الجنرال رحيل شريف يتبع سياسة نواز شريف نفسها تجاه الهند وكلاهما يتبع الإملاءات الأمريكية
الجنرال رحيل شريف يتبع سياسة نواز شريف نفسها تجاه الهند وكلاهما يتبع الإملاءات الأمريكية

الخبر:   أُلقي القبض على ضابط في البحرية الهندية في بلوشستان، الذي يعمل في وكالة المخابرات الهندية، في فرع البحث والتحليل (RAW)، وقد أكّد نبأَ الاعتقال وزيرُ الداخلية سارفراز بوغتي، في 24 من آذار/ مارس 2016م. حيث قال بوغتي: "إن الضابط - ويدعى (كولبهاشان ياداف) - اعتُقل في بلوشستان قبل ثلاثة أيام، وكان الجاسوس الهندي على اتصال مع الانفصاليين البلوش وأعضاء في المنظمات الدينية المشاركة في تأجيج الاضطرابات الطائفية والعرقية في المحافظة". وقال عاصم باجوا (المدير العام لوكالة العلاقات العامة الباكستانية (ISPR))، إن هدف ياداف كان تخريب الممر الاقتصادي بين الصين وباكستان من خلال الدعاية واستهداف ميناء جوادر كهدف خاص؛ وقال باجوا: "لا يمكن أن تكون هناك أدلة أكثر وضوحًا على التدخل الهندي في باكستان"، وأضاف: "إن أنشطة ياداف لم تكن سوى إرهاب ترعاه الدولة".

0:00 0:00
Speed:
April 21, 2016

الجنرال رحيل شريف يتبع سياسة نواز شريف نفسها تجاه الهند وكلاهما يتبع الإملاءات الأمريكية

الجنرال رحيل شريف يتبع سياسة نواز شريف نفسها تجاه الهند

وكلاهما يتبع الإملاءات الأمريكية

الخبر:

أُلقي القبض على ضابط في البحرية الهندية في بلوشستان، الذي يعمل في وكالة المخابرات الهندية، في فرع البحث والتحليل (RAW)، وقد أكّد نبأَ الاعتقال وزيرُ الداخلية سارفراز بوغتي، في 24 من آذار/ مارس 2016م. حيث قال بوغتي: "إن الضابط - ويدعى (كولبهاشان ياداف) - اعتُقل في بلوشستان قبل ثلاثة أيام، وكان الجاسوس الهندي على اتصال مع الانفصاليين البلوش وأعضاء في المنظمات الدينية المشاركة في تأجيج الاضطرابات الطائفية والعرقية في المحافظة". وقال عاصم باجوا (المدير العام لوكالة العلاقات العامة الباكستانية (ISPR))، إن هدف ياداف كان تخريب الممر الاقتصادي بين الصين وباكستان من خلال الدعاية واستهداف ميناء جوادر كهدف خاص؛ وقال باجوا: "لا يمكن أن تكون هناك أدلة أكثر وضوحًا على التدخل الهندي في باكستان"، وأضاف: "إن أنشطة ياداف لم تكن سوى إرهاب ترعاه الدولة".

التعليق:

إن خبر إلقاء القبض على العميل الهندي (ياداف)، الذي عرضته بعض وسائل الإعلام الباكستانية، هو لإظهار أن الجناح العسكري لنظام رحيل/ نواز (بقيادة الجنرال رحيل شريف)، يسعى لاصطياد العملاء الهنود، في حين إن الجناح السياسي للنظام (والذي يتزعمه رئيس الوزراء نواز شريف)، أهمل الحادث ولم يعلق عليه حتى بعد مرور أيام عديدة على هذه القضية المهمة. وقد أبرزت أبواق رحيل في وسائل الإعلام أن نواز لديه ميل للهند، لأن أمريكا تريد تطبيع العلاقات بين باكستان والهند؛ لهذا السبب لم يردّ النظام على هذا التطور المهم للغاية، بينما يعمل الجنرال رحيل شريف على الحفاظ على المصالح الوطنية الباكستانية، حتى يظهر أن الجناحين، السياسي والعسكري للنظام، ليسا على الموقف نفسه بالنسبة إلى الهند!

ومع ذلك، وبغض النظر عن مدى قدرة أبواق الجنرال رحيل على نشر هذه الكذبة، فإن الحقائق لا يمكن تغطيتها، كما لا يمكن استخدام نواز ككبش فداء لخيانة رحيل نفسه. فليس هناك شك في أن رحيل ونواز يتبعان السياسة نفسها تجاه الهند، وفقًا لما تمليه عليهم سيدتهم أمريكا، وبالتالي فإن الجيش والجناح السياسي من النظام على الصفحة نفسها بالنسبة للهند. فقد عيّن رحيل صديقه المقرب جدًا، اللفتنانت جنرال "متقاعد" (ناصر خان جانجوا)، مستشارًا للأمن القومي لرئيس الوزراء نواز شريف، وبعد وقت قصير من تعيينه، التقى ناصر جانجوا بنظيره الهندي (أجيت دوفال) في 6 من كانون الأول/ ديسمبر 2015م، في بانكوك - تايلاند. وورد في بيان صحفي مشترك "إن المناقشات تناولت السلام، والأمن، والإرهاب، وجامو، وكشمير، وغيرها من القضايا، بما في ذلك الهدوء على طول خط السيطرة". وفي 17 من كانون الأول/ ديسمبر 2015م، قال ناصر جانجوا إن "ذلك الاجتماع الأخير مع أجيت بداية جيدة". وقال: "لقد اتفقنا على المضي قُدمًا، وقد كنت أنا والسيد أجيت مرتاحين للغاية مع بعضنا البعض، وأدركنا أنه يمكن أن نعمل معًا"، وأضاف أنه من المهم أن "لا يتم تجميدها". وبعد الهجوم على قاعدة القوات الجوية الهندية في باثانكوت، التقى ناصر خان جانجوا في اجتماع ثانٍ مع أجيت في باريس، في 14 من كانون الثاني/يناير 2016م، وأطلعه على عمل إسلام أباد ضد منفذي هجوم باثانكوت.

وقبل يوم من هذا الاجتماع، شارك نواز شريف في لقاء رفيع المستوى، في منزل رئيس الوزراء، في 13 من كانون الثاني/يناير 2016م؛ لاستعراض الوضع الأمني ​​السائد، وخلال هذا الاجتماع تقرر تشكيل لجنة للتحقيق في هجوم باثانكوت، تتألف من شخصيات رفيعة. ثم في يوم 27 من آذار/ مارس، زار فريق التحقيق الخاص الهند. وكان هذا بمثابة تغيير كبير في سياسة باكستان تجاه الهند، ولا يمكن أن يقوم بهذه الخطوة أية قيادة مدنية وبدعم ظاهر من القيادة العسكرية.

علينا أن نتذكر أنه في 28 من تشرين الثاني/ نوفمبر 2008م، أعلن رئيس الوزراء الباكستاني (يوسف رضا جيلاني) أن رئيس المخابرات الباكستانية سوف يتم إرساله إلى دلهي لغرض تبادل أدلة على صلة باكستان بهجوم مومباي الإرهابي، ولكن في اليوم التالي، سحب جيلاني قراره بسبب ردة فعل الجيش العنيفة. ثم في السادس من آذار/ مارس 2016م، دعا (ناصر جانجوا) (أجيت دوفال)، وأبلغه أن عشرة إرهابيين دخلوا الهند من باكستان لتنفيذ هجمات. وأكّدت هذه الحادثة تبادل المعلومات من قبل وزير الداخلية الاتحادية (شودري نزار)، في التاسع من آذار/ مارس 2016م على أرضية البرلمان. وفي الخامس من نيسان/ أبريل 2016م، قال ناصر جانجوا، في مؤتمر السلام العالمي: "إن باكستان ملتزمة بعملية السلام مع الهند."

لذلك يستطيع أي شخص عاقل، لم يبع ضميره، يستطيع بكل سهولة ربط هذه الحقائق، فلا يعود منخدعًا بانطباع زائف خلقته أبواق الجنرال رحيل في وسائل الإعلام، مفاده أن رحيل مُعادٍ للهند بالمقارنة مع نواز! إن الجنرال رحيل يعلم أن شعب باكستان يكرهون الهند، لذلك يستخدم حادثة القبض على الضابط الهندي الجاسوس لرفع أسهمه عند الناس، والتي تتآكل بسرعة بعد إعدام ممتاز قادري؛ وذلك لمواصلة حملته ضد الإسلام والجهاد وضد العاملين للخلافة، تحت ستار مكافحة الإرهاب والتطرف. لو كان رحيل صادقًا في اصطياد عملاء الهند والقضاء على العداء الهندي، لقام بقطع علاقاته مع الهند، بدلًا من السماح لصديقه الحميم جانجوا بمواصلة التعاون مع الهند، من خلال منحهم المعلومات عن الذين يهاجمون الهند. ولو كان رحيل صادقًا لقطع علاقاته العسكرية مع أمريكا، التي سمحت للهند بفتح ثمانية مكاتب في أفغانستان؛ لإيجاد التمرد فيها.

يجب على الضباط المخلصين في القوات المسلحة ألا يغضوا الطرف عن هذه الحقائق، ويجب عليهم التحرك لوضع حد لهذه الخيانة، من خلال إعطاء النصرة لحزب التحرير، لإقامة الخلافة على منهاج النبوة، حتى تنتهي لعبة الغدر والخيانة إلى الأبد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ

نائب الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست