الجمهوريون والديمقراطيون في الكونغرس الأمريكي يهددون بعضهم بعضاً بنار التخلف عن سداد الديون بينما ثقة حلفاء أمريكا تتضاءل والوقت المتبقي قليل
الجمهوريون والديمقراطيون في الكونغرس الأمريكي يهددون بعضهم بعضاً بنار التخلف عن سداد الديون بينما ثقة حلفاء أمريكا تتضاءل والوقت المتبقي قليل

الخبر: نشرت صحيفة ذا هيل مقالا في 13 أيلول/سبتمبر بعنوان: "ما يجب على الجمهوريين المطالبة به مقابل رفع سقف الديون". التعليق: يعد سقف الديون هو الحد الأقصى لمقدار المال الذي يمكن للحكومة الأمريكية اقتراضه، ويقرره الكونغرس. وكان الهدف من ذلك هو منع أمريكا من التعمق في الديون، ولكن المشكلة هي أنها تنفق كل عام أو عامين الكثير من المال إلى الحد الذي يجعلها تصل إلى حد الدين، ومن ثم؛ فإما أن يرفع الكونغرس الحد الأقصى، أو أن تتخلف الحكومة الأمريكية عن سداد ديونها وتتوقف عن دفع رواتب أغلب موظفيها في مختلف أنحاء البلاد.

0:00 0:00
Speed:
September 17, 2021

الجمهوريون والديمقراطيون في الكونغرس الأمريكي يهددون بعضهم بعضاً بنار التخلف عن سداد الديون بينما ثقة حلفاء أمريكا تتضاءل والوقت المتبقي قليل

الجمهوريون والديمقراطيون في الكونغرس الأمريكي يهددون بعضهم بعضاً
بنار التخلف عن سداد الديون بينما ثقة حلفاء أمريكا تتضاءل والوقت المتبقي قليل


الخبر:


نشرت صحيفة ذا هيل مقالا في 13 أيلول/سبتمبر بعنوان: "ما يجب على الجمهوريين المطالبة به مقابل رفع سقف الديون".

التعليق:


يعد سقف الديون هو الحد الأقصى لمقدار المال الذي يمكن للحكومة الأمريكية اقتراضه، ويقرره الكونغرس. وكان الهدف من ذلك هو منع أمريكا من التعمق في الديون، ولكن المشكلة هي أنها تنفق كل عام أو عامين الكثير من المال إلى الحد الذي يجعلها تصل إلى حد الدين، ومن ثم؛ فإما أن يرفع الكونغرس الحد الأقصى، أو أن تتخلف الحكومة الأمريكية عن سداد ديونها وتتوقف عن دفع رواتب أغلب موظفيها في مختلف أنحاء البلاد.


تنفق أمريكا أكثر من إجمالي ناتجها المحلي، والآن وصل الدين إلى 28 تريليون دولار، أي وصل إلى الحد الأقصى في الأول من آب/أغسطس. ومنذ ذلك التاريخ، استخدمت أمريكا الحيل المحاسبية وإجراءات تأخير التكاليف التي تسمى "تدابير الطوارئ" للحفاظ على دفع فواتيرها. ومع ذلك، حذرت وزيرة الخزانة الأمريكية جانيت يلون الأسبوع الماضي من أن أمريكا لم تعد على بعد أسابيع من "استنفاد جميع التدابير المتاحة والنقدية المتاحة بالكامل"، وأن "الولايات المتحدة الأمريكية لن تتمكن من الوفاء بالتزاماتها للمرة الأولى في تاريخنا".

وطلبت من الكونغرس حل المشكلة بسرعة حيث "سيكون من غير المسؤول بشكل خاص تعريض ثقة الولايات المتحدة الأمريكية ورصيدها للخطر".


ومع ذلك، يبدو أن الساسة الأمريكيين يثقون كثيرا في قوة بلادهم لدرجة أنهم لا يخشون تعريض "الثقة الكاملة والائتمان للولايات المتحدة الأمريكية للخطر". ويريد الديمقراطيون، الذين يتمتعون بالأغلبية، أن يشارك الحزب الجمهوري في قرار رفع حد الدين، الذي يقولون إنه تم إنشاؤه إلى حد كبير في عهد إدارة ترامب الجمهورية السابقة. وأشار الجمهوريون إلى أن مبادرة إنفاق ضخمة من جانب الديمقراطيين سترفع الدين بشكل أكبر وأن معظم ديون عهد ترامب كانت نتيجة نفقات كوفيد-19، في حين رد الديمقراطيون بأن تخفيضات ترامب الضريبية للأثرياء هي المسؤولة جزئيا. ومع نفاد الوقت في أمريكا، حذرت الأرقام الصادرة عن المؤسسات التنظيمية الرئيسية للائتمان المالي من أنه "من الجنون التام حتى التفكير في فكرة عدم سداد ديوننا في الوقت المحدد"، وأن التخلف عن سداد الديون "قد يتسبب في كارثة فورية متتالية حرفيا ذات أبعاد لا تصدق ويلحق الضرر بأمريكا لمدة 100 عام".


لن تكون هذه هي المرة الأولى التي تصل فيها أمريكا إلى حافة الخراب المالي قبل أن يتوصل الكونغرس إلى اتفاق توفيقي. ففي عام 2011، مع بقاء يومين فقط قبل أن يتم استنفاد الموارد المالية الأمريكية تم التوصل إلى سقف جديد للديون. ومع ذلك، هز هذا ثقة وكالات الائتمان وخفضت ستاندرد آند بورز التصنيف الائتماني لأمريكا درجة أقل من تصنيفها AAA السابقة مما يجعلها أكثر تكلفة بالنسبة للولايات المتحدة الأمريكية لاقتراض المال. إن الدولار الأمريكي ينحو إلى النقود الورقية المدعومة في نهاية المطاف فقط بثقة وقدرة أمريكا واستعدادها لسداد ديونها. ومن الخطر بشكل خاص أن نعتبر هذه الثقة أمرا مفروغا منه بعد أن داست إدارة ترامب أقرب حلفائها والمنظمات الدولية التي كانت لعقود تعتبر الشراكة الأمريكية أمرا مفروغا منه. وإذا كانت إدارة ترامب حالة شاذة، فلن يكون الأمر بهذه الخطورة، ولكن الطريقة التي قامت بها أمريكا الحالية من جانب واحد بصفقة مع طالبان للانسحاب من أفغانستان، والطريقة الفوضوية التي نفذت بها إدارة بايدن انسحابها فاجأت حلفاء الناتو وهزت ثقتهم بالكامل. بالفعل، تبحث دول العالم عن عملات بديلة مثل عملات التشفير وتستثمرها للحد من الاعتماد على الدولار. ومع ذلك، تستخدم الأحزاب في الكونغرس التخلف عن سداد الديون كبطاقة سياسية للحصول على تنازلات قصيرة الأجل من بعضها بعضا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
الدكتور عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست