الجانب المظلم من البوب الكوري آلة السوق الاستغلالية ضد الشباب المسلم في آسيا
الجانب المظلم من البوب الكوري آلة السوق الاستغلالية ضد الشباب المسلم في آسيا

الخبر: في أوائل كانون الأول/ديسمبر 2022، نشرت The Diplomat مقالاً عن الجانب المظلم للبوب الكوري. وهو أن هنالك تحت الصورة السطحية المتلألئة لفناني البوب الكوري يكمن "دوريان جراي" - الرواية التي قيل عنها إنها تنتهك الأخلاق العامة - الذي يشبه قلب صناعة تنتهك وتتجاهل متدربيها ونجومها. في حين إن الموجة الثقافية الكورية تلفت الانتباه إلى كوريا الجنوبية وتقدم موقعاً عالمياً للتأثير الثقافي، فإن هذا الاهتمام يأتي مصحوباً بالمآسي، حيث لا يمكن تجاهل سوء المعاملة والانتحار وعقود العمل بالسخرة وجداول التدريب المرهقة وبنود عدم المواعدة والاعتداء الجنسي وإضفاء الطابع الجنسي على القاصرين من وكالات البوب الكوري.

0:00 0:00
Speed:
December 22, 2022

الجانب المظلم من البوب الكوري آلة السوق الاستغلالية ضد الشباب المسلم في آسيا

الجانب المظلم من البوب الكوري

آلة السوق الاستغلالية ضد الشباب المسلم في آسيا

(مترجم)

الخبر:

في أوائل كانون الأول/ديسمبر 2022، نشرت The Diplomat مقالاً عن الجانب المظلم للبوب الكوري. وهو أن هنالك تحت الصورة السطحية المتلألئة لفناني البوب الكوري يكمن "دوريان جراي" - الرواية التي قيل عنها إنها تنتهك الأخلاق العامة - الذي يشبه قلب صناعة تنتهك وتتجاهل متدربيها ونجومها. في حين إن الموجة الثقافية الكورية تلفت الانتباه إلى كوريا الجنوبية وتقدم موقعاً عالمياً للتأثير الثقافي، فإن هذا الاهتمام يأتي مصحوباً بالمآسي، حيث لا يمكن تجاهل سوء المعاملة والانتحار وعقود العمل بالسخرة وجداول التدريب المرهقة وبنود عدم المواعدة والاعتداء الجنسي وإضفاء الطابع الجنسي على القاصرين من وكالات البوب الكوري.

تتكرر الفضائح في البوب الكوري، حيث شهد شهر تشرين الثاني/نوفمبر الماضي وحده الفنان الشهير لي سونغ جي وهو يكتشف أن وكالته هوك إنترتينمنت قد حجبت جميع أرباح التدفقات الرقمية وتقوم بتنزيل أغانيه على مدار 20 عاماً. تم تسجيل فرقة أوميغا إكس، وهي فرقة فتيان مكونة من 11 نجماً يتمتعون بفرصة ثانية، وهي تتلقى توبيخاً عنيفاً من قبل الإدارة. وتم اتهامهم لاحقاً بأن الوكالة جعلت المجموعة تعمل أثناء إصابتهم بكوفيد-19.

الهاليو أو الموجة الكورية، تعتبر مقدمة ثورة القوة الناعمة لكوريا الجنوبية وغالباً ما تقترن بالإكراه. القوة الناعمة، أو قوة الجذب والتأثير الثقافي، هي أداة خطيرة ومعقدة للاستخدام. لأكثر من عقدين من الزمن، كانت كوريا الجنوبية تدعم بنشاط صناعة الترفيه كمحرك "للقوة الناعمة" والنمو الاقتصادي. ومع ذلك، عندما تعلق الأمر بواجبها في حماية حقوق الإنسان، فإنها فشلت في تحقيق ذلك. لا ترى الصناعة إلا الأرباح عند توسيع نفوذها في الشرق الأوسط أو الصين أو حتى أمريكا الشمالية.

التعليق:

إن الجانب الأكثر قتامة من فضائح الاستغلال لفناني البوب الكوري هو استغلال المعجبين بوصفهم أسواقا، يوجد فيه الملايين. للأسف، العديد من هؤلاء الضحايا هم من الشبان المسلمين. يبدو أن الجانب المظلم لهؤلاء الأشخاص غالباً ما يفلت من مراقبي صناعة البوب الكوري. على سبيل المثال، في تشرين الثاني/نوفمبر، أُجبرت فرقة البوب الكوري NCT 127 على إنهاء أول حفل موسيقي لها في إندونيسيا مبكراً بعد أن أغمي على 30 فتاة نتيجة الاحتشاد والتزاحم. واستمرت الحفلة الموسيقية لمدة ساعتين عندما بدأ المشجعون يتقدمون للاقتراب من المسرح.

إن خطر البوب الكوري كقوة ناعمة يتمثل في الضرر الذي يحدثه على القيم وأنماط الحياة؛ لأنه نجح في تسويق القيم الليبرالية والمتعة وعبادة الأيدول على أساس النمط الغربي مع تغليف ثقافي كوري شرقي. علاوة على ذلك، عادةً ما يتم بناء المعجبين المسعورين في البوب الكوري على الإخلاص المرضي، حيث تمتلئ بملايين المعجبين الذين يعانون من الأوهام والعشق المفرط. وهذا له تأثير مباشر أكثر على المسلمين حيث إن العديد من البلاد الإسلامية تعد أكبر سوق لصناعة البوب الكوري حيث يتم استغلال شبابها كمعجبين لأغانيهم وأفلامهم. استناداً إلى تقرير تويتر الصادر في كانون الثاني/يناير 2022، تتصدر إندونيسيا قائمة أكبر عدد تغريدات خاصة بالبوب الكوري للعام الثاني على التوالي. وفي الوقت نفسه، احتلت ماليزيا المرتبة الثامنة من بين أول عشر دول.

لا تتردد شركات ووكالات فرق الفتيان الكورية في استغلال السوق. فقد عبّرت بي تي إس آرمي، (قاعدة المعجبين العالمية للبوب الكوري)، في وقت مبكر من هذا العام عن غضبها من شركة الترفيه لتوسعها القوي. ويشتكي العديد من المعجبين من أن الوكالة عازمة على جني الأموال عن طريق بيع السلع للمعجبين بأسعار ضخمة. حيث إن سعر المنتجات قد خلق ضجة كبيرة، مثلا: طقم بيجامة مكون من قطعتين بسعر 119000 وون (99.70 دولاراً أمريكياً) ووسادة بسعر 69000 وون!

وكذلك الأمر بالنسبة لجولات حفلات البوب الكوري الموسيقية التي تُجرى عبر البلدان، فإن سوق المعجبين كبير جداً. من المتوقع أن يحضر أكثر من 2.85 مليون شخص حفلات البوب الكوري الموسيقية في بلدان أخرى في عام 2022، حيث يسعى العالم إلى الانتقال من جائحة إلى مرض مزمن، وفقاً لشركة Hyundai Motor Securities. حتى إن هذه الحفلات أدت إلى ظهور ظاهرة عُرفت باسم حرب التذاكر. أدى العدد الكبير من جداول حفلات البوب الكوري في إندونيسيا، والتي ستكون في جاكرتا في عام 2022، إلى تنافس الشباب بشدة لشراء التذاكر. فقد بدأ التنافس على التذاكر قبل بضعة أشهر لحفل بلاك بينك، الذي من المقرر عقده في عام 2023. حتى الآن، تتراوح أسعار تذاكر حفلات البوب الكوري التي يتم بيعها من 50 إلى 350 دولاراً أمريكياً، وهذا ليس بالسعر البسيط بالنسبة للفتيان الإندونيسيين.

إن البوب الكوري كصناعة ثقافية شعبية قامت بتدمير وإضعاف جيل المسلمين المستقبلي. أصبح الشباب المسلم ممن يقال فيهم الإمعة الذين ليس لديهم موقف، ويميلون إلى اتباع اتجاهات وأساليب الحياة الممتعة. الإمعة هو صاحب شخصية ضعيفة تتماشى مع التيار والميول والأكثرية، ليس لديه مبادئ، ولديه أزمة هوية وعقلية اتباع. عن حذيفة قال: قال رسول الله ﷺ: «لاَ تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلاَ تَظْلِمُوا».

نتيجة لذلك، فإن البوب الكوري ليس أكثر من أداة للاستعمار الغربي تحت ستار الوجه الشرقي. استغل الاستعمار المخفي، بمهارة كبيرة، عدم الاستقرار العقلي للشباب، واستنزف جيوبهم، وجعلهم يتمتعون بالولاء المرضي لأصنامهم. هذا نموذج استعماري مع نهج القوة الناعمة وهو أكثر خطورة لأنه كامن ويلعب كثيراً في منطقة الشبهات الغامضة أو غير الواضحة. مصحوباً بتدفق قيم التعددية العلمانية مثل الاعتدال الديني وبرنامج إزالة التطرف الذي يستمر في حملته بين الطلاب المسلمين. لقد أصبح الشباب المسلم أخيراً فريسة سهلة للرأسمالية!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست