الإسلام في اليابان (مترجم)
الإسلام في اليابان (مترجم)

الخبر: هز زلزال قوي شمال اليابان في وقت مبكر من يوم الثلاثاء مما عطّل لفترة وجيزة وظائف التبريد في محطة نووية ونتجت عنه موجات تسونامي صغيرة في منطقة فوكوشيما وهي نفس المنطقة التي دمرها زلزال عام 2011؛ تسونامي وكارثة نووية. والزلزال الذي بلغت قوته 7.4، وشعر به الناس في طوكيو، دفع آلاف السكان للفرار إلى المناطق المرتفعة عند الفجر على طول الساحل الشمالي الشرقي.

0:00 0:00
Speed:
November 23, 2016

الإسلام في اليابان (مترجم)

الإسلام في اليابان

(مترجم)

الخبر:

هز زلزال قوي شمال اليابان في وقت مبكر من يوم الثلاثاء مما عطّل لفترة وجيزة وظائف التبريد في محطة نووية ونتجت عنه موجات تسونامي صغيرة في منطقة فوكوشيما وهي نفس المنطقة التي دمرها زلزال عام 2011؛ تسونامي وكارثة نووية.

والزلزال الذي بلغت قوته 7.4، وشعر به الناس في طوكيو، دفع آلاف السكان للفرار إلى المناطق المرتفعة عند الفجر على طول الساحل الشمالي الشرقي.

التعليق:

تتعرض اليابان بشكل منتظم لزلازل وموجات تسونامي مدمرة. ففي عام 2011 تم تسجيل هزة أرضية بلغت قوتها 9 درجات على مقياس ريختر. ووفقًا للمعهد الإيطالي الوطني للجيوفيزياء وعلوم البراكين، فقد حرف الزلزال محور الأرض بمقدار 25 سنتيمترًا. وبسبب قوة الزلزال الهائلة، تحركت أيضًا أجزاء من شمال شرق اليابان بمقدار 2.4 مترًا باتجاه أمريكا الشمالية.

وبلا أي شك، فإن هذه الكوارث تؤثر بشكل كبير على حياة الناس في اليابان. وفي كل مرة يقع مثل هذا الحدث، فإن الخوف يصيب الناس ولكنه أيضًا يذكرهم بمدى ضعفهم، وذلك على الرغم من أن اليابان من الناحية التكنولوجية تعتبر إحدى الدول الأكثر تقدمًا على مستوى العالم.

ونحن بلا أي شك نعتقد أن هذا النوع من الكوارث يحدث بأمر الله سبحانه وتعالى لأن الله سبحانه وتعالى بيده مقاليد السماوات والأرض. والغرض من هذه الكوارث ربما يكون لإهلاك أمة لا تلتزم بأمر الله، أو ربما تكون تذكيرًا من الخالق المدبر للغافلين لدفعهم للتفكير والإقبال عليه سبحانه وتعالى. وفي هذا السياق، أود ذكر قصة حدثت بين دولة الخلافة العثمانية واليابان.

على الرغم من أن الشعب الياباني قد احتك في بعض المناسبات بالإسلام والمسلمين، إلا أن وجود علاقة رسمية بين دولة الخلافة العثمانية واليابان لم تتم حتى القرن التاسع عشر.

ففي عام 1877م دخل الإسلام إلى اليابان كجزء من الأفكار الدينية "الغربية"، وذلك ضمن التبادل الثقافي المشترك. ثم تُرجمت حياة النبي محمد rإلى اللغة اليابانية. لكنها بقيت لأغراض إعلامية فقط.

ومع ذلك، وبعد وقت قصير، أرسل الإمبراطور الياباني ميجي في عام 1889م سفراءه وقوافل خاصة إلى إسطنبول للقاء السلطان عبد الحميد خان لتسليمه بعض الهدايا و"رسالة خاصة". في هذه الرسالة الخاصة، طلب الإمبراطور الياباني من عبد الحميد خان أن يرسل له "معلومات باللغة اليابانية أو الفرنسية حول الدين الإسلامي والتاريخ الإسلامي، والعلوم الإسلامية والتطورات التكنولوجية، ووجهة نظر الإسلام في العقيدة والأعمال الخيرية وغيرها".

وفي العام نفسه أرسل الخليفة العثماني عبد الحميد خان الثاني سفينة حربية تدعى "أرطغرل" بالإضافة إلى نحو 600 من العلماء والخبراء المسلمين. وكذلك بعث هدايا وهي عبارة عن نسخة من القرآن الكريم مضيئة مطلية بالذهب وغيرها من الكتب الإسلامية.

وقد أقام حملة الدعوة الإسلامية علاقات طيبة مع الشعب الياباني وحملوا الإسلام إليهم، لدرجة أن كبار المسؤولين اليابانيين في القصر قد تأثروا بهذه الرسالة، كما أن الإمبراطور ميجي أبدى اهتمامًا شديدًا بالدين الإسلامي.

ولكن الله سبحانه وتعالى قد شاء أن يضرب إعصار قوي السفينة الحربية "أرطغرل" في اليابان خلال طريق عودتها. وقد مات نتيجة لذلك جميع العلماء وحملة الدعوة والخبراء.

وعند سماع هذا الخبر، قام رجل ياباني شاب يدعى توراجيرو يامادا بحملة في جميع أنحاء اليابان من أجل جمع الأموال لعائلات الذين ماتوا في هذا الحادث المأساوي. وفي عام 1892م قام شخصيًا بتسليم مبلغ ضخم من المال إلى عبد الحميد خان لتوزيعه على عائلات الضحايا.

واليوم، وبحسب بعض الإحصائيات، فقد اعتنق الإسلام أكثر من 100 ألف شخص في اليابان. وكل هذا يرجع إلى الإنجاز الذي قامت به دولة الخلافة منذ أكثر من قرن، ويحصل هذا في معظم الأحيان في ظل غياب دولة إسلامية قوية ومؤثرة.

وكما بين ذلك عبد الرشيد إبراهيم بشكل صحيح، وهو الذي لعب دورًا مهمًا في إيصال رسالة الإسلام إلى اليابان، فقد كتب مرة قصيدة تتعلق بطبيعة الشعب الياباني الراقية وإخلاصهم:

"إن ما ينقصهم هو التوحيد حتى نعتبرهم مسلمين"، وكتب أيضًا: "أعتقد أن الإسلام سيشع هناك بالتأكيد، وكل ما يحتاجه العثمانيون (الخلافة) هو الاتصال بهم وبذل الجهود".

نسأل الله سبحانه وتعالى أن يمنّ علينا بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة مرة أخرى، حتى نتمكن بعون الله سبحانه وتعالى من إيصال الإسلام للشعب الياباني المعروف بإحساسه المذهل نحو الانضباط والاحترام والشرف، فيُكرموا بالإسلام، ويساهموا في هذا الدين بصفاتهم الحميدة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست