الإسلام هو العلاج لمرض الضّباب الدّخاني
الإسلام هو العلاج لمرض الضّباب الدّخاني

الخبر: يقول الخبراء إن تفاقم تلوث الهواء في الهند له تأثير مدمّر على اقتصادها؛ حيث تقدر إحدى الدراسات الخسائر بنحو 95 مليار دولار أمريكي سنوياً، أو ما يقرب من 3 في المائة من الناتج المحلي الإجمالي للبلاد. وخلصت دراسة أجرتها شركة الاستشارات العالمية دالبيرج إلى أنه في عام 2019، كلف تلوث الهواء الشركات الهندية 95 مليار دولار أمريكي بسبب "انخفاض الإنتاجية، والتغيب عن العمل، والوفاة المبكرة". (المصدر)

0:00 0:00
Speed:
November 28, 2024

الإسلام هو العلاج لمرض الضّباب الدّخاني

الإسلام هو العلاج لمرض الضّباب الدّخاني

(مترجم)

الخبر:

يقول الخبراء إن تفاقم تلوث الهواء في الهند له تأثير مدمّر على اقتصادها؛ حيث تقدر إحدى الدراسات الخسائر بنحو 95 مليار دولار أمريكي سنوياً، أو ما يقرب من 3 في المائة من الناتج المحلي الإجمالي للبلاد. وخلصت دراسة أجرتها شركة الاستشارات العالمية دالبيرج إلى أنه في عام 2019، كلف تلوث الهواء الشركات الهندية 95 مليار دولار أمريكي بسبب "انخفاض الإنتاجية، والتغيب عن العمل، والوفاة المبكرة". (المصدر)

التعليق:

عندما انحنى العالم أمام العلم، نسي أن التجارب لا تخضع لقواعد وأخلاقيات. وهذا أحد الأسباب التي تجعل تفاصيل التطورات الجديدة سرية حتى يشهد العالم تجربة ذرية مثل هيروشيما وناجازاكي. لقد أدى وصول دولة واحدة إلى السلطة إلى تدمير مادي مطلق لجزء كبير من دولة أخرى واستعباد عاطفي ونفسي لبقية العالم. جعل هذا النوع من التجارب العالم يشهد آثاراً مروعة للتطور، ولكن تم تصنيفها على أنها تجربة لمرة واحدة حيث تبنى العالم بالفعل التحول من الإمبريالية إلى الرأسمالية حيث وعدت بالنمو والنجاح. وبالتالي شهدنا بيانات وحسابات للخسائر المالية. تبلغ التكاليف الاقتصادية لتلوث الهواء على الاقتصاد الهندي ما يزيد عن 150 مليار دولار سنوياً. وتقدر التأثيرات بحوالي 47.8 مليار دولار سنوياً. أي ما يعادل حوالي 6٪ من إجمالي الناتج المحلي لباكستان.

في الإسلام، لا يعني الاستقرار الاقتصادي فقط وجود ناتج محلي إجمالي ممتاز وكميات هائلة من الإنتاج، مع عمل الناس وإنتاجهم مثل الآلات. إن المادة والثروة في الإسلام تهدف إلى تحسين نوعية حياة الناس حتى يصبح العالم أفضل، حيث يمكن للناس أن يعيشوا بكرامة ويقدموا تلك الحياة لخلق الله. عن أبي ذر رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لاَ تُدْفَنُ» رواه ابن ماجه

لا تتبنى الطبيعة نهجاً قومياً، كما أن تدميرها لا يختار المناطق وفقاً لارتباطها العاطفي أو السياسي. إن الضباب الدخاني الذي يخيم فوق دلهي ولاهور هو رد فعل مباشر لإساءة استخدام الطبيعة. إن الفعل الأكثر اتهاماً، والمساهم الكبير في التلوث هو حرق المحاصيل، وهي ممارسة زراعية عمرها قرون، على الرغم من أن الضباب الدخاني نفسه لم يتطور حتى وقت قريب. أثناء جائحة كوفيد-19، أصبحت الظروف البيئية مواتية على الرغم من ممارسة حرق المحاصيل خلال تلك السنوات، لذلك من الآمن أن نقول إن حرق المحاصيل ليس العامل الوحيد الذي يضيف إلى الضباب الدخاني الكثيف.

وفقاً للبيانات التي تم جمعها أثناء الوباء، تراوحت قراءات مؤشر جودة الهواء بين 18-65، وهو ما يقول الخبراء إنه أقل بكثير من النطاق الخطير الذي عبرته لاهور عدة مرات في الماضي. في الوقت الحاضر، ارتفع مؤشر جودة الهواء في لاهور إلى 1900 في 2 تشرين الثاني/نوفمبر، وفقاً لتقرير صادر عن IQAir، وهي شركة سويسرية تراقب جودة الهواء في جميع أنحاء العالم، وهو أسوأ من مؤشر جودة الهواء في دلهي. عندما لوحظ الضباب الدخاني في باكستان عام 2015، قدمت منظمة الصحة العالمية تقريراً مروعاً. فقد أظهرت بيانات منظمة الصحة العالمية لعام 2015 أن ما يقرب من 60 ألف باكستاني ماتوا بسبب ارتفاع مستوى الجسيمات في الهواء، ما يجعلها أعلى حصيلة وفيات بسبب تلوث الهواء في العالم.

إن الضغط على دول العالم الثالث لتلبية المعايير الاقتصادية التي وضعها صندوق النقد الدولي وغيره من المنافسين الدوليين، يجبرهم على اتخاذ قرارات ضعيفة ذات آثار طويلة الأجل للإغاثة المؤقتة. وفقاً لوكالة حماية البيئة الباكستانية، تم استيراد أكثر من 70 ألف مركبة مستعملة إلى باكستان عام 2017، من اليابان وكوريا الجنوبية. غالباً ما لا تلبي هذه المركبات معايير الانبعاثات التي حددتها الحكومة الباكستانية، ما يؤدي إلى زيادة تلوث الهواء والتأثيرات الصحية السلبية على السكان. ويسلط تقرير وكالة حماية البيئة الضوء أيضاً على أن معظم هذه المركبات لا تتم صيانتها بشكل صحيح، ما يؤدي إلى زيادة الانبعاثات والمزيد من التدهور البيئي. وبالمثل، تواصل مئات المصانع غير القانونية في جميع أنحاء دلهي تخزين واسترجاع النفايات الإلكترونية والخردة المعدنية في لوني حرق النفايات الإلكترونية. وتستورد باكستان أكثر من 100 ألف طن من النفايات الإلكترونية سنوياً، وغالباً ما تحتوي هذه النفايات على مواد خطرة مثل الرصاص والزئبق والكادميوم، والتي يمكن أن تلوث التربة والمياه والهواء.

إن القذارة التي تملأ البيئة هي نتيجة للجشع الرأسمالي، والحل الوحيد للتخلص من هذا هو السير على هدي رسول الله ﷺ وخلفائه الراشدين. ولدينا مثال سيدنا عثمان رضي الله عنه، الذي اشترى بئر رومة، فاستغل صاحبها احتكاره الفعلي لإمدادات المياه المحلية ليفرض سعراً باهظاً لكل دلو. وتفاوض سيدنا عثمان ببراعة على اتفاق لشراء نصفها، أي في أيام متناوبة. وجعل عثمان الماء متاحاً مجاناً في الأيام التي كانت البئر ملكاً له، وبدأ الجميع في استخدامه في تلك الأيام فقط، لتجنب دفع التكاليف العالية التي فرضها المالك السابق. ومن شدة اليأس، طلب المالك السابق من عثمان شراء البئر بالكامل.

هذا مجرد مثال واحد من الأمثلة العديدة التي يمتلئ بها التاريخ الإسلامي والتي ساعدت في انتشار الإسلام من صحراء الجزيرة العربية إلى العالم أجمع.

إن الخلافة ستعيد الرخاء إلى البشرية، ولن ينمو الجشع وينتشر في نقاء الإسلام، وكما وعد الله سبحانه وتعالى بشفاء كل داء إلا الموت، فإن الناس على هذه الأرض سوف يتنفسون الرخاء والطمأنينة.

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ» رواه مسلم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست