الحق المبين هو تحكيم الإسلام لا التهديد بمصير أهل الشام
الحق المبين هو تحكيم الإسلام لا التهديد بمصير أهل الشام

الخبر:   تحت هذا العنوان (السيسي: "أنا بكررها.. إحنا على الحق المبين") نقل موقع مصراوي الخميس 15 آذار/مارس 2018م، قول الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي إن البعض أصابه اللبس وعدم الوضوح، ولم يستطع اكتشاف حقيقة ما يحدث في مصر. وتابع، في الندوة التثقيفية الـ27، للقوات المسلحة، اليوم الخميس: "فيه ناس اتلخبطت مين الصح ومين الغلط، أنا بكررها، إحنا على الحق المبين، كل مصري ومصرية وكل أب وأم وأخ، وكل إنسان كان ليه في الجيش والشرطة، لازم يبقى عنده يقين، أصل ممكن الكلام اللي بيتقال ميوصلش للناس، لكن بيوصل بيقين الشهادة". وأضاف: "طب عايزين تعرفوها؟ حاضر، أنا مش بتكلم عن دول، عشان مكسرش خاطر أهل هذه الدول، بس تصوروا ملايين من الناس في معسكرات، وأطفال 5 أو 6 سنين، طفل كان عنده 10 سنين، بقى عنده 16 سنة، يا ترى نفسيته ودينه بقوا عاملين إزاي دلوقتي؟"

0:00 0:00
Speed:
March 18, 2018

الحق المبين هو تحكيم الإسلام لا التهديد بمصير أهل الشام

الحق المبين هو تحكيم الإسلام لا التهديد بمصير أهل الشام

الخبر:

تحت هذا العنوان (السيسي: "أنا بكررها.. إحنا على الحق المبين") نقل موقع مصراوي الخميس 15 آذار/مارس 2018م، قول الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي إن البعض أصابه اللبس وعدم الوضوح، ولم يستطع اكتشاف حقيقة ما يحدث في مصر. وتابع، في الندوة التثقيفية الـ27، للقوات المسلحة، اليوم الخميس: "فيه ناس اتلخبطت مين الصح ومين الغلط، أنا بكررها، إحنا على الحق المبين، كل مصري ومصرية وكل أب وأم وأخ، وكل إنسان كان ليه في الجيش والشرطة، لازم يبقى عنده يقين، أصل ممكن الكلام اللي بيتقال ميوصلش للناس، لكن بيوصل بيقين الشهادة". وأضاف: "طب عايزين تعرفوها؟ حاضر، أنا مش بتكلم عن دول، عشان مكسرش خاطر أهل هذه الدول، بس تصوروا ملايين من الناس في معسكرات، وأطفال 5 أو 6 سنين، طفل كان عنده 10 سنين، بقى عنده 16 سنة، يا ترى نفسيته ودينه بقوا عاملين إزاي دلوقتي؟"

التعليق:

لا ندري عن أي حق مبين يتحدث الرئيس المصري! فالحق في نظر الرأسماليين شيء نسبي يختلف حسب وجهات النظر واختلاف الرؤى، أما في الإسلام فالحق مطلق واحد فقط تحدده وجهة نظر الإسلام في المسألة وعندما يتقول علينا الرئيس المصري بأنه على الحق المبين يجب علينا بيان واقعه وما يجب أن يكون عليه الحق المبين من وجهة نظر الإسلام.

الرئيس المصري يحكم من خلال نظام جمهوري ديمقراطي يحكم بالديمقراطية على حد زعمه والتي تجعل السيادة للبشر وتعطيهم حق التشريع فتجعلهم ندا لله عز وجل وهي نظام كفر يحرم على المسلمين أخذه أو العمل به أو الدعوة إليه، كما أنه يدعي الحفاظ على حدود الدولة المصرية التي رسمتها اتفاقية سايكس بيكو ويقدسها ويقاتل في سبيلها (على فرض عدم تخليه عن جزر لآل سعود وحدود بحرية لصالح قبرص وكيان يهود) فيفصل بذلك مصر عن جسد الأمة، كما أنه لم يصل إلى الحكم بطريقة شرعية بل سلب هذا السلطان من الأمة قهرا وأجبرها على أن تحتكم لما يمليه عليه وعليهم سادته في البيت الأبيض، فكيف يكون على الحق المبين؟!!

يا أهل الكنانة شعبا وجيشا! إن الحق المبين هو استئناف الحياة الإسلامية بتحكيم الإسلام كاملا شاملا غير منقوص من خلال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة تعيد سيرة الخلفاء الراشدين رضي الله عنهم، تجعل السيادة للشرع وتعيد للأمة سلطانها المغصوب فتنيب عنها خليفة رجلا مسلما بالغا عاقلا عدلا من أهل الكفاية يحكمها بالإسلام توصله للحكم ببيعة شرعية صحيحة فينوب عنها في تطبيق أحكام الإسلام عليها ويكون هو والأمة سواء أمام أحكام الإسلام، وتحاسبه الأمة إن قصر أو خالف في تطبيق هذه الأحكام ولو تطلب الأمر عزله، وتحرر الأمة من ربقة التبعية للغرب الكافر وتزيل تلك الأقفاص التي صنعها وسجن الأمة داخلها وأسماها حدودا وتعيدها أمة واحدة كما كانت في دولة واحدة بعربها وعجمها لا تربطهم وطنية نتنة ولا قومية عفنة وإنما تربط بينهم عقيدة الإسلام التي صهرتهم سابقا في بوتقة واحدة وألفت بين قلوبهم فصاروا بنعمة الله إخوانا.

يا أهل مصر شعبا وجيشا، إن الحق المبين لا يكون مع من يهددكم بمصير أهل الشام الذين تتكالب عليهم قوى الغرب المستعمر جميعا لوأد ثورتهم التي انطلقت لله من يومها الأول، بل يكون بنصرتهم ورفع الظلم عنهم وتحقيق ما يطالبون به من تطبيق الإسلام بإقامة الخلافة على منهاج النبوة، هذا هو الحق المبين وما عداه باطل بيّن أعاذنا الله وإياكم شره.

يا أهل مصر شعبا وجيشا، دونكم كتاب الله وسنة نبيه فهما ما ترك فيكم وبشّركم بالهدى إن تمسكتم بهما فاجعلوهما لكم ميزاناً تزنون عليه أقوال الرجال وأفعالهم، واجعلوا من حلال الله وحرامه مقياس أعمالكم وما تقيسون به أفعال وأقوال حكامكم، واكفروا بحدود سايكس بيكو التي قطعت أوصال أمتكم وجعلت من بلادكم معتقلات كبيرة أنتم نزلاؤها، واعلموا أنكم بهذا ستفشلون كل خطط العرب لترويضكم وإخضاعكم من جديد لسلطانه وربقة تبعيته.

يا أبناء جيش الكنانة، حقيقة هذا الخطاب وأسلوبه يبين الكثير مما يدور في الأروقة ولا يكشف على العلن فيفضح هذا النظام وخوفه من تململكم فيسوق ما يسوق من حجج يغطي بها سوأة عمالته ويمعن في قمع وتكميم أفواه من يعترض على أفعاله منكم، فاخلعوه عنكم واقطعوا حبال ولائكم له وصلوها بمن يحمل هم أمتكم ويسعى لخير دينكم ودنياكم؛ إخوانكم شباب حزب التحرير، فانصروهم واحملوا معهم حملكم وأقيموا بهم دولة عزكم الخلافة الراشدة على منهاج النبوة نسأل الله أن تكون بكم وأن نكون وإياكم من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست