الإبادة الجماعية للروهينجا سوف تستمر ما لم يتم استبدال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بالدولة القومية
الإبادة الجماعية للروهينجا سوف تستمر ما لم يتم استبدال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بالدولة القومية

دخلت الإبادة الجماعية لمسلمي الروهينجا في ولاية راخين الشمالية في ميانمار مرحلة جديدة ومروعة، من الاضطهاد الذي ترعاه الدولة منذ 24 من آب/أغسطس 2017م، حيث بدأ الجيش البورمي المجرم مع الإرهابيين البوذيين المسلحين بالسيوف والمناجل والبنادق بمداهمة قرى المدنيين الأبرياء الروهينجا. ووفقا لرويترز (2 من أيلول/سبتمبر 2017)، فقد تم حرق ما لا يقل عن 2600 مبنى في قرى الروهينجا من قبل جيش ميانمار. وتقدر الأمم المتحدة أن ما يقرب من 60،000 مسلم من الروهينجا هربوا من تصاعد العنف في أسبوع واحد، في محاولة منهم للوصول إلى مكان آمن في بنغلاديش المجاورة.

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2017

الإبادة الجماعية للروهينجا سوف تستمر ما لم يتم استبدال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بالدولة القومية

الإبادة الجماعية للروهينجا سوف تستمر

ما لم يتم استبدال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بالدولة القومية

الخبر:

دخلت الإبادة الجماعية لمسلمي الروهينجا في ولاية راخين الشمالية في ميانمار مرحلة جديدة ومروعة، من الاضطهاد الذي ترعاه الدولة منذ 24 من آب/أغسطس 2017م، حيث بدأ الجيش البورمي المجرم مع الإرهابيين البوذيين المسلحين بالسيوف والمناجل والبنادق بمداهمة قرى المدنيين الأبرياء الروهينجا. ووفقا لرويترز (2 من أيلول/سبتمبر 2017)، فقد تم حرق ما لا يقل عن 2600 مبنى في قرى الروهينجا من قبل جيش ميانمار. وتقدر الأمم المتحدة أن ما يقرب من 60،000 مسلم من الروهينجا هربوا من تصاعد العنف في أسبوع واحد، في محاولة منهم للوصول إلى مكان آمن في بنغلاديش المجاورة.

التعليق:

باسم "عملية تطهير المنطقة" قام الجيش في بورما بقمع عسكري هو الأكثر فتكًا على مدى عقود، وذلك ردًا على هجوم المتمردين "المشبوه" على مراكز شرطة ميانمار ومخافرها الحدودية، بعد أن أُعلن عن تورط جميع سكان الروهينجا - بمن فيهم النساء والأطفال - في هذا الهجوم! وعلى الرغم من عدم وجود أدلة على أن المهاجمين هم من المسلمين الروهينجا، فقد تم استهدافهم جميعًا على أنهم "متطرفون" يتعين محوهم من على وجه الأرض!

وفقًا للبيان الرسمي للجيش الميانماري الذي صدر في الثاني من أيلول/سبتمبر 2017م فإن ما يقرب من 400 مسلم قتلوا في الأسبوع الماضي - مع أننا نعلم بأن الرقم الفعلي هو بلا شك أكبر من ذلك بكثير - والأعداد في تصاعد مع مرور كل يوم. بعض الذين فروا من الاضطهاد سردوا التجارب الشنيعة التي تعرض لها الروهينجا من قبل جيش النظام ومليشيا راخين البوذية، حيث منهم من تم عصب أعينهم وذبحهم جماعيًا أمام أفراد أسرهم، كما تتعرض النساء والفتيات الصغيرات للاغتصاب الجماعي، إضافة إلى قتل الأطفال الصغار - حتى حديثي الولادة منهم - وطرحهم في البحيرات أو قطع رؤوسهم، ولا حول ولا قوة إلا بالله! وقد كشفت صور الأقمار الصناعية التابعة لغوغل عن حرائق واسعة النطاق لقرى الروهينجا، حيث قام جيش ميانمار بحرق أكثر من 2600 بيت، ولرش الملح على الجروح، قام جيش ميانمار بإطلاق قذائف الهاون والمدافع الرشاشة على المدنيين الهاربين من سفك الدماء صوب الحدود البنغالية.

وسط هذه الفظائع المروعة، ووسط تعاظم المشاعر الإسلامية الغاضبة، سجلت حكومة بنغلادش موقفًا خيانيًا جديدًا بحق المسلمين الروهينجا، فبدلًا من توفيرها الملجأ الآمن للناجين، أمرت الخائنة حسينة قواتها الأمنية الحدودية بإعادتهم إلى ذلك الجحيم أو إغراقهم في خليج البنغال، أما الذين استطاعوا الوصول إلى بنغلادش فلم يُسمح لهم التجول في الإقليم. منذ يوم السبت الماضي (2017/08/26م)، فرّ بالفعل حوالي 38,000 لاجئ من روهينجا إقليم الراخين نحو بنغلادش، وتقطعت السبل بأكثر من 20,000 فرد في المنطقة الحدودية، ولم تبدِ حكومة حسينة أي رحمة لهم، وهم يفترشون الأرض ويلتحفون السماء ويستظلون بألواح بلاستيكية من حرارة الشمس الحارقة أو الأمطار الموسمية، دون طعام، وحتى المحظوظون منهم ممن تمكنوا من دخول الأراضي البنغالية فإنهم يتعرضون لمعاملة لا إنسانية من قبل الحزب الحاكم البنغالي (حزب رابطة عوامي) المجرم، وتفيد التقارير التي نُشرت في بعض وسائل الإعلام الرئيسية أنه تم نهب حلي النساء والحيوانات وحتى أدوات المطبخ الأساسية الخاصة بالفارين من قبل نقابات الحزب الحاكم الذين تمكنوا من الوصول إلى مخيمات اللجوء.

لم تكتفِ حكومة حسينة بهذا المستوى من الغدر والدناءة والخيانة، بل زادت على ذلك بتقديم اقتراح القيام بعمليات "مكافحة الإرهاب" مشتركة مع قوات ميانمار للقيام بأعمال الإبادة الجماعية للمسلمين الروهينجا! ففي يوم الاثنين (28 من آب/أغسطس 2017م) أرسلت وزارة الخارجية البنغالية اقتراحًا رسميًا لسفارة ميانمار في دكا معربة عن اهتمام بنغلادش بمساعدة جيش ميانمار الذي ذبح إخواننا وأخواتنا هناك! هذه الحكومة يقلقها أمن ميانمار ولا تولي أي اهتمام لمحنة أكثر من مليون مسلم من المضطهدين الروهينجا الذين يشهدون أسوأ التطورات المأساوية في الأيام القليلة الماضية.

لم يقلّ بقية حكام المسلمين خيانة عن حسينة، فبعيدًا عن اكتفاء حكام المسلمين بتحريك شفاههم، فإنهم لم يحركوا ساكنًا لوقف جرائم الإبادة الجماعية هذه، فمثلًا أعرب المتحدث الرسمي باسم وزارة الخارجية الإيرانية (بهرام قاسمي) عن قلقه العميق إزاء استمرار الحملة العسكرية ضد المسلمين الروهينجا، وكل الذي قام به أردوغان في تركيا هو اتهام ميانمار بالإبادة الجماعية، وكأن ذلك لم يكن واضحًا! تعتبر الشيخة حسينة الروهينجا تهديدًا محتملًا لأمن بنغلادش، وبالتالي فإنها تتجاهل محنتهم.

إن المسلمين المضطهدين ليس لديهم مأوى من إرهاب الكفار، والحل الوحيد لهذه الأزمة هو التخلص من حكام البلدان الإسلامية، واستبدال قيادة مخلصة وشجاعة بهم، في ظل خلافة راشدة على منهاج النبوة، فهي وحدها القادرة على توحيد المسلمين مرة أخرى، وإيجاد قيادة شجاعة في البلاد الإسلامية، من شأنها ضمان حماية أعراض المسلمين وغيرهم من الرعايا. ﴿فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا * إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا * وَنَرَاهُ قَرِيبًا﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عماد الدين الأمين

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست