الإرهاب بقيادة أمريكا ينتشر إلى روسيا وآسيا الوسطى! (مترجم)
الإرهاب بقيادة أمريكا ينتشر إلى روسيا وآسيا الوسطى! (مترجم)

الخبر: قال رئيس لجنة الحدود الطاجيكية مير علي رازقوف إنه في أواخر عام 2016 اجتمع المسؤولون العسكريون من دولة أجنبية مع الجماعات المسلحة الأفغانية فى سبع مقاطعات شمالية. وأضاف رازقوف: "في تشرين الثاني/نوفمبر 2016، قامت السلطات العسكرية في بلد أجنبي، في رحلة غير رسمية، بزيارة مقاطعات بدخشان وتاخار وقندوز وبلخ وباجلان وسار بول وفارياب للحديث مع كبار قادة المجموعات الإرهابية". ولم تذكر لجنة الحدود الطاجيكية اسم البلد، ولكنها أكدت أن دعم بعض البلدان سيعزز وجود هذه الجماعات المسلحة في شمال أفغانستان. (صحيفة وايسا اليومية)

0:00 0:00
Speed:
April 09, 2017

الإرهاب بقيادة أمريكا ينتشر إلى روسيا وآسيا الوسطى! (مترجم)

الإرهاب بقيادة أمريكا ينتشر إلى روسيا وآسيا الوسطى!

(مترجم)

الخبر:

قال رئيس لجنة الحدود الطاجيكية مير علي رازقوف إنه في أواخر عام 2016 اجتمع المسؤولون العسكريون من دولة أجنبية مع الجماعات المسلحة الأفغانية فى سبع مقاطعات شمالية. وأضاف رازقوف: "في تشرين الثاني/نوفمبر 2016، قامت السلطات العسكرية في بلد أجنبي، في رحلة غير رسمية، بزيارة مقاطعات بدخشان وتاخار وقندوز وبلخ وباجلان وسار بول وفارياب للحديث مع كبار قادة المجموعات الإرهابية". ولم تذكر لجنة الحدود الطاجيكية اسم البلد، ولكنها أكدت أن دعم بعض البلدان سيعزز وجود هذه الجماعات المسلحة في شمال أفغانستان. (صحيفة وايسا اليومية)

التعليق:

في هذه الأيام مسألة مؤتمر موسكو حول أفغانستان وعلاقة روسيا مع طالبان في مهب الريح. فقد رفضت أمريكا وجودها في مؤتمر موسكو الذي يتعلق بأفغانستان. وأعلن حلف شمال الأطلسي "الناتو" تأييده لعملية السلام التي تقودها أفغانستان. وهكذا، فإن مسؤولي أمريكا وإعلامها يقوضون بشدة جهود روسيا. إن انتقاد أمريكا يكشف أن الجهد الذي تبذله روسيا سيجلب محنة شديدة في المنطقة.

ومع ذلك، كما لو أن المنطقة تم الحفاظ عليها تماما آمنة وسلمية ومزدهرة بوجود أمريكا والناتو. فعلى مدى العقد ونصف العقد الماضي، لم يتوقف قتل المسلمين والقصف، وأنواع مختلفة من الجرائم بذريعة "الحرب ضد الإرهاب".

لقد أثبتت المعركة التي دامت 16 عاما للجميع أن القتال المستمر والقصف والقتل والتعذيب والضرب بالطائرات بدون طيار وسجن الأشخاص في باغرام وغوانتانامو وسجون سرية أخرى تابعة لوكالة الاستخبارات المركزية لم يقتصر على تفوق ظاهرة "الإرهاب" فحسب، بل هو أيضا خطة مدروسة.

يجب أن يكون واضحا بأن أمريكا ومنظمة حلف شمال الأطلسي يستخدمون ظاهرة "الإرهاب" كمؤامرة ناجحة للحفاظ على مصالحهم الاستعمارية؛ وكلما أدركوا أن الناس سيكتشفون كذبهم ومؤامراتهم، فإنهم ينشئون جماعات مسلحة جديدة من خلال حكوماتهم الدمى وأجهزة الاستخبارات الإقليمية لخداع الرأي العام، وتشويه سمعة الإسلام ونظامه، فضلا عن تدمير ثقة الأمة بالحركات الإسلامية الحقيقية. وأخيرا، فإن أمريكا تستخدم ظاهرة "الإرهاب" برمتها لتحقيق أهدافها الاستعمارية في المنطقة. ويمكن اعتبار بيان رئيس لجنة الحدود الطاجيكية، مير علي رازقوف، سببا وجيها لهذه المؤامرات.

والجدير بالذكر أنه في ظل هذا الوضع، قال عميل أمريكا الدمية زلماي خليل زاد في مقابلة مع "صوت أفغانستان": "إن هزيمة داعش "مطلقة في العراق وسوريا"، وانعدام السيطرة من قبل حكومة أفغانستان في جميع أنحاء البلاد ستسمح لهذه المجموعة بأن تعلن أفغانستان كمركزها القادم". وأضاف بأن روسيا يجب أن تعمل مع أمريكا والدول الغربية الأخرى للحفاظ على السلام والاستقرار في أفغانستان.

إن الجهد المشترك لروسيا مع أمريكا والغرب لا يمكن اعتباره مكافأة على الخدمات التي قامت بها روسيا في سوريا وليبيا مع أمريكا لأن حالة أفغانستان مختلفة جدا. فقد احتلت أمريكا أفغانستان، ومن ثم وقعت على اتفاقات استراتيجية وأمنية مع دُماها في أفغانستان للحصول على قواعد عسكرية لها. وتدير أمريكا عن كثب أهدافها الاستخبارية والأمنية من خلال أفغانستان في المنطقة. وهكذا فإن الولايات المتحدة تسعى لمصالحها الاستعمارية خارج أفغانستان، وهذا هو السبب في أنها تركت شمال أفغانستان غير مؤمّنة. إذا كانت روسيا لا تقبل شروط أمريكا، فإنه سيتحول انعدام الأمن وعدم الاستقرار إلى آسيا الوسطى، التي تعتبر "منطقة خاصة وحيوية" لروسيا. وتحت ذريعة مكافحة (الإرهاب)، ستتواصل أمريكا مع هذه الدول.

لهذا السبب، تآمرت أمريكا لإثارة واستفزاز السياسة ضد روسيا من خلال أفغانستان. لإبعاد روسيا عن الصين، حتى تأتي مع حلف أمريكا. بالتالي، سهلت فرصة استعمار موارد بلدان آسيا الوسطى، وستمهد الطريق لزيادة الأفكار والثقافة الغربية في تلك البلدان.

وقال وزير الخارجية الأمريكي ريكس تيلرسون في مجلس الدول الأعضاء في حلف الناتو: "من الواضح أننا نريد إجراء مناقشة حول الوضع حول موقف الناتو هنا في أوروبا، وعلى الأخص في أوروبا الشرقية ردا على العدوان الروسي في أوكرانيا وأماكن أخرى"، وأضاف: "وجود حلف شمال الأطلسي ضروري "للتعامل مع الاستفزاز غير العنيف لروسيا، بل وأحيانا حتى الاستفزازات العنيفة والعدوانية". وعلى النقيض من بيانه، أعربت وزارة الخارجية الروسية عن "احتقارها" فى رسالة على موقعها الرسمى على الإنترنت "نأسف بأن نلاحظ أن هذا التقييم أعلن في اليوم التالي لاجتماع مجلس روسيا مع الناتو، على مستوى الممثلين الدائمين".

وبعد المتابعة المستمرة للحوادث في البلاد الإسلامية، يمكننا جميعا أن نقول إن سلطة ونفوذ أي دولة محتلة لن تحل مشاكل هذه البلاد. مهما كان ما وضعه عملاء أمريكا في عقول الناس من خلال وسائل الإعلام فإنه هراء وسوف يسبب الكوارث الأبدية. الحلول هي بمحاربة الثقافة الغربية ونظامها الفاسد سياسيا وفكريا. وبالتالي، يجب على المسلمين الوقوف ضد كل هذا والوفاء بالتزامهم. من خلال إدراك واجبنا الرئيسي والدعوة إلى الإسلام، سيكون لدينا دولة إسلامية اليوم وليس مستقبلا. دولة يطبق فيها الإسلام ويطرد منها المستعمرون فورا من جميع البلاد الإسلامية تحت الأعلام الإسلامية؛ الراية واللواء، فإن البشرية جمعاء ستتحرر من قمع النظام الفاسد الذي صنعه الإنسان.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست