَكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست