الإسلام دين الحق الواحد والرأسمالية مبدأ الباطل المتعدد
الإسلام دين الحق الواحد والرأسمالية مبدأ الباطل المتعدد

الخبر:   تحت عنوان "الصيام.. تقاليد وممارسات روحانية وطرق عبادة مختلفة بين دين وآخر" كتبت (CNN): "يقترن الصيام بمعانٍ تتجاوز الامتناع عن الأكل والشرب، فهو من الممارسات الروحية التي تثني الذهن عن التفكير بكل الأمور الدنيوية وتدفعه للارتقاء روحياً، ما يجعله عبادة تطبق في العديد من الديانات والمدارس الفكرية والروحية. ويختلف الصيام بين دين وآخر، وتتنوع النشاطات الروحية والدينية تبعاً لذلك. وفي معرض الصور أعلاه، تتعرفون على تقاليد الصيام المختلفة تبعاً لتنوع الديانات من حول العالم".

0:00 0:00
Speed:
June 13, 2016

الإسلام دين الحق الواحد والرأسمالية مبدأ الباطل المتعدد

الإسلام دين الحق الواحد والرأسمالية مبدأ الباطل المتعدد

الخبر:

تحت عنوان "الصيام.. تقاليد وممارسات روحانية وطرق عبادة مختلفة بين دين وآخر" كتبت (CNN): "يقترن الصيام بمعانٍ تتجاوز الامتناع عن الأكل والشرب، فهو من الممارسات الروحية التي تثني الذهن عن التفكير بكل الأمور الدنيوية وتدفعه للارتقاء روحياً، ما يجعله عبادة تطبق في العديد من الديانات والمدارس الفكرية والروحية. ويختلف الصيام بين دين وآخر، وتتنوع النشاطات الروحية والدينية تبعاً لذلك. وفي معرض الصور أعلاه، تتعرفون على تقاليد الصيام المختلفة تبعاً لتنوع الديانات من حول العالم".

التعليق:

نشر موقع السي إن إن الأمريكي الناطق باللغة العربية الخبر أعلاه في رمضان العام الماضي بتاريخ 05 تموز/يوليو2015 ونشره مرة أخرى يوم الخميس بتاريخ 04 رمضان 1437 هجرية الموافق 09 حزيران/يونيو2016 في قسم "رمضانيات" وتضمن معرضاً للصور؛ نساء ورجال وأطفال يرتدون أزياء خاصة بطقوس "الصيام" وأرفقت نبذة عن كيفية أداء هذا "الطقس الروحاني" يمارسه معتنقو سبع "ديانات"؛ هي اليهودية والنصرانية والهندوسية واليوانية والسيخية والبوذية والبهائية.

وهذا الخبر ليس خبراً عادياً، ومحتواه يكشف عن مخططات خطيرة تنفذها أمريكا بهدف تمييع أصول العقيدة الإسلامية ومساواتها مع "الديانات" المحرفة كاليهودية والنصرانية، ومع العقائد الأخرى التي ابتدعها البشر كالبوذية والهندوسية والبهائية والسيخية، وهناك آلاف العقائد الضالة التي يعتبرها الغرب الكافر "أدياناً" صحيحة ما دامت تنصهر مع عقيدته العلمانية القائمة على فصل هذه "الأديان" عن أنظمة الحياة وحصرها في "طقوس روحانية"، ولا ضير أن تعُج أمريكا بعبدة الشياطين والأبقار والأصنام ودعاة الشذوذ ومدمني المخدرات ومغتصبي الأطفال والنساء ومرتكبي الجرائم العنصرية البشعة ما دام الجميع يعيش تحت سيطرة قوانين الغاب الوضعية التي يأكل بها القوي الضعيف، ولا شأن لهذه الأديان بها، فلا يوجد قوانين اقتصادية أو اجتماعية أو سياسية بوذية أو سيخية أو نصرانية بل الأنظمة السائدة في العالم اليوم هي الأنظمة التي تنبثق عن المبدأ الرأسمالي الغربي والتي تُطبق بواسطة دولة تحكم العالم بهذه العقيدة العلمانية التي أطلقت للإنسان الحريات ليعيش لإشباع رغباته وشهواته وضلالاته، وجعلت من الإنسان إلهاً يُشرع من دون الله خالق الإنسان والحياة والكون بالديمقراطية الكافرة بحجة "الآراء المتعددة"، ولقد بيّن الله لنا حقيقة هذه التعددية في الآية الكريمة: قال تعالى: ﴿هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون﴾ [سورة الأنعام: 153].

ويروج الخبر إلى مساواة الإسلام مع هذه الديانات وأن كل العبادات في مختلف المعتقدات عبادات مقبولة مما يجعل صيام رمضان المبارك مجرد تقليد وطقوس روحانية، فلم يعد صيام رمضان عبادة يتقرب بها المسلم لله عز وجل، وهنا مكمن الخطر فما دامت كل هذه العقائد صحيحة ويعيش أصحابها بالنظام الرأسمالي العلماني فمطلب الكفار أن يقع الإسلام تحت طائلة العلمانية وأن يكون واحداً من بين هذه الديانات فيختلط الحق مع الباطل والهدى مع الضلال. وهذا المفهوم الخطير هو الشرك بعينه ولا يغفره الله سبحانه. قال تعالى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا﴾. [سورة النساء].

وهكذا تكون أمريكا قد ابتدعت إسلاماً مختلفاً ونفذت ما جاء في تقرير مؤسسة "راند" الذي أصدرته في سنة 2007 ووضحت فيه أن الإسلام الذي يدعو للتغيير السياسي يتعارض مع العلمانية وهو إسلام غير مقبول عند الكفار. وهذا الإسلام المعدل الأمريكي هو الإسلام المعتدل (أو الإسلام المدني ودولته المدنية) الذي يدعو إلى "قبول الآخر" هو المطلوب، بينما هو إسلام يدعو للتنازل عن أسس العقيدة الإسلامية حتى يتساوى الإيمان مع الكفر بإعادة "ضبط الإسلام" والدخول في بنيته التحتية لبناء "شبكات مسلمة معتدلة" وتربية كوادر مسلمة عسكرية علمانية تتفق مصالحها مع مصالح أمريكا المادية في بلاد المسلمين للاستعانة بها. ويصف التقرير أن "الإسلاميين" المقبولين هم زوار الأضرحة والمتصوفون ومن ينشرون الأفكار الخرافية ومن لا يبحثون عن نهضة الأمة الإسلامية وتغيير واقعها الفاسد.

ويُبرِز صيام شهر رمضان المبارك حول العالم قوة تمسك المسلمين بالإسلام ووحدة الأمة الإسلامية على أساس العقيدة الإسلامية، كما يعكس حب المسلمين للعبادات للتقرب إلى الله سبحانه واتباع سنة رسول الله r، كما يعلن رمضان المبارك صراحة رفض المسلمين لحياة الكفر والانغماس في الشهوات والماديات والبعد عن الله تعالى، وأخيراً والأهم فرمضان المبارك شهر الجهاد وشهر الانتصارات والفتوحات وهو الشهر الذي فُتحت فيه البلاد بالإسلام عندما حرك الخلفاء وحكام المسلمين الذين حكموا بالإسلام الجيوش لنشر الإسلام عندما كان للمسلمين دولة إسلامية واحدة، لذلك تريد الأنظمة الفاجرة أن تسلبه هذه المميزات، حتى لا يربط المسلمون حقيقة رمضان بحقيقة نهضتهم وقوتهم على أساس الإسلام ليبقوا تحت سيطرة النفوذ الغربي. وعليه، على المسلمين محاربة الكفر، وعليهم أن يعملوا لتطبيق نظام رب العالمين شرعة ومنهاجا، وذلك لن يتحقق إلا بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، التي ستطهر العالم من أفكار الضلال والشرك وستنشر الهدى والحق في ربوع العالم.

قال تعالى: ﴿إِنْ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلَّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ﴾ [سورة يوسف: 40].

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست