الإبادة الجماعية ضد مسلمي الروهينجيا في ميانمار سببها خلل منهجي في النظرية السياسية الغربية وفي مفهوم وممارسات الدولة (مترجم)
الإبادة الجماعية ضد مسلمي الروهينجيا في ميانمار سببها خلل منهجي في النظرية السياسية الغربية وفي مفهوم وممارسات الدولة (مترجم)

الخبر: ذكرت بي بي سي في الثالث عشر من أيلول/سبتمبر 2017 أن: "الزعيمة الحالية لميانمار أونغ سان سو تشي سوف تغيب عن مناقشة رئيسية ....

0:00 0:00
Speed:
September 16, 2017

الإبادة الجماعية ضد مسلمي الروهينجيا في ميانمار سببها خلل منهجي في النظرية السياسية الغربية وفي مفهوم وممارسات الدولة (مترجم)

الإبادة الجماعية ضد مسلمي الروهينجيا في ميانمار سببها خلل منهجي في النظرية السياسية الغربية وفي مفهوم وممارسات الدولة

(مترجم)

الخبر:

ذكرت بي بي سي في الثالث عشر من أيلول/سبتمبر 2017 أن: "الزعيمة الحالية لميانمار أونغ سان سو تشي سوف تغيب عن مناقشة رئيسية للأمم المتحدة الأسبوع القادم مع تزايد الانتقادات حول تعاملها مع أزمة اللاجئين التي تضم الأقلية المسلمة من الروهينجا". حيث فر حوالي 370.000 من الروهينجا إلى بنغلادش منذ 25 آب/أغسطس بسبب الهجمات الوحشية على القرويين المسلمين وقراهم. كما ونفت حكومة ميانمار ادعاءات الأمم المتحدة بأن التطهير العرقي ضد الروهينجا المسلمين هو عمل منظم، بيد أن مراسل بي بي سي تمكن من أن يشاهد مباشرة أحد الأمثلة عن التطهير العرقي. وانتقد تقرير بي بي سي السيدة أونج سان سو تشي التي حصلت على جائزة نوبل للسلام لعدم وقوفها منذ فوزها في الانتخابات للدفاع عن الروهينجا الذين تعرضوا لموجات من التطهير العرقي والتمييز المستمر والاضطهاد على مر السنين. ومع ذلك، تعاطفت بي بي سي مع صعوبتها في الوقوف على الكراهية العنصرية العميقة التي أعربت عنها الأغلبية البوذية لميانمار تجاه الأقلية المسلمة من الروهينجا.

التعليق:

إن الأمر الأبرز في هذه المأساة المستمرة هو أن الأمم المتحدة عهد إليها بمعالجة المشكلة، ولكن جذور المشكلة تكمن في الأسس التي تقوم عليها الأمم المتحدة. وليس من المستغرب أن نقاش وسائل الإعلام هو نقاش سطحي.

كما وتتساءل وسائل الإعلام الغربية عما إذا كان ينبغي تجريد السيدة سو تشي من جائزة نوبل لفشلها في وقف التطهير العرقي وتقليل معاناة الروهينجا. وألقت اللوم على "جبل جليدي ضخم من التضليل" لتشويه حجم المشكلة، على الرغم من أن ما يقرب من 400.000 لاجئ قد فروا إلى بنغلادش المجاورة للانضمام إلى مئات الآلاف من اللاجئين الذين خرجوا خلال جولات سابقة من الإبادة الجماعية. كما ويحتجز العديد من الروهينجا في المنطقة الحدودية التي تحيط بها الألغام التي وضعها الجيش الميانماري لمنع عودتهم بينما غرق آخرون في البحر خلال محاولاتهم اليائسة للهرب داخل قوارب واهية.

وقال الأمين العام للأمم المتحدة أنطونيو غوتيريس "إن الوضع الإنساني كارثي"، وعندما سئل عما إذا كان يحدث هناك تطهير عرقي، قال: "اضطر ثلث سكان [الروهينجا] للفرار من البلاد - هل يمكن أن تجد كلمة أفضل لوصف ذلك؟" ولذلك، فعندما تجتمع الأمم المتحدة في الأسبوع المقبل، سواء أكان ذلك مع السيدة سو تشي أم بدونها، فمن المتوقع أن يتم إلقاء خطابات وكلمات الإدانة، إلى جانب التحذيرات من الأزمة الإنسانية المتزايدة في المخيمات المكتظة في بنغلادش. ويمكن أن يتبع ذلك تعهدات بإمدادات المعونة من بعض الدول الأعضاء. ومع ذلك، فإن أمريكا ودول الاتحاد الأوروبي والصين ستكون صامتة بشكل ملحوظ، ذلك لأن الاقتصاد في ميانمار في طور التحرير، بشكل بطيء، واقتصادات رأس المال الكبرى لا ترغب في إفساد فرص الاستثمار من خلال الضغط على ما يسمونه "الديمقراطية الناشئة الضعيفة". وسيكون هنالك بالتأكيد انتقادات، ولكن سيكون هنالك أيضاً صبر كاف مع ميانمار لإغراق صرخات الإغاثة من الروهينجا، كما وسيصدر القادة الفاسدون في العالم الإسلامي التحذيرات كالمعتاد، دون اتخاذ الإجراءات التي يأمرهم الإسلام بها.

إلا أن المشكلة المعروفة والتي يُغض الطرف عنها هي المفهوم الخطير لـ"الدولة القومية"، الذي يدعم المفهوم الغربي للنظام العالمي كما ويدعم المنظمات، مثل منظمة الأمم المتحدة، المصممة لدعم مثل هذه المفاهيم. إن مفهوم الدولة القائم على أساس "القومية" قد كفل الموت والدمار في جميع أنحاء العالم. فلقد كان هذا المفهوم وراء القوة الدافعة للاشتراكية الوطنية الألمانية التي أدت إلى الحرب العالمية الثانية والإبادة الجماعية في أوروبا؛ وها هو قد ظهر مرة أخرى في أوروبا بعد تفكك الاتحاد السوفياتي وأسفر عن الحرب الأهلية في يوغوسلافيا السابقة والإبادة الجماعية للمسلمين في البوسنة؛ كما وتستغله روسيا في زعزعة الاستقرار في أوكرانيا، وأدى إلى مذبحة شعب التوتسي في رواندا.

وقال الجنرال مين أونج هلينغ رئيس القوات المسلحة في ميانمار إن "شعب الراخين [البوذيين] هم سكاننا الأصليون الذين عاشوا منذ وقت طويل هناك منذ زمن أجدادهم"، وبذلك حدد أصل قومية ميانمار وأكد أنه لا يمكن للبلاد "قبول وتعريف مصطلح "الروهينجا" عن طريق إخفاء الحقيقة". والحقيقة، في رأي الأغلبية الحاكمة البوذية، أن الروهينجا هم مهاجرون غير شرعيين من بنغلاديش. هذه الآراء لا تختلف أساساً عن وجهات نظر الإدارة الأمريكية الحالية في تهديداتها ببناء جدران لمنع المهاجرين المكسيكيين ومطاردة المهاجرين غير الشرعيين من أمريكا من أجل "جعل أمريكا عظمى مرة أخرى". إن القومية كأساس لإقامة الدولة هي بناء فكري مثير للانقسام والتوحش، حيث تسببت في بؤس وانهيار بشري لا نهاية لهما. وبدأت بريطانيا انفصالاً مؤلماً عن الاتحاد الأوروبي بسبب الخوف من إذابة "قوميتها" التي جاءت مع عضوية الاتحاد الأوروبي.

إن الفكر الإسلامي وحده هو القادر على إذابة وتشكيل قوميات مختلفة معاً في وحدة متناغمة ومتقدمة، ومع ذلك فإن المسلمين هم الذين يعانون الآن أكثر من غيرهم من شر هذه النظرية الغربية كأساس للدولة. إن إزالة هذه المفاهيم هي مسؤولية تقع على عاتقنا لتخليص أنفسنا وبقية العالم من هذه المعاناة اللاإنسانية، ولا يمكن للأمم المتحدة أن تفعل ذلك من أجلنا لأنها مبنية على الفكرة ذاتها التي تؤدي إلى البؤس حيث ستدينه بهدوء عندما يتم الاجتماع الأسبوع المقبل.


 

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست