الحرب على الإسلام في أوزبيكستان تشهد أحكامًا بالسجن مخففة على النصارى وأحكاما متعسفة بحق المسلمين
الحرب على الإسلام في أوزبيكستان تشهد أحكامًا بالسجن مخففة على النصارى وأحكاما متعسفة بحق المسلمين

الخبر:   أوزبيكستان: حكمت محكمة طشقند على أحد عشر مسلمًا اجتمعوا للصلاة ومناقشة أمور دينهم بالمسجد لمدد تصل إلى ست سنوات. وقد قدم العديد منهم شهادته حول تعرضهم للتعذيب (بما في ذلك تهديد الضباط لهم باغتصاب زوجاتهم أمامهم). وقد تجاهلت المحكمة هذه الشهادات. وحكم على ثلاثة من البروتستانت بخمسة عشر يوما. (Forum 18، 20 حزيران/يونيو 2017)

0:00 0:00
Speed:
June 29, 2017

الحرب على الإسلام في أوزبيكستان تشهد أحكامًا بالسجن مخففة على النصارى وأحكاما متعسفة بحق المسلمين

الحرب على الإسلام في أوزبيكستان تشهد أحكامًا بالسجن مخففة على النصارى

وأحكاما متعسفة بحق المسلمين

(مترجم)

الخبر:

أوزبيكستان: حكمت محكمة طشقند على أحد عشر مسلمًا اجتمعوا للصلاة ومناقشة أمور دينهم بالمسجد لمدد تصل إلى ست سنوات. وقد قدم العديد منهم شهادته حول تعرضهم للتعذيب (بما في ذلك تهديد الضباط لهم باغتصاب زوجاتهم أمامهم). وقد تجاهلت المحكمة هذه الشهادات. وحكم على ثلاثة من البروتستانت بخمسة عشر يوما. (Forum 18، 20 حزيران/يونيو 2017)

التعليق:

كما ذكر في التقرير، فإن الرجال المسلمين الأحد عشر احتجزوا جميعا في مركز الاحتجاز رقم واحد التابع لوزارة الداخلية في طشقند.

وتدّعي السلطات أنه في اجتماع 2008، تحدث بعض الرجال ضد الرئيس إسلام كريموف، وعن الحاجة إلى إقامة الخلافة الإسلامية في أوزبيكستان وأنهم كانوا يعتزمون الإطاحة بالحكومة. كما تم اتهامهم بدعم حركة إسلامية متطرفة محظورة وبأنهم يستمعون إلى خطب إمام "أخفته السلطات" قبل 22 عاما مضى.

لكن سورات إكراموف، المدافع المستقل عن حقوق الإنسان، رفض هذه الاتهامات. وأصر لـ"فورم 18" من طشقند في 15 حزيران على أن "المدعى عليهم استراحوا وصلوا معا فحسب". واشتكى من أن القضية "ملفقة، وليس لدى السلطات أي دليل إلا الاعترافات المستخرجة عبر التعذيب أثناء التحقيق من المدعى عليهم".

وقد تم إبعاد القاضي الأول للمحاكمة بسبب ادعاءات تتعلق بكونه مخمورا، وقام القاضي الثاني بإجراء جلسات استماع سريعة حيث هرعت المحكمة إلى تنفيذ الأوامر الصادرة عن السلطات التنفيذية. إن الاتهامات الموجهة للأحد عشر رجلاً (الذين كانوا في السجن منذ أواخر عام 2016) خطيرة وتحمل أحكاما بالسجن المؤبد وغرامات كبيرة. وعندما سئلت السلطات من قبل "فورم 18"، تم التهرب منهم بشكل غامض ولم يرد على مكالماتهم، كما أنهم رفضوا أن يعرفوهم على هوياتهم أو أن يقدموا عنهم أية معلومات.

وأضاف إكراموف بأن المحكمة تجاهلت أيضا شهادة رافشان صاديقوف أحد المدعى عليهم، والذي أفاد بتعرضه للتعذيب أثناء التحقيق. وقال بأن "الشرطة خنقته بوضع كيس بلاستيكي على رأسه، كما صعقته بالكهرباء من شحمة أذنه لحمله على الاعتراف بأنه مذنب"، وأضاف بأن المحكمة "لم تستمع للشهود الستة الذين كان من المفترض أن يدلوا شهادات براءتهم".

في حين إن محكمة في نوكوس عاصمة إقليم كاراكالباكستان، حكمت على ثلاثة من البروتستانت بالسجن الإداري لمدة 15 يوما كعقوبة على اجتماعهم في منزل للعبادة وتم الإفراج عنهم قبل انتهاء المدة.

وسيرا مع الحملة الوحشية الشمولية على أولئك الذين يعبرون عن وجهة نظرهم في الإسلام والحاجة إلى تغيير المجتمعات، فإن مجرد التفكير يدفع الحكومة الأوزبيكية في تسارع مفرط إلى ملاحقة أولئك الذين يبدون عندها موضع شبهة أو حتى مدافعين. وإن موقفهم العنيف ضد شعبهم يجبر الحكومة على ممارسة صمتها الوحشي بحق الشعب الأوزبيكي. وأي شكل من أشكال التجمع سواء أكان ذلك لتناول الطعام أم الصلاة أم للترفيه فإن هذا كله مصدر شبهة. إن الثبات على ما يعتقده المرء باهظ الثمن، إلى درجة أن يكلف المرء حياته. التهديد باغتصاب الأقارب الإناث وإغلاق سبل العيش والتفتيش غير المشروع، ومداهمة البيوت، وكل هذا لا يعد شيئا إذا ما قورن بأحكام السجن الوحشية والتعذيب المخيف.

إنه لمن المهم أن يبقى الواحد على علم بالأحداث الأخيرة ليبقى على بينة من محاولة الحكومة تخويف شعبها وقولبة أفكارهم وأفعالهم من خلال أئمتها التابعين وخطبائها المخلصين لها ووسائل إعلامها. والفارق الصارخ في التعامل بين المسلمين وغير المسلمين في أوزبيكستان واضح معروف. فغير المسلمين يُتساهل معهم بشكل أكبر بكثير من المسلمين من ناحية إجراءات المحكمة وأحكام السجن. وبشكل دوري يتم مسح المساجد والتجمعات العامة لأن الحكومة تخشى من أية انتفاضة أو محاولة تغيير للوضع الراهن وخاصة إذا ما كان ذلك ناجما عن وعي وثقافة إسلامية. وباستخدام قبضة من حديد، تعتقد الحكومة أن بإمكانها رفض أية شكوى بشأن الظروف المعيشية القاتمة في أوزبيكستان.

إن تسريبات الأخبار نادرة والنقاشات المفتوحة فيما يتعلق بما يحدث في السجون أكثر من شحيحة. كما أن ممارسات التعتيم التي ينتهجها الإعلام واسعة الانتشار، وبالنسبة لجماعات حقوق الإنسان، فإنهم غالبا من يسعون كثيرا دون قطف ثمار. تسيطر الدولة على وسائل الإعلام كما تتم متابعة وسائل التواصل الإلكتروني عن كثب. واليوم أكثر من أي وقت مضى يحتاج المسلمون في أنحاء العالم إلى رفع مستوى الوعي لديهم على ما يحدث في مجتمع وسجون أوزبيكستان وطاجيكستان وقرغيزستان منذ عهد حكام البلدان السوفييتية سابقا إلى هذه الحكومات التي لا زالت تعزف ذات اللحن الوحشي الغاشم.

ولكن ما شاء الله! فإن المسلمين في أوزبيكستان والدول المجاورة لها من دول الاتحاد السوفييتي السابق وقبضهم العظيم على دينهم ليذكرنا بقصة ماشطة فرعون التي هددت بأن تقول فرعون هو ربها إلا أنها رفضت ذلك رفضا قاطعا حتى وصلت الحال إلى أن وضعوا أطفالها الخمسة أمام ناظريها في الزيت المغلي. إيمان هذه المرأة الضعيفة جعلها أقوى من فرعون الذي عجز عن زعزعة إيمانها وجعْلِها تخضع لفرعون. وجزاء بما فعلت ولثباتها على عقيدتها، جزى الله ماشطة فرعون الجنة هي وأطفالها. وهذه هي حال مسلمي أوزبيكستان بثباتهم على عقيدتهم، على الرغم من التعذيب والاغتصاب والقتل، فإنهم ثابتون يعلنونها بسفور وتحد أن ربهم هو الله. قوتهم ملهمة، وإيمانهم خضوع وتسليم! وهذا ما يرعب الحكومة الأوزبيكية حقا... أن شعبها لم يعد يخافها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

منال بدر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست