الجائعون كثر وفترة قطف الثمار في الشام تكاد تبدأ
الجائعون كثر وفترة قطف الثمار في الشام تكاد تبدأ

  الخبر:‏ أوردت الجزيرة نت بتاريخ 2015/05/23م تحت عنوان: "فرار جماعي لقوات النظام السوري ‏من مستشفى جسر الشغور" خبرا جاء فيه:‏ بثت فصائل المعارضة السورية المسلحة صورًا تظهر هروب أفراد من الجيش السوري بعد ‏انسحابها من مستشفى جسر الشغور الوطني بريف إدلب الغربي شمالي غربي البلاد، بعد أن سيطرت ‏المعارضة السورية المسلحة عليه.‏ وقد قام مقاتلو جبهة النصرة بنصب الكمائن على الطرقات للجنود للفارين، مما أدى إلى قتل عدد ‏كبير من قوات النظام وأسر عدد آخر بينما لا يزال آخرون محاصرين داخل الأراضي الزراعية.‏ وانسحب جميع مقاتلي النظام السوري الذين كانوا محاصرين في مستشفى جسر الشغور باتجاه ‏الأماكن القريبة التي تسيطر عليها قوات النظام وذلك تحت غطاء جوي كثيف لطيران النظام الحربي.‏ وكانت فصائل سورية مسلحة قد أعلنت في وقت سابق أنها سيطرت على المستشفى الذي كانت ‏تتحصن فيه قوات النظام بعد سيطرة المعارضة على المدينة في الخامس والعشرين من الشهر الماضي، ‏وأضافت الفصائل أن مقاتليها يطاردون الأفراد المنسحبين في المنطقة وينصبون لهم الكمائن.‏   التعليق:‏ لا بد أن التطورات الأخيرة في سوريا فيما يخص انتصارات المجاهدين على تنوع مشاربهم قد ‏مهدت الطريق إلى المرحلة الأخيرة من مراحل انهيار عهد النظام البعثي في سوريا، ولا شك أن الفترة ‏الزمنية القريبة القادمة ستتمخض عن ولادة بديل لهذا النظام المجرم في سوريا بفضل من الله ومنة. أي ‏أن مرحلة قطف الثمار في الشام تكاد تبدأ إلا أن الجائعين كثر.‏ فمن داخل سوريا هناك الكثيرون. فمنهم الإسلاميون المجاهدون على تنوعهم، ومنهم الوطنيون ‏والعلمانيون المتمثلون بالحكومة المؤقتة. كل يحاول للوصول لحكم سوريا على طريقته. حتى ‏الإسلاميون فهم ليسوا جبهة واحدة وإنما بينهم خلاف كبير يصل مداه إلى الاقتتال بالسلاح.‏ ومن خارج سوريا فالأنظمة المحيطة بسوريا معنية بصورة كبيرة أن يكون لها نفوذ في نظام ما ‏بعد الأسد ومن خلف هذه الدول تقف الدول الاستعمارية الكبرى الثلاث أمريكا وبريطانيا وفرنسا تتابع ‏وتراقب وتتدخل من أجل قنص فرصة أن يكون نظام ما بعد الأسد تابعًا لها لا لغيرها. فهذا ما يهم ‏الغرب؛ وهو أن تبقى سوريا تحت استعمار أحدهم وأن لا تنعتق سوريا من يدهم الاستعمارية ‏وخصوصًا إذا كانت ستنعتق إلى مصلحة المسلمين المخلصين، فهذا شيء لا يسمح به الغرب بتاتًا. ‏ولذلك سرعان ما يشكل الغرب مجلسًا وطنيًا في بداية أي ثورة تنشأ في بلد ما من دول العالم العربي ‏من أجل إبقاء البلاد تحت سيطرتهم في المرحلة الجديدة القادمة، وما الائتلاف السوري والحكومة ‏المؤقتة إلا مثالٌ بارزٌ في سوريا على محاولة الغرب احتواء الثورة ومرحلة ما بعد الأسد في سوريا.‏إن دول الغرب المستعمرة وخاصة الدول النشيطة منهم في منطقة الشرق الأوسط، أمثال أمريكا ‏وبريطانيا وفرنسا، يقومون بأي شيء من أجل عدم توحد دول العالم العربي والإسلامي وخاصة دول ‏الشرق الأوسط، لما لهذه المنطقة من ثقل أيديولوجي واقتصادي. ومن أجل منع ذلك فإن أكثر شيء ‏تحرص عليه الدول الغربية الاستعمارية مجتمعة مع تفرق غاياتهم ومصالحهم هو الحيلولة دون انعتاق ‏دولة من دول الشرق الأوسط من يد دول الاستعمار. فقد يتصارعون فيما بينهم على النفوذ في هذه ‏البلدان ولكنهم متفقون على أن لا تنعتق دولة من دول الشرق الأوسط تمامًا من يد الاستعمار. فقد ‏يتصارع الإنجليز وأمريكا على حكم مصر وقد يشتد الصراع فيما بينهم ولكنهم متفقون على أن تبقى ‏مصر تحت الاستعمار، فقد كانت مصر تحت الاستعمار الإنجليزي قبل مجيء عبد الناصر ولكن بعد ‏مجيء عبد الناصر أصبحت مصر تتبع السياسة الأمريكية، وهذا أمر مقبول عند الدول الاستعمارية، ‏ولكن من غير المقبول تمامًا هو أن تخرج مصر من يد المستعمر الإنجليزي والأمريكي وأن تنعتق ‏مصر تمامًا من الاستعمار، فهذا أمر خطير بالنسبة للمستعمرين. لأن انعتاق دولة ما من يد الاستعمار ‏في منطقة الشرق الأوسط يعني أن هذه الدولة ستعود إلى تاريخها وجذورها الإسلامية، أي ستعود إلى ‏تحكيم شرع الله من جديد وضم باقي الدول إلى حكمها تمامًا كما كانت الخلافة الإسلامية من قبل ‏وبالتالي طرد النفوذ الغربي برمته وبشكل كامل من بلادنا.‏ إذا أدرك المسلمون المخلصون في الشام حقيقة نوايا الغرب ونوايا الأنظمة المحيطة بهم فسرعان ‏ما ستتوحد الهمم والطاقات لإنهاء المرحلة الأخيرة في حكم البعثيين وإرجاع الشام إلى حاضرة الإسلام ‏ومركزًا لحكم الإسلام من جديد تمامًا كما كانت في سابق عهدها. أما إذا تجاهل المسلمون هذه الحقيقة ‏ولم يترفعوا عن الخلافات التي فيما بينهم فسيسهلون مهمة الغرب في القضاء عليهم وفي أن يكون نظام ‏ما بعد البعثيين نظامًا مثلهم أو قل أسوأ بكثير منهم، وما السيسي في مصر إلا مثالٌ صارخٌ على ذلك.‏ إذا تذكر المسلمون حالهم قبل بدء الثورة وفي بداية الثورة قال تعالى: ﴿وَاذْكُرُوا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ ‏مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الأَرْضِ تَخافُونَ أَن يَتَخطَّفَكُمُ النَّاسُ﴾، ونظروا إلى الوراء قليلًا وليروا أين كانوا قبل ‏أربع سنين وأين هم الآن في صراعهم مع النظام العلوي وأمريكا من ورائه. إذا تذكر الجميع منا قول ‏الله ﴿‏‎ ‎وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ﴾ وأن هذه الانتصارات في سوريا ما هي إلا منةٌ وفضلٌ من ‏الله على عباده. بل إذا تذكر المسلمون المخلصون في سوريا قول الله تعالى ﴿ قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي ‏الْمُلْكَ مَن تَشَاء﴾ أي أن مقاليد الحكم بيد الله يؤتيه من يشاء، لعلمنا أن الصراع فيما بيننا هو إثم ‏ومعصية وأن هذا لن يغير من حقيقة أن الحكم والنصر بيد الله يؤتيه من يشاء. إذا تذكر المسلمون ‏المخلصون كل هذا لقصرت مرحلة ذهاب حكم البعثيين في سوريا ولصعد الإسلام إلى الحكم، فهذه هي ‏الغاية وهذه هي الحكمة. فليشكر المسلمون الله على الانتصارات التي حققوها وليتوحدوا فيما بينهم ‏وليكونوا صفًا واحدًا في وجه البعثيين والغرب وإلا تبدلت النعم إلى نقم والانتصارات إلى هزائم ‏وشرذمة والعياذ بالله.‏       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرد. فرج أبو مالك  

0:00 0:00
Speed:
May 26, 2015

الجائعون كثر وفترة قطف الثمار في الشام تكاد تبدأ

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست