الجنيه المصري يغرق في مستنقع الرأسمالية ومؤسساتها الاستعمارية
الجنيه المصري يغرق في مستنقع الرأسمالية ومؤسساتها الاستعمارية

الخبر:   نقلت عربي21 الخميس 2023/01/05م، تقريرا نشرته صحيفة فايننشال تايمز البريطانية تحدثت فيه عن أزمة الجنيه المصري الذي سجلت قيمته هبوطاً مع بداية سنة 2023، وقالت الصحيفة، في تقريرها الذي ترجمته عربي21، إن أزمة العملة الأجنبية في مصر تأتي بعد شهرين من موافقة صندوق النقد الدولي على منح القاهرة قرض إنقاذ بقيمة 3 مليارات دولار، وبينت الصحيفة أن الجنيه المصري خسر 6 بالمائة إضافية من قيمته ليصل سعره إلى 26.4 جنيه مقابل الدولار، مسجلاً أكبر انخفاض له منذ آخر تخفيض أقرّه البنك المركزي المصري في أواخر تشرين الأول/أكتوبر، ...

0:00 0:00
Speed:
January 08, 2023

الجنيه المصري يغرق في مستنقع الرأسمالية ومؤسساتها الاستعمارية

الجنيه المصري يغرق في مستنقع الرأسمالية ومؤسساتها الاستعمارية

الخبر:

نقلت عربي21 الخميس 2023/01/05م، تقريرا نشرته صحيفة فايننشال تايمز البريطانية تحدثت فيه عن أزمة الجنيه المصري الذي سجلت قيمته هبوطاً مع بداية سنة 2023، وقالت الصحيفة، في تقريرها الذي ترجمته عربي21، إن أزمة العملة الأجنبية في مصر تأتي بعد شهرين من موافقة صندوق النقد الدولي على منح القاهرة قرض إنقاذ بقيمة 3 مليارات دولار، وبينت الصحيفة أن الجنيه المصري خسر 6 بالمائة إضافية من قيمته ليصل سعره إلى 26.4 جنيه مقابل الدولار، مسجلاً أكبر انخفاض له منذ آخر تخفيض أقرّه البنك المركزي المصري في أواخر تشرين الأول/أكتوبر، في محاولة للتوصل إلى اتفاق مع صندوق النقد الدولي. ويأتي هبوط العملة المحلية في ظل حظر واردات بمليارات الدولارات في الموانئ المصرية بسبب عجز البنوك المحلية عن تأمين دولارات تكفي لدفع ثمنها وسط نقص العملات الأجنبية، وذكرت الصحيفة أن الغزو الروسي لأوكرانيا في شباط/فبراير 2022 أسفر عن تدفقات خارجية بقيمة 20 مليار دولار في رحلة مستثمري الديون الخارجية إلى بر الأمان. كما أن هذه الحرب تسببت في ارتفاع أسعار المواد الخام ما وجه ضربة قاسية لمصر التي تُعد أكبر مستورد للقمح في العالم، وأشارت الصحيفة إلى الشرط الذي تضمنه ميثاق صندوق النقد الدولي الذي ينص على تنفيذ مصر "تحولاً دائماً إلى نظام سعر صرف أكثر مرونة" بدلاً من استخدام احتياطيات العملات الأجنبية للحفاظ على سعر الصرف عند المستوى المستهدف.

وفي آذار/مارس، قرر البنك المركزي المصري تعويم الجنيه ليفقد 40 بالمائة من قيمته مقابل الدولار.

التعليق:

إن ما يقوم به النظام المصري من تعويم جديد للجنيه خضوعا لقرارات الصندوق الدولي هو عملية إغراق للجنيه ولاقتصاد مصر بل ولأهل مصر في هوة عميقة ومستنقع موحل يلتهم ما تبقى للناس من مدخرات وجهود. فمنذ آذار/مارس 2022 ومعدلات التراجع في قيمة الجنيه لا نقول هائلة بل كارثية؛ فخلال عام واحد وصل سعر الدولار إلى 27.2 جنيه حسب السعر الرسمي بينما سعره في السوق الموازي تخطى حاجز الـ30 وقابل للزيادة، بينما في آذار/مارس الماضي لم يصل لـ16 جنيه، ما يعني أن انخفاض قيمة الجنيه وصل للنصف تقريبا ومستمر في تراجعه وتنخفض معه قيمته الشرائية وقيمة مدخرات الناس ومقابل جهودهم ورواتبهم، أمام الأسعار التي تستمر في الزيادة بالتبعية لسعر الدولار في بلد تستورد أكثر من 80% مما تستهلكه وهي الأولى عالميا في استيراد القمح!

أزمات متلاحقة تصنعها الرأسمالية بقوانينها ومؤسساتها الاستعمارية وما تفرضه على الأنظمة العميلة من قروض مجبرين على طلبها ومجبرين على السير وفق ما يصاحبها من قرارات لأن هذه المؤسسات هي التي تدعم عروشهم المعوجة قوائمها، في بلد لا تحتاج لقروض وفي غنى عن الدولار وتملك بحدود سايكس بيكو الضيقة ما يجعلها دولة عظمى إن لم تكن الدولة الأولى، فما الذي يمنعها من ذلك؟! وكيف تخرج من مستنقع الأزمات الذي تصنعه الرأسمالية؟ وما الذي تحتاجه في هذا السبيل؟

إن عمالة النظام المصري وتطبيق الرأسمالية والتبعية للغرب هي المانع أمام نهضة مصر نهضة حقيقية تغنيها عن استيراد الغذاء والسلاح والدواء بل وتمنعها من استغلال مواردها على الوجه الحقيقي وتلزمها ربط عملتها بالدولار وتخضعها لقرارات الغرب وسياساته التي تقنن هيمنته على الموارد ونهبه للثروات والمواد الخام وتفتح بلادنا سوقا أمام منتجاته، وحتى تخرج مصر من هذا المستنقع فإنها تحتاج إلى نظام بديل يقتلع هذه الرأسمالية من جذورها ويستبدل بها مشروعا حضاريا حقيقيا منسجما مع عقيدة الناس وفطرتهم وقادراً حقا على النهوض بمصر وعلاج مشكلاتها بحلول حقيقية وليست مسكنات ولا قروضاً ربوية تغضب الله وتزيد حدة الأزمات. إن مصر تحتاج أن تعيش في ظل دولة الإسلام؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بحلولها ومعالجاتها التي أقرها وأوجدها وحي الله المنزل.

إن ربط العملة المصرية بالدولار وغياب الغطاء الذهبي أفقد العملة قيمتها وجعلها واقتصاد البلاد في مهب أعاصير الأزمات تتقاذفها كيف شاءت، والأصل وما يصلح الاقتصاد بشكل حقيقي وما أوجبه الإسلام وما ستقوم به دولة الخلافة عند قيامها، هو أن تكون عملة البلاد لها قيمة في ذاتها ذهبا وفضة أو ورقة نائبة عنهما وتكون كل تعاملات الدولة بيعا وشراء بالذهب، كما ستهيمن الدولة على موارد ومنابع الثروات مما يقع في نطاق الملكية العامة والموارد الدائمية وتنتج بنفسها الثروة منها وتعيد توزيعها على الرعية وتدعم إحياءهم للأرض بالإعمار والزرع وبناء المصانع وخاصة التصنيع الثقيل وتصنيع الآلات وغير ذلك من أشكال الإحياء بحيث تنتج البلاد كل السلع الاستراتيجية بما يكفي الحاجة ويزيد، حينها لن تعاني البلاد من تضخم ولا زيادة في الأسعار وسينكمش معدل الفقر إن لم يختف أمام ما أوجبه الإسلام على الدولة من رعاية تامة للناس وكفالة كاملة لهم في المأكل والملبس والمسكن، ولكن كما أسلفنا كل هذا غير ممكن في ظل الرأسمالية التي تحكم البلاد وقوانينها التي تحارب الإسلام وأهله، بل إن هذا فقط يصنعه الإسلام في ظل دولته التي ترضي الله عز وجل وتطبق شرعه وأحكامه؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست