الإرهاب تصنعه أمريكا، وكفاحه بطرد رجالها من مصر والانعتاق من تبعيتها
الإرهاب تصنعه أمريكا، وكفاحه بطرد رجالها من مصر والانعتاق من تبعيتها

الخبر:   نقلت جريدة المصري اليوم الجمعة 2018/2/16م، عن المتحدث الرسمي للرئاسة أن قائد القيادة المركزية الأمريكية أشاد بقوة ومتانة العلاقات العسكرية بين البلدين، مشيراً إلى حرص بلاده على استمرار تطوير علاقات الشراكة مع مصر وتعزيز التعاون معها، مثمناً الجهود التي تبذلها مصر في مكافحة (الإرهاب) باعتباره تحدياً مشتركاً يواجه البلدين والعالم، ومشيداً بمحورية دور مصر في المنطقة، وجهودها في تعزيز الأمن والاستقرار الإقليميين، وذكر أن اللقاء تركز حول الدفع والارتقاء بالتعاون العسكري بين مصر والولايات المتحدة، وكذلك التطرق إلى آخر التطورات العسكرية والسياسية على الصعيد الإقليمي، في ضوء الأزمات القائمة بعدد من دول المنطقة.

0:00 0:00
Speed:
February 18, 2018

الإرهاب تصنعه أمريكا، وكفاحه بطرد رجالها من مصر والانعتاق من تبعيتها

الإرهاب تصنعه أمريكا،

وكفاحه بطرد رجالها من مصر والانعتاق من تبعيتها

الخبر:

نقلت جريدة المصري اليوم الجمعة 2018/2/16م، عن المتحدث الرسمي للرئاسة أن قائد القيادة المركزية الأمريكية أشاد بقوة ومتانة العلاقات العسكرية بين البلدين، مشيراً إلى حرص بلاده على استمرار تطوير علاقات الشراكة مع مصر وتعزيز التعاون معها، مثمناً الجهود التي تبذلها مصر في مكافحة (الإرهاب) باعتباره تحدياً مشتركاً يواجه البلدين والعالم، ومشيداً بمحورية دور مصر في المنطقة، وجهودها في تعزيز الأمن والاستقرار الإقليميين، وذكر أن اللقاء تركز حول الدفع والارتقاء بالتعاون العسكري بين مصر والولايات المتحدة، وكذلك التطرق إلى آخر التطورات العسكرية والسياسية على الصعيد الإقليمي، في ضوء الأزمات القائمة بعدد من دول المنطقة.

التعليق:

قبل أيام استقبل الرئيس المصري وزير الخارجية الأمريكي ريكس تيلرسون، والذي أكد بحسب بيان الرئاسة المصرية ما تمثله مصر من شريك مهم لأمريكا، وما يجمعهما من علاقات ممتدة تحرص أمريكا على تعزيزها وتطويرها، ووقوف بلاده إلى جانب مصر والتزامها بدعمها في حربها ضد (الإرهاب)، في المقابل، أكد السيسي أهمية الروابط بين البلدين من علاقات استراتيجية راسخة، مشيراً إلى أهمية الاستمرار في العمل على الارتقاء بها في مختلف المجالات بما يمكن البلدين من التصدي للتحديات المشتركة التي تواجههما، واستعرض السيسي ما وصفه بـ"جهود مصر لمكافحة (الإرهاب) بشكل شامل والقضاء عليه"، وذلك بـ"التوازي مع مساعي تحقيق التنمية الاقتصادية والاجتماعية"، مشيراً إلى تطلع مصر لتطوير التعاون الاقتصادي بين الدولتين وزيادة الاستثمارات الأمريكية في البلاد.

منذ أن حكم عسكر أمريكا مصر وهم يرددون على مسمع الناس نغمة حرب (الإرهاب) والتي نعرف أنها في مقصود الغرب هي حرب الإسلام. فالإسلام بما فيه من قوة مبدئية هو الخطر الحقيقي الذي يهدد وجودهم ويؤذن بإيقاف نهبهم لثروات وخيرات الأمة الهائلة، وفوق هذا فهم على الحقيقة مَنْ صنع الإرهاب ورعاه، وما حدث من مجازر مع الهنود الحمر يشهد به التاريخ، وما يحدث الآن في العراق واليمن وأفغانستان وليبيا وكل مناطق الصراع سواء أكان هذا الصراع بينهم على مناطق النفوذ وتقاسمها أم بينهم وبين الأمة لمحاولة تركيعها كما يحدث مع أهل الشام، فالإرهاب الذي يحاولون إلصاقه بالأمة هم أصله وفصله وصانعوه وأمه وأبوه، ولا غرابة في محاولات وصفهم للإسلام بـ(الإرهاب) فشيمتهم الكذب وهم الذين يقولون (نكذب ثم نكذب ثم نكذب حتى يصدق الناس الكذب)، لكن الغريب أن يصير هذا الوصف يخرج من أفواه أبناء أمتنا حتى لو كانوا من العملاء المضبوعين.

لقد طُبق الإسلام في ظل دولة تحمله لما يزيد عن ثلاثة عشر قرنا من الزمان فلم نسمع يوما عن محاكم للتفتيش أقامها حكام المسلمون لتعذيب المخالفين ولم نسمع عن أحد دخل هذا الدين مُكرهاً فضلا عن تحريم إكراه الناس على دخول الإسلام، بل سمعنا عن الأديرة التي اختبأ فيها قساوسة مصر من بطش إخوانهم الروم المخالفين لهم في المذهب ولم يؤمّن لهم عبادتهم إلا الإسلام ودولته، ولو كان الإسلام كما يدعي الغرب ويردد العملاء والمضبوعون لما تبقى في مصر نصراني واحد بل إن وجودهم يثبت عدل الإسلام والإسلام غني عن ذلك، ولم نسمع عن الإرهاب ولم نر قتلا وترويعا للآمنين إلا بعد غياب دولة الإسلام وفي ظل حكم الرأسمالية، فسمعنا ورأينا طائرات تقصف الشعوب بالقنابل العنقودية والفسفورية وغيرها من أعتى أنواع الأسلحة حتى المحرم منها دوليا، ثم يتشدقون علينا بصراع طواحين الهواء التي يسمونها حرب (الإرهاب) الذي يصنعه الإسلام المتشدد!!

يا أهل مصر الكنانة! لقد عشتم في ظل الإسلام ودولته قرونا نعمتم فيها كل النعيم ولم تشهدوا فقرا وتجويعا وقهرا وترويعا إلا في ظل الرأسمالية التي حملها لكم الغرب وعلى رأسه أمريكا، ولا نجاة لكم إلا برد بضاعته إليه واقتلاع كل رجاله وعملائه من الحكام والساسة الخونة والمضبوعين والانعتاق من تبعيته بالكلية، وهذا لن يكون إلا بحمل مبدأ مغاير يعرفه ويخشاه أكثر من معرفتكم وهو بين أيديكم يحمله لكم حزب التحرير ويدعوكم لحمله معه ليل نهار، وهو وحده الكفيل بالقضاء على أمريكا وإرهابها وإيقاف نهبها لثروات الأمة وخيراتها، والأمر لا يحتاج منكم لكثير جهد بل يحتاج وقفة مخلصة لله عز وجل تطالبون فيها بأن يطبق عليكم الإسلام في دولة خلافة على منهاج النبوة وتطالبون إخوانكم وأبناءكم في جيش مصر بنصرة من يحمل الدعوة لإقامتها ليقيمها فيكم.

يا أبناء جيش الكنانة! هؤلاء هم رؤوسكم وقادتكم مرتبطون بأمريكا ويتبنون وجهة نظرها ورؤيتها ويحاربون بها دينكم ويمتهنون كرامة أهلكم وإخوانكم، وهذه الويلات حتما سينالكم منها نصيب، فعلام صمتكم وصبركم عليهم؟! أليس فيكم رجل رشيد يغضب لله عز وجل غضبة يقتلع فيها هذا النظام بكل أركانه وأدواته وينصر العاملين لدولة عزكم التي تعيد كرامتكم في دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة؟! نسأل الله أن تكون بنا وبكم، جعلنا الله وإياكم من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست