الإسلام السياسي
الإسلام السياسي

نشر موقع الجزيرة.نت بتاريخ 08/04/2019م مقالاً بعنوان: "الإسلام السياسي بين حتمية تجديد الذات أو الانصياع للعلمانية" جاء فيه: "وقد نشأت عبر تاريخ الأمم الإنسانية ما بين الدين والسياسة علاقات تكامل وتمازج وتضاد، وقد خلفت هذه العلاقة العديد من الظواهر الفكرية والمصطلحات الجديدة، لعل أبرزها الإسلام السياسي، نظرية سياسية ترى أن الدين منهج سياسي واجتماعي واقتصادي وثقافي، وهو كفيل بتسيير شؤون الدولة وتنظيم الحياة العامة".

0:00 0:00
Speed:
April 09, 2019

الإسلام السياسي

الإسلام السياسي

الخبر:

نشر موقع الجزيرة.نت بتاريخ 08/04/2019م مقالاً بعنوان: "الإسلام السياسي بين حتمية تجديد الذات أو الانصياع للعلمانية" جاء فيه: "وقد نشأت عبر تاريخ الأمم الإنسانية ما بين الدين والسياسة علاقات تكامل وتمازج وتضاد، وقد خلفت هذه العلاقة العديد من الظواهر الفكرية والمصطلحات الجديدة، لعل أبرزها الإسلام السياسي، نظرية سياسية ترى أن الدين منهج سياسي واجتماعي واقتصادي وثقافي، وهو كفيل بتسيير شؤون الدولة وتنظيم الحياة العامة".

وجاء فيه أيضاً: "ورغم أن فكرة الإسلامي السياسي فتنت الكثير من أبناء هذه الأمة من المحيط إلى الخليج خاصة مع بلوغ الدعوة الإسلامية أوجها نهاية القرن الماضي، إلا أن الأحزاب الإسلامية لم تؤسس لقاعدة شعبية حقيقية ودائمة تراهن عليها وبقت برامجها مجرد حبر على ورق، وفشلت في البروز كقوة سياسية تواجه المد العلماني، ويوجد من يرى أن فكرة الإسلام السياسي تحمل في ذاتها بذور فنائها، لأن السياسة إذا دخلت الدين سلبته طابعه الروحي، وحولت مساره من العلاقة المثالية بين العبد وربه، إلى صراع الأحزاب والتكتلات والصالونات المكيفة، فالإسلام حسبهم أسمى من السياسة، التي لا توجد فيها مبادئ ثابتة وقوامها مصالح على طول الخط.".

"وفي الأخير ورغم أن أتباع الإسلام السياسي يرون أن الرسول r والخلفاء الراشدين من بعده مارسوا السياسة ووضعوا أسسا لها، يبقى الإسلام دينا منزها عن أخطاء المسلمين وبعيدا عن مستنقع السياسة بمفهومها الشائع، ولا يمكن أن نحمل الدين الإسلامي فشل الأحزاب الإسلامية، سواء كان هذا الفشل ممنهجا أو لعدم تقبل العامة لفكرة الإسلام السياسي من الأساس، ويجب أن نعرف أيضا أن الكثير من هذه المصطلحات صناعة غربية كان الهدف منها تشويه صورة الإسلام والترويج لما يعرف بالإسلاموفوبيا".

التعليق:

منذ أن هدمت دولة الخلافة وغاب الإسلام عن الحكم وطُبّقت عوضاً عنه أنظمة الكفر السياسية، انتهى الإسلام من كونه سياسياً، وحلَّ محلّه الفكر الغربي الذي عقيدته فصل الدين عن الحياة. وقد استمات الغرب الكافر على إبعاد الإسلام وإقصائه من الحكم. فسعى إلى تشويهه وإدخال أفكار غربية رأسمالية بعيدة كل البعد عن الإسلام. ولعلّ من أهم أسباب تشويه صورة الإسلام في عقول الكثير - بعد الغرب الكافر - هو وصول بعض الحركات "الإسلامية" لسدة الحكم وزعمها تطبيق الإسلام وفشلها في ذلك، نتيجة ارتكابها الأخطاء ربما بسبب غياب التصور الواضح عن الطريقة الصحيحة والواضحة في كيفية عودة الإسلام إلى الحكم والعلاقات الدولية، فبعد ثورات ما سُميّ بالربيع العربي وصعود "الإسلاميين" للحكم، أوهمت الشعوب، لكنها بقيت ضمن نفس القوانين والدستور والمؤسسات وضمن نفس العلاقات الدولية والمعاهدات والاتفاقيات السابقة، أي بقيت ضمن المنظومة نفسها وما اختلف فيها إلا الوجوه والأشخاص!

فالحركات "الإسلامية" بعد أن سُلمت الحكم في بعض البلاد قد غيرت وشوهت صورة الإسلام السياسي عند أهله وفي العالم أجمع، وقد كان وصولها للحكم ضمن خطة غربية لضرب الإسلام وجعله ديناً كهنوتياً فقط، دينَ صلاة وصيام وزكاة!! ولا علاقة له في السياسة وأنظمة الحياة من اقتصادي واجتماعي وثقافي! وإظهاره بمظهر النظام المتخلف الذي لا يصلح للبشرية في العصر الحديث والتقدم العلمي والتكنولوجي، حتى إذا فشلت هذه النماذج في السياسة وفي الحكم، اعتقد البعض كما ذُكر في المقال أن السياسة إذا دخلت في الإسلام تفنيه! وسلبت منه طابعه الروحي! إلا أن فصل الإسلام عن الحياة وعن أنظمة المجتمع، هو وأدٌ للإسلام وأنظمته وأحكامه، وسحق للأمة وقِيَمها وحضارتها ورسالتها. والحكم على الإسلام من خلال هذه النماذج الساذجة هو خطأ فادح! وفيه قدر من المغالطة للواقع! فلا يصح حصر فكرة ما بتجربة أو حركة، إذ إن دراسة فكرة ما يلزم لدراستها الموضوعية والإحاطة بجميع الظروف والجوانب!

إن السياسة بمفهومها الصحيح هي رعاية شؤون الأمة داخلياً وخارجياً، وتكون من دولة تحمل الإسلام وتطبقه في معترك الحياة، فالدولة هي التي تباشر هذه الرعاية عملياً، والأمة تحاسب الدولة على ذلك. فالإسلام هو الدين الحق الذي ارتضاه رب البشرية للناس جميعاً؛ في تطبيقه السعادة وفي غيابه وإقصائه التعاسة والظلم، وحتى يعود الإسلام بعدله ونوره لا بد له من دولة إسلامية تطبقه وتحمله دعوة للبشرية في أصقاع الأرض، كما فعل صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم الذين حملوا الإسلام وطبقوه كما أنزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم.

قد يظن البعض عندما يسمع مصطلح "الإسلام السياسي" أن الإسلام منه السياسي ومنه غير السياسي، وهذا خطأ. فالإسلام هو مبدأ انبثق عنه نظام، فهو نظام فيه فكرة وطريقة، فيه عقيدة إسلامية ومجموعة من المعالجات والأحكام لكل مناحي الحياة.

نسأل الله أن يعجل لنا بالفرج القريب وإقامة دولة الإسلام. وما ذلك على الله بعزيز.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فرح غازي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست