الإرهاب الأمريكي هو الذي حوّل أفغانستان إلى مختبر!
الإرهاب الأمريكي هو الذي حوّل أفغانستان إلى مختبر!

الخبر: قال دونالد ترامب، في مقابلة بثتها قناة فوكس نيوز يوم الاثنين، إن قلقه من سحب القوات الأمريكية من أفغانستان هو أن البلاد ستتحول إلى مختبر للإرهابيين. خلال المقابلة، وصف أفغانستان بأنها "هارفارد للإرهابيين"، مضيفاً أنه "حتى لو أزالت الولايات المتحدة قواتها، فستترك وجوداً استخبارياً قوياً للغاية في أفغانستان". وذكر أيضاً أن المسؤولين العسكريين الأمريكيين أخبروه بأنه سيكون من الأفضل محاربة الإرهابيين في أفغانستان بدلا من موطنهم.

0:00 0:00
Speed:
July 09, 2019

الإرهاب الأمريكي هو الذي حوّل أفغانستان إلى مختبر!

الإرهاب الأمريكي هو الذي حوّل أفغانستان إلى مختبر!
(مترجم)


الخبر:


قال دونالد ترامب، في مقابلة بثتها قناة فوكس نيوز يوم الاثنين، إن قلقه من سحب القوات الأمريكية من أفغانستان هو أن البلاد ستتحول إلى مختبر للإرهابيين. خلال المقابلة، وصف أفغانستان بأنها "هارفارد للإرهابيين"، مضيفاً أنه "حتى لو أزالت الولايات المتحدة قواتها، فستترك وجوداً استخبارياً قوياً للغاية في أفغانستان". وذكر أيضاً أن المسؤولين العسكريين الأمريكيين أخبروه بأنه سيكون من الأفضل محاربة الإرهابيين في أفغانستان بدلا من موطنهم.

التعليق:


في الوقت الحاضر، يجب أن يكون قد ثبت للعالم بشكل قاطع أن "الإرهاب والإرهاب المخطط" ينبع بشكل غريزي داخل الحمض النووي لأمريكا. أولئك الذين ما زالوا لا يصدقون هذه الحقيقة الواضحة، أدعوهم إلى التحقيق مرة أخرى في تاريخ أمريكا، ومن ثم سيدركون بوضوح كيف قام الأمريكيون بإبادة أكثر من 100 مليون من الهنود الأمريكيين الأصليين، وكيف حولوا هيروشيما وناغازاكي إلى رماد في الحرب العالمية الثانية باستخدام القنابل الذرية، التي تسببت، بالإضافة إلى قتل أكثر من 220 ألف شخص، في معاناة مئات الآلاف من أمراض حادة.


خلال الحرب العالمية الثانية، شنت القاذفات الثقيلة التابعة للقوات الجوية الأمريكية 3900 طن من القنابل على مدينة دريسدن في ألمانيا، وأسقطت قنابل النابالم خلال أربع هجمات قوية أدت إلى تدمير كامل لمساحة 34 كم2 من دريسدن في أقل من 15 ساعة. كتب إرهارد موندرا، عضو لجنة بوتزان (رابطة السجناء السياسيين السابقين في جمهورية ألمانيا الديمقراطية) أنه وفقاً لما قاله المقدم د. ماتيس، الضابط السابق في الأركان العامة في الجيش الألماني في مقاطعة دريسدن، "كان هناك 35 ألف ضحية تم تحديدها بشكل كامل، و50 ألف شخص آخر جزئياً، في حين لم يتم التعرف على 168 ألف ضحية أخرى على الإطلاق".


لا يمكن للمرء أن ينسى تورط أمريكا في مذبحة 3 ملايين فيتنامي خلال الفترة 1955- 1975 التي كانت تسقط 500 ألف قنبلة سنوياً على فييتكونغ وحرق الغابات والأراضي الزراعية والبشر من خلال استخدام الأسلحة الكيميائية والنابالم. في الخمسينات من القرن المنصرم، قتلت أمريكا مئات المدنيين الكوريين. وخلال العقدين الماضيين، قتلت أكثر من مليوني مسلم في البلاد الإسلامية. هل تعلم أن أمريكا تتلاعب بالأزمات وتتآمر على الإرهاب حتى الآن في أمريكا اللاتينية حتى تمهد الطريق لتدخلها السياسي في تلك البلدان؟


إن التدابير الإرهابية التي اتخذتها أمريكا وحلف الناتو هي التي حوّلت أفغانستان إلى مسرح للإرهاب للعالم بأسره. لا بد أن يكون ترامب قد نسي بشكل لا لبس فيه استخدام عبارة "أفغانستان، هارفارد الإرهابيين الأمريكيين" خلال خطابه لأن الحرب الأفغانية ساعدت بشكل كبير على توسيع قدرة الجنرالات الأمريكيين إلى حد ما حيث إن بعضهم قد حصل على مناصب عليا في البنتاجون، ووكالة المخابرات المركزية، وغيرها من المكاتب الحكومية رفيعة المستوى في أعقاب تجاربهم في شن الحرب وإراقة دماء المسلمين الأفغان.


كما يحاول الدجال باستمرار تشويه الحقيقة؛ فإن ترامب، أحد أبرز دجالي العصر، يفعل ذلك أيضاً. إن الخطاب غير المسؤول الذي ألقاه مؤخراً والذي يشير إلى أن أفغانستان ستتحول إلى "مختبر للإرهابيين" بعد انسحاب القوات الأمريكية يعد خداعا وتشويها بالكامل. لأن أفغانستان قد تحولت بالفعل إلى مختبر لاستراتيجيات أمريكا العسكرية والسياسية الفاشلة وكذلك للاستخدام المميت للأسلحة، وبالتحديد أم القنابل من الإرهابيين الأمريكيين والغربيين؛ كما حدث خلال الـ18 عاماً الماضية، حيث تلاعبت القوات الأمريكية بمثل هذه الفظائع في أفغانستان والتي أدت إلى مقتل وجرح أكثر من نصف مليون شخص، وتسببت في موت مئات الآلاف من الأفغان الذين فروا من البلاد وغرقوا في البحار من أجل طلب اللجوء في المخيمات الأوروبية. خلال وجودها في أفغانستان، جربت أمريكا أنواعاً مختلفة من الأسلحة الخفيفة والثقيلة والتكتيكات العسكرية على شعب أفغانستان الذي لا حول له ولا قوة.


خطاب ترامب الأخير في خضم محادثات السلام الجارية بين أمريكا وحركة طالبان ينقل رسالة واضحة، لكنها وهمية تماماً، وهي أن أمريكا، بعد عقدين من ذبح الشعب وتدمير مدن وقرى أفغانستان، تسعى مرة أخرى لتأمين أدوارها الواضحة والنفوذ من أجل تعزيز شبكات الاستخبارات والمرتزقة في المستقبل السياسي لأفغانستان.


لكن على المجرمين الأمريكيين والغربيين، بمن فيهم ترامب، كبير الإرهابيين، أن يفتحوا أعينهم وأن يدركوا أن الأمة الإسلامية تقترب من فجر متألق. إن قضية أفغانستان، مثلها مثل أي قضية أخرى في بلاد المسلمين المحتلة، لا يتم حلها من خلال المصالحة والحوار مع المحتلين، ولكن حلها سيكون فقط إذا توحدت جميع البلاد الإسلامية مرة أخرى في ظل الخلافة الراشدة القائمة قريبا بإذن الله. ﴿إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سيف الله مستنير
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست