الهيئة السعودية للزكاة والدخل استخدام المصطلحات الشرعية للجباية المالية
الهيئة السعودية للزكاة والدخل استخدام المصطلحات الشرعية للجباية المالية

الخبر:   تطالب "هيئة الزكاة والدخل" البنوك السعودية بدفع مليارات الريالات كفروقات عن السنوات السابقة، وذلك بسبب تغيير في احتساب الوعاء الضريبي. وتطالب هيئة الزكاة مصرف "الراجحي" بـ 723 مليون ريال بين 2001 و2009، في حين إن مطالبات "هيئة الزكاة" على بنك الرياض تبلغ 3.5 مليار ريال بين 2008 و2013، من جهة أخرى، تطالب "هيئة الزكاة" بنك الجزيرة بـ 462 مليون ريال حتى 2011، أمّا بنك البلاد، فبلغت المطالبات 615 مليون ريال عن الفترة من 2006 حتى 2014، وترتفع هذه المطالبات إلى 1.6 مليار ريال لبنك "الإنماء" عن الفترة بين 2009 و2015. (العربية 2018/2/22م) وجاء أيضا: "ولم ترد الهيئة العامة للزكاة والدخل على رسالة بالبريد الإلكتروني أرسلتها رويترز تطلب تعقيبا. ويقول محللون إنه يبدو أن المطالبات الجديدة ترجع إلى استثمارات محددة طويلة الأجل، كان معفاة من الزكاة في السابق، وتعتبر حاليا خاضعة للزكاة". (رويترز 2018/2/22م)

0:00 0:00
Speed:
February 24, 2018

الهيئة السعودية للزكاة والدخل استخدام المصطلحات الشرعية للجباية المالية

الهيئة السعودية للزكاة والدخل

استخدام المصطلحات الشرعية للجباية المالية

الخبر:

تطالب "هيئة الزكاة والدخل" البنوك السعودية بدفع مليارات الريالات كفروقات عن السنوات السابقة، وذلك بسبب تغيير في احتساب الوعاء الضريبي. وتطالب هيئة الزكاة مصرف "الراجحي" بـ 723 مليون ريال بين 2001 و2009، في حين إن مطالبات "هيئة الزكاة" على بنك الرياض تبلغ 3.5 مليار ريال بين 2008 و2013، من جهة أخرى، تطالب "هيئة الزكاة" بنك الجزيرة بـ 462 مليون ريال حتى 2011، أمّا بنك البلاد، فبلغت المطالبات 615 مليون ريال عن الفترة من 2006 حتى 2014، وترتفع هذه المطالبات إلى 1.6 مليار ريال لبنك "الإنماء" عن الفترة بين 2009 و2015. (العربية 2018/2/22م)

وجاء أيضا: "ولم ترد الهيئة العامة للزكاة والدخل على رسالة بالبريد الإلكتروني أرسلتها رويترز تطلب تعقيبا. ويقول محللون إنه يبدو أن المطالبات الجديدة ترجع إلى استثمارات محددة طويلة الأجل، كان معفاة من الزكاة في السابق، وتعتبر حاليا خاضعة للزكاة". (رويترز 2018/2/22م)

التعليق:

تعاقبت القرارات الملكية منذ أيام الملك عبد العزيز بخصوص الزكاة التي تجمعها الدولة حتى جاء الملك سلمان وأعاد تشكيل تنظيماتها وتحويلها من مصلحة إلى هيئة، فصارت "الهيئة العامة للزكاة والدخل"، فاستُحدثت فيها أنواع جديدة من الضرائب، وتوسعت ضرائب قديمة، كما تم ربطها بجهات حكومية أخرى كوزارة التجارة والمالية ومكتب العمل وعدة جهات أخرى.

عند الرجوع إلى تنظيمات ولوائح التنفيذ الخاصة بطريقة عمل الهيئة يلاحظ مباشرة أنها ليست ذات علاقة بالإسلام إطلاقا بل إن الصبغة المالية الضريبية البحتة هي الظاهر الوحيد فيها جميعها، فالقارئ لها لا يرى دليلا من كتاب الله أو سنة نبيه r أو حتى تعريفا على أساس شرعي، وذلك فضلا عن جميع التفصيلات التنفيذية والتي لا يوجد فيها من الشرع إلا الاسم "الزكاة"، وبالتالي فإنها لا تكاد تختلف عن أي لوائح تنظيمية لمصلحة الضرائب في أي بلد رأسمالي وخصوصا إذا ما علمنا أن أحد أكبر شركاء الهيئة العامة للزكاة والدخل ومنذ سنوات عديدة هو شركة ديلويت الأمريكية والتي طالتها فضائح مالية عدة حول العالم وخصوصا في سوق الأسهم السعودية خلال السنوات الماضية.

يلاحظ أيضا من خلال مراجعة التقارير السنوية للهيئة أن التكتم والتجهيل موجود في مختلف تقاريرها السنوية رغم ادعائها الشفافية، حيث إن معظم التقارير السنوية لا تتجاوز صفحة واحدة تحوي رسما بيانيا واحدا ليس غير، رغم أن الإيرادات بحسب هذه التقارير المختصرة تتجاوز عشرات المليارات سنويا، فأين تذهب هذه المليارات؟ لا أحد يعلم!

في هذه الصورة التاريخية والحالية جاء الخبر المذكور سابقا والذي يمكن التعليق عليه مجازا بـ"جباية الزكاة بأثر رجعي" وهي التسمية التي تتناسب مع سياسة ترامب الذي جاء على حصان الكاوبوي لكي ينهب كل ريال يعتبره له ويحاسب السعودية فيسرق الأموال بعقود تمتد لعشرات السنوات في المستقبل بل وأيضا يراجع كل ملفات الحسابات القديمة ويطالب بالتعويض، وما صفقة الـ350 ملياراً ومشهد محاربة الفساد "106 مليار" وضريبة القيمة المضافة ومحاسبة القطاع الخاص على مضاعفات الرسوم الحكومية بأثر رجعي ومشهد محاسبة البنوك والقطاعات التجارية على الزكاة عن سنوات سابقة والكثير من الرسوم والضرائب المستحدثة، كل هذه المشاهد ما هي إلا حلقات مريرة في مسلسل يقوم على تنفيذه وإخراجه ترامب ويقوم بتمثيله سلمان وابنه، وهو ما يستهدف مقدرات الأمة وخيراتها بالإضافة إلى إذلالها واستضعافها.

إن الزكاة والجزية والضريبة كلها مصطلحات جاء الشرع الحنيف بأحكامها التفصيلية الدقيقة؛ فالزكاة حكم شرعي أوجبه الله على المسلمين وأوجب على الدولة الإسلامية أن تجمعه وتنفقه في مصارفه المحددة في الشرع، فهي حق مقدر يجب في أموال معينة وهي من أركان الإسلام الخمسة، وهي تختلف عن الجزية على الكفار والضريبة الشرعية في الإسلام.

إن غياب هذه المصطلحات الشرعية عن واقع الأحكام في زماننا هذا ما كان ليكون لو كانت الدولة الإسلامية قائمة، فمع غيابها غاب مصطلح دار الإسلام ودار الحرب وغاب مصطلح بيت مال المسلمين وغابت معها الكثير من أحكام الإسلام وتفصيلاته، وهو ما يجب على المسلمين استئنافه في الحياة الخاصة والعامة وذلك بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة والتي سوف تكون سياستها المالية مبنية على الأحكام الإسلامية وليس على الأوامر الأمريكية والترامبية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست