الإنجليز: "الإمارات بلد متوحش ولكنه مصدر خبزنا"
الإنجليز: "الإمارات بلد متوحش ولكنه مصدر خبزنا"

الخبر:   نقلا عن بي بي سي؛ ما نشرته صحيفة صنداي تايمز يوم 2018/11/25 من مقال لكاتب بريطاني اسمه رود ليدل بعنوان: "الإمارات بلد متوحش سوقي ولكن يجب أن نبقيه حليفا لنا" ويقول إن "معظم حلفاء بريطانيا غير الأوروبيين وغير الأمريكيين دول سيئة ليس في وسعها الاختيار حالها حال غيرها من الدول". وقال: "يمكننا أن ندعو للتغيير في السعودية والإمارات، ولكن علينا أن نعلم أنهما مصدر خبزنا".

0:00 0:00
Speed:
November 28, 2018

الإنجليز: "الإمارات بلد متوحش ولكنه مصدر خبزنا"

الإنجليز: "الإمارات بلد متوحش ولكنه مصدر خبزنا"

الخبر:

نقلا عن بي بي سي؛ ما نشرته صحيفة صنداي تايمز يوم 2018/11/25 من مقال لكاتب بريطاني اسمه رود ليدل بعنوان: "الإمارات بلد متوحش سوقي ولكن يجب أن نبقيه حليفا لنا" ويقول إن "معظم حلفاء بريطانيا غير الأوروبيين وغير الأمريكيين دول سيئة ليس في وسعها الاختيار حالها حال غيرها من الدول". وقال: "يمكننا أن ندعو للتغيير في السعودية والإمارات، ولكن علينا أن نعلم أنهما مصدر خبزنا".

التعليق:

هذه هي عقلية الغربيين النفعيين، عقلية مستعمرين متوحشين، فلا يهمهم إلا تأمين مصالحهم، بل نهب ثروات الآخرين. فهم لا تهمهم ديمقراطيتهم في سبيل مصالحهم، ولا ينادون بما تمليه عليهم ديمقراطيتهم بإجراء انتخابات للقيام بعملية تداول السلطة والانتقال إلى التعددية الحزبية وإطلاق الحريات السياسية! حتى لا تبقى عائلة تحتكر السلطة وتستأثر بالثروة منذ أن نصبها المستعمر البريطاني على الحكم في الإمارات والسعودية وغيرها من دول الخليج مقابل أن تخدم المصالح البريطانية. ولذلك قال في مقالته: "يمكننا أن ندعو للتغيير في السعودية والإمارات، ولكن علينا أن نعلم أنهما مصدر خبزنا". فديمقراطيتهم الفاسدة التي يتلاعبون بها وحرياتهم السياسية التي يتشدقون بها ليست مهمة إذا كانت هناك مصلحة أكبر منها، لأن النفعية هي مقياس الأعمال لدى الرأسماليين الديمقراطيين الذين رائحتهم تزكم الأنوف.

ولا تهمهم الإنسانية وأرواح الناس وحقوق الإنسان التي يتشدقون بها أيضا ولا معاهداتهم التي أقروها مثل معاهدة فينّا عام 1961 المتعلقة بأعمال السفارات والقنصليات التي يجب ألا تكون معتقلا سياسيا أو مفرمة للمعارضين وتقطيع جثثهم، فيدوسونها إذا كانت هناك مصلحة أكبر من ذلك. فقال في مقالته بكل وقاحة: "إن أمريكا محقة في عدم فرضها عقوبات على السعودية بسبب مقتل الصحفي السعودي جمال خاشقجي، لأنه يضر بمصالح أمريكا". ولذلك يرى أن "فرض العقوبات على الإمارات بشأن البريطاني الذي أدين بالتجسس مبرر، ولكنه في غير محله". أي أنه يجب فر ض العقوبات من أجل مقتل صحفي أو اعتقال بريطاني، ولكنه يضر بمصالح المستعمرين، فلا تفرض مهما كانت مبررة، لأن مقياس الأعمال هو النفعية وتحقيق المصلحة وليس الإنسانية والدفاع عن رعاياهم إذا كانت هناك مصلحة أكبر.

وقام يكشف وضع الإمارات بأنها عميلة لبريطانيا وتقدم الخدمات لها فقال في مقالته: "إن الإمارات أيضا ضرورية وحيوية تماما لبريطانيا، فهي حليف في منطقة مضطربة في العالم، وهي رابع أكبر سوق للسلع البريطانية في العالم خارج الاتحاد الأوروبي حيث تبلغ واردات الإمارات من بريطانيا نحو 10 مليارات جنيه إسترليني في العام". فهو يفضح واقع الإمارات من دون إعطاء أية قيمة لها؛ بأنها "حليف لبريطانيا" أي عميلة لها وموالية للكفار، وهي سوق مهمة جدا للمنتوجات البريطانية، فهذا ما تريده بريطانيا. ومعنى قوله "منطقة مضطربة" أنها منطقة يعمل أهلها على التحرر من ربقة المستعمرين البريطانيين والأمريكيين وغيرهم، فقد ثاروا على عملائهم في المنطقة كلها، فيعملون على إسقاطهم وإسقاط أنظمتهم التي هي الأداة المحلية للمستعمرين.

 ويظهر صلف الغربيين وتغطرسهم وسوء أخلاقهم والاستهزاء بالبلد الحليف لهم وإهانتها واحتقارها وعدم الاكتراث بأهلها وبدينهم وبثقافتهم لأنهم متعالون فيقول: "إن العمالة الأجنبية (الغربية) مرفهة بسياراتهم الفارهة وأجورهم المرتفعة والمعفاة من الضرائب، وأحيانا يتمرد هؤلاء الأجانب (الغربيون) على الأعراف الثقافية للإمارات فيتبادلون القبلات على الشاطئ مثلا".

 ويتمادى في احتقار عملاء الغربيين وأوليائهم فيقول إن "معظم حلفاء بريطانيا غير الأوروبيين وغير الأمريكيين دول سيئة، ليس في وسعها الاختيار حالها حال غيرها من الدول". فالغربيون يحتقرون الآخرين بمن فيهم عملاؤهم ويعتبرونهم سيئين. فلا يكترثون من ردة فعل العملاء في الإمارات ولا في أي بلد إسلامي إن حدث وأظهروا ردة فعل وهي غير منتظرة من عملاء أذلاء! فقد أهان الرئيس الأمريكي ترامب حكام آل سعود ونظامهم وكرر الإهانة لهم مرات، وقال لولا أمريكا لما بقوا مدة أسبوعين في الحكم، ويضع على صدر ولي عهدهم المجرم ابن سلمان إعلاناً عن صفقات للبيع للسعودية، ومع ذلك يضحك ولي العهد كالأبله! ويهين أردوغان بأن يأمره عبر تويتر أن يطلق سراح قس أمريكي، فيطلقه عبر عملية قضائية خداعية، علما أنه، أي أردوغان، قال لن أطلق سراح القس الأمريكي ما دمت حيا، وكذلك رأينا كيف أهان بوتين بشار أسد عندما دعاه إلى القاعدة الروسية حميميم وترفع أن يزوره في قصره بدمشق... والمقال لا يتسع لذكر ما تعرض له العملاء من ذل وإهانة على يد أسيادهم وأوليائهم.

فالغربيون من بريطانيين وأمريكيين وفرنسيين وبجانبهم الروس أقاموا هذه الدول السيئة في العالم الإسلامي، أقاموها سيئة؛ حتى تبقى مرتبطة بهم وخادمة لهم وسوقا لبضائعهم ومصدر خبزهم. فقال الكاتب البريطاني بكل وقاحة وصلف تعبيرا عن حال كل الغربيين "الإمارات بلد متوحش سوقي"، وقال عنها وعن السعودية: "علينا أن نعلم أنهما مصدر خبزنا". ونصبوا عليها حكاما سيئين أذلاء حتى يبقوا خُدّاما عملاء مهما أهانهم سيدهم المستعمر، فيطأطئون رؤوسهم له قائلين: أمرك سيدي! فالعميل ذليل خسيس، لأنه باع دينه ليعمل لحساب عدو أمته مقابل متاع دنيوي زهيد، ولذلك وصفه رسول الله r بالرويبضة أي الرجل التافه الذي يتكلم بأمر العامة. فالعدو يعرف نفسية العميل بأنه تافه، يتلهف ويلهث وراءه، لأنه محتاج له للحصول على كرسي معوج وسلطة منقوصة خانعة، فلا يهم العميل إلا أن يجلس على هذه الكرسي ويستبد بقومه وأمته مشبِعاً نهمه في حب الجاه وجمع المال.

ومن هنا فلا سبيل للأمة إلا إسقاط هؤلاء الرويبضات العملاء، لأنهم هم الأداة المحلية المهمة لتثبيت المستعمر في بلادنا، وتمكينه من نهب ثرواتنا، ومنعنا من التحرر من ربقة المستعمر، وعرقلة تحقيق نهضتنا عن طريق إقامة حكم ديننا الحنيف متجسدا في خلافة راشدة على منهاج النبوة. فهم أشباه المنافقين الذين قال الله تعالى فيهم: ﴿وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست