الجبير: "الحوثيون جيراننا"!! فما قول شيوخ جهاد الحوثيين وطاعة أولي الأمر؟
الجبير: "الحوثيون جيراننا"!! فما قول شيوخ جهاد الحوثيين وطاعة أولي الأمر؟

قال وزير خارجية السعودية عادل الجبير إن الأولوية في اليمن في الوقت الحالي لم تعد محاربة الحوثيين بل محاربة تنظيم القاعدة... وأضاف "أما الحوثيون فهم يمنيون وجيران المملكة، ويمكن التفاوض معهم"، معربا عن تفاؤله حول المفاوضات المتواصلة في الكويت بين الحوثيين والحكومة.

0:00 0:00
Speed:
May 15, 2016

الجبير: "الحوثيون جيراننا"!! فما قول شيوخ جهاد الحوثيين وطاعة أولي الأمر؟

الجبير: "الحوثيون جيراننا"!!

فما قول شيوخ جهاد الحوثيين وطاعة أولي الأمر؟

الخبر:

قال وزير خارجية السعودية عادل الجبير إن الأولوية في اليمن في الوقت الحالي لم تعد محاربة الحوثيين بل محاربة تنظيم القاعدة... وأضاف "أما الحوثيون فهم يمنيون وجيران المملكة، ويمكن التفاوض معهم"، معربا عن تفاؤله حول المفاوضات المتواصلة في الكويت بين الحوثيين والحكومة. (عكاظ 2016/05/14)

التعليق:

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿الم * أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ * وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ * أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ...﴾ [سورة العنكبوت: 1-4]

سبحان الله وبحمده، سبحان الله إذ يأبى إلا أن يكشف المنافقين، مشايخ كانوا أم علمانيين، سبحان الله إذ يأبى إلا أن يظهر الحق ولا يبقي عذرا للمتجاهلين، سبحان الله إذ يأبى إلا أن يميز الخبيث من الطيب ويبطل خبَث المتآمرين..

لم يطق النظام السعودي الاستمرار في خداعه أكثر من سنة، حتى يكشف نفسه ويظهر للناس مساوئه، ويبين لهم حقيقة حربه على المسلمين وتنفيذه لمخططات المشركين، ويجاهر بمعصيته، وكل أمتي معافىً إلا المجاهرين..

لم يكن الحوثيون قبل الحرب السعودية سوى فئة منبوذة لا وزن لها في الوسط السياسي اليمني، وها هي بفضل الحرب السعودية تصبح طرفا سياسيا أساسيا في اليمن، وجيراناً يُتفاوض معهم لإعطائهم جزءا من السلطة!

كان عادل الجبير نفسه من أعلن يوم 2015/03/26 بدء عملية عسكرية ضد الحوثيين، ورغم أن الجبير نفسه أعلن حينها أن السعودية تشاورت مع الولايات المتحدة في العملية العسكرية التي بدأت ضد الحوثيين، ورغم أن هذا الإعلان وحده يكفي لكل ذي بصر وبصيرة ليدرك أن الولايات المتحدة الأمريكية لن تأتي بخير للمسلمين وأن إعلانا يطلق بعد مشاورتها لن يحمل إلا خيانة وتآمرا، ورغم أن الحكومة السعودية أكدت أكثر من مرة أن الحرب ضد الحوثيين هي من أجل الشرعية الشركية وليست جهادا في سبيل الله، إلا أن الكثير من المشايخ استمر يهتف مصرّا أن هذا هو عين الجهاد، واستمر يدعو متأملا أن ينصر الله (المرابطين) في (الثغور) و(المجاهدين في الثكنات) على (أعداء الله الحوثيين)، ورغم أننا بينّا في أكثر من (خبر وتعليق) من بلاد الحرمين الشريفين حقيقة هذه الحرب، وخيانتها لله ورسوله وللمؤمنين، وأنها ليست إلا تنفيذا لمخططات المشركين، فقلنا في خبر وتعليق بعنوان (عاصفة الحزم ما تزال تعصف بالمسلمين) بتاريخ 2015/04/16 "فالحرب إذن ليست على الحوثيين ولا من أجل السنة أو العقيدة.. وهل يتصور عاقل أن جهادًا من أجل العقيدة ينطلق بأمر أمريكي ومن ديار أمريكا راعية الحرب على الإسلام! وهل يتصور عاقل أن نصرة العقيدة تنطلق بتنسيق متواصل مع أمريكا"، وقلنا في تعليق آخر عنوانه (وجه عواصفك لتحرير الأقصى يا (سلمان الحزم) إن كنت صادقا!) بتاريخ 2015/10/16 "لم يكن سلمان هو من أمر بحرب اليمن، بل أمره أسياده فنفذ، ولم يعلم كيف بدأت وانتهت عاصفة الحزم، ولا يعلم إلى أين تسير الأمور هناك ومتى ستنتهي لأن هذه كلها ليست قراراته وإنما قرارات أسياده الأمريكان"، بل حذرنا قبل انطلاقة عاصفة الحزم في خبر وتعليق بعنوان (بلاد الحرمين يجب أن تكون منطلقًا لنصرة المسلمين وتوحيدهم لا منطلقًا للتآمر عليهم) بتاريخ 2015/03/25 "إن أمريكا وبريطانيا تتصارعان على ثروات اليمن من جهة، وتعملان على تقسيمه من جهة أخرى، وفي ثنايا هذه وتلك، فإنهما تثيران الفتن الطائفية والمذهبية وتحركان أذنابهما في اليمن من أجل إشعال الاقتتال الطائفي، وقتل المسلمين بالمسلمين، وهي بمعية ذلك تنهب أيضًا أموالهم ببيعهم الأسلحة التي يستخدمونها في قتل أنفسهم!.... إن مشاركة النظام السعودي في أي مخطط من شأنه قتل المسلمين أو تقسيم بلادهم لهو جريمة نكراء، لا يتأتى لمن يؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر، أن يرضى بها أو أن يسكت عنها، وإن الوقوف في وجه ذلك والعمل على منعه لهو من أوجب الواجبات ومن أولى الأولويات".. ورغم أن تلك الكتابات وغيرها لم تجد آذاناً صاغية، من مشايخ تغافلوا عن الحقيقة وأصروا على إقناع أنفسهم بما لم تتعب الحكومة السعودية نفسها بإقناعهم فيه، فأضلوا من أضلوا، وشاركوا في قتل من قتل، إلا أننا نأمل أن يكون لموضوعنا هذا أثرٌ في قلوبهم خاصة بعد تصريح الجبير المذكور، ذلك أن الأمور تتكشف وأن النظام السعودي أصبح يستخفهم بشكل ظاهر بما أطاعوه، فها هو يطغى في البلاد وينشر فيها الفساد، ويورد هذا البلد المبارك موارد الهلاك، وليس لنا بعد رحمة الله، إلا وقفة صادقة من مشايخ يتقون الله، فيعملون بما أفنوا حياتهم في تعلمه، فيأخذون على يد الظالم ويوقفون ظلمه، ويأخذون بيد الأمة نحو عزها، وبيد الدين نحو مجده.. ألا وإنه لا عودة لهذه الأمة إلا بمجد دينها، ولا مجد لهذا الدين إلا بدولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، تقيم أحكامه بحق، وتنشر نوره في العالمين.. وإننا نتوجه لمن لا يزال مغترا بمن يضلله من أبناء هذه البلاد الغيارى على دينهم، أن لا عذر بعد اليوم، فلا طاعة لبشر في معصية الله، ولا أوضح ولا أظهر من هكذا جرائم، لا تحتاج علماء ولا فتاوى ليأثم كل ساكت عنها بل كل ما تحتاجه مسلما ذا قلب سليم، فالتآمر مع الكفار على المسلمين أصبح واضحا في كل قرارات آل سعود، فلا تكونوا ممن يندم غدا فيقول ﴿إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا﴾ حيث لا ينفع حينها الندم ﴿فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن إبراهيم - بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست