الحركة النسوية في أفريقيا: مهزلة استعمارية لسحق انسجام المجتمع (مترجم)
الحركة النسوية في أفريقيا: مهزلة استعمارية لسحق انسجام المجتمع (مترجم)

الخبر:   في يوم الثلاثاء 16 تشرين الأول/أكتوبر 2018، عين رئيس الوزراء الإثيوبي آبي أحمد مجلسا للوزراء يضم 20 عضوا، ونالت النساء عددا متساويا من المقاعد مع زملائهن الرجال (ذي ستار، 2018/10/16). وبعد يومين في يوم الخميس 18 تشرين الأول/أكتوبر 2018، عين الرئيس الرواندي بول كاغامي مجلس وزراء يضم 26 عضوا وتشكل النساء 50% من الحكومة الجديدة، 13 من أصل 26 (صحيفة نيو تايمز، 2018/10/19). وبعد سبعة أيام في يوم الخميس 25 تشرين الأول/أكتوبر، انتخب البرلمان الإثيوبي ساهليورك زيودي كخامس رئيس وأول امرأة منذ أن وصلت الجبهة الديمقراطية الثورية الشعبية الإثيوبية الحاكمة إلى السلطة في 1999. (أديس ستاندرد، 2018/10/25)

0:00 0:00
Speed:
November 03, 2018

الحركة النسوية في أفريقيا: مهزلة استعمارية لسحق انسجام المجتمع (مترجم)

الحركة النسوية في أفريقيا: مهزلة استعمارية لسحق انسجام المجتمع

(مترجم)

الخبر:

في يوم الثلاثاء 16 تشرين الأول/أكتوبر 2018، عين رئيس الوزراء الإثيوبي آبي أحمد مجلسا للوزراء يضم 20 عضوا، ونالت النساء عددا متساويا من المقاعد مع زملائهن الرجال (ذي ستار، 2018/10/16). وبعد يومين في يوم الخميس 18 تشرين الأول/أكتوبر 2018، عين الرئيس الرواندي بول كاغامي مجلس وزراء يضم 26 عضوا وتشكل النساء 50% من الحكومة الجديدة، 13 من أصل 26 (صحيفة نيو تايمز، 2018/10/19). وبعد سبعة أيام في يوم الخميس 25 تشرين الأول/أكتوبر، انتخب البرلمان الإثيوبي ساهليورك زيودي كخامس رئيس وأول امرأة منذ أن وصلت الجبهة الديمقراطية الثورية الشعبية الإثيوبية الحاكمة إلى السلطة في 1999. (أديس ستاندرد، 2018/10/25)

التعليق:

القرارات التي اتخذها الرئيس الرواندي بول كاغامي ورئيس وزراء إثيوبيا آبي أحمد المسلم المتزوج من نصرانية؛ هو أمر متعمد ويهدف إلى ترسيخ القيم الغربية المرتكزة على الشعار الرأسمالي العلماني "الحركات النسوية تعني استقلال المرأة" الذي تدافع عنه الدول الاستعمارية العلمانية الغربية ومنظماتها مثل الأمم المتحدة ودمية الاتحاد الأفريقي. ولذلك، ترددت أصداء الأحداث في جميع أنحاء العالم مع وسائل الإعلام الرئيسية الدولية والمحلية التي تبلغ عن القصص الثلاث المذكورة أعلاه بشكل ساحق؛ ولا سيما التصريحات التي أدلى بها رئيس الوزراء الإثيوبي آبي أحمد، "إن وزيراتنا سيدحضن القول المأثور القديم بأن النساء لا يستطعن القيادة، وهذا القرار يعد الأول في تاريخ إثيوبيا وربما في أفريقيا". وتصريحات الرئيس الرواندي بول كاغامي الذي قال "زيادة أعداد النساء في أدوار صنع القرار أدى إلى خفض التمييز بين الجنسين والجرائم القائمة على النوع الاجتماعي". (الإندبندنت، 16-2018/10/20).

الحركات النسوية ودلالاتها وخاصة المساواة بين الجنسين هو مفهوم شر نابع من الدول الاستعمارية الرأسمالية العلمانية الغربية التي تهدف إلى تحقيق المساواة بين الرجال والنساء في واجباتهم وحقوقهم في المجتمع، ولتحقيق هذا الهدف، فإنها تدافع عن الحقوق السياسية والاقتصادية والاجتماعية والتعليمية والقضائية للمرأة، وبما أن أفريقيا مزرعة استعمارية، حيث إن القادة العاملين فيها ليسوا إلا مطيعين ومنفذين لسياسات أسيادهم، لذلك، اعتمدت أفريقيا عن طريق الاتحاد الإفريقي الأطر التالية لدعم ما يسمى بالمساواة بين الجنسين وتمكين المرأة التي ستسترشد بها الأطر والسياسات والبرامج الإقليمية والوطنية:

1.البروتوكول المتعلق بحقوق المرأة في إفريقيا في الـ2003.

2.خطة عمل مابوتو المتعلقة بالصحة والحقوق الجنسية والإنجابية في 2006 للمضي قدما بالقارة نحو تحقيق هدف حصول الجميع على خدمات الصحة الجنسية والإنجابية في أفريقيا مع بداية عام 2015، بما في ذلك الحد من العنف على أساس النوع.

3.الإعلان أن 2010-2020 بوصفه عقد المرأة الأفريقية في الـ2008 للنهوض بالمساواة بين الجنسين عن طريق التعجيل بتنفيذ قرارات جمعية داكار وبيجين والاتحاد الأفريقي المتعلقة بالمساواة بين الجنسين وتمكين المرأة، من خلال النهج المزدوج ينطلق من القاعدة إلى القمة؛ ومن القمة إلى القاع.

4.إطار العمل والتوصيات المتعلقة بالممارسات التقليدية الضارة في 2011 الذي يحدد أولويات العمل في مكافحة الممارسات التقليدية الضارة.

إن نتائج تنفيذ تلك الأطر وغيرها من الأمور التي لم تذكر تسببت في بؤس الزيجات والأمومة ووحدة الأسرة، ونظرا لأنها جميعها ترتكز على البيان المضلل "تحرير المرأة" من أدوارها الأساسية كزوجات وأمهات وربات بيوت، فإنها تصبح منتجات جنسية وتجارية يستغلها أرباب العمل والشركات متعددة الجنسيات بذريعة المساواة وتمكين المرأة! وبعبارة أخرى، فإن النساء المحررات هن النساء اللاتي يركزن على التنافس مع الرجال في المهن، والتغلب على الرجال في أدوارهم الأساسية كمعيلين، ومن النتائج الكارثية التي نشهدها اليوم في جميع أنحاء أفريقيا والعالم، التنافر الناجم عن النساء المرهقات اللاتي يترددن بين أماكن العمل والبيوت التي توجد فيها أهداف يحددها أصحاب العمل وإلزام إحضار الأطفال والأسر على التوالي! وتشجيع الزيجات المتأخرة والفجور على أسس واهية ترتقي بالدراسة للوظائف وازدراء الزواج المبكر كثقافة لتكبيل النساء في المطبخ ورعاية الأطفال والعناية بالمنزل! وينظر إلى أي شخص يعارض إعادة تحديد أدوار الجنسين، بما في ذلك على سبيل المثال ينظر إلى ربات البيوت المتعلمات أو غير المتعلمات، على أنهن متخلفات وعفا عليهن الزمن، ويدعم الظلم والقهر ضد المرأة بصفة عامة!

تحتاج أفريقيا إلى أن تستيقظ من سباتها بعدم تكبيل نفسها بأسيادها الاستعماريين الغربيين الذين فرضوا عليها أيديولوجيتهم الرأسمالية العلمانية الفاسدة وأنظمتها الشريرة بما في ذلك الليبرالية الاجتماعية التي تعزز الحركة النسوية ونظامها الاقتصادي العلماني التي قيدت أفريقيا بالتسول الدائم على الرغم من امتلاكها العديد من الموارد! والطريقة الوحيدة للخلاص من ذلك هي احتضان الدعوة إلى الخلافة على منهاج النبوة التي ستطرد المستعمرين وتقدم لأفريقيا تحريرا حقيقيا يرتكز على تطبيق الإسلام النقي من خلال التربية البحتة للهوية الإسلامية التي تقدر الزواج والأمومة ووحدة الأسر كأساس لمجتمع إسلامي، ولن تحقق المرأة مكانتها الحقيقية في أدوارها الأساسية كزوجات وأمهات وربات بيوت إلا من خلال الخلافة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصرو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست