الجرس وواقع مواقع التواصل الإلكتروني المرير في إندونيسيا
الجرس وواقع مواقع التواصل الإلكتروني المرير في إندونيسيا

الخبر:   غرد خبير اقتصادي إندونيسي معروف بانتقاداته - كويك كيان جي على هذا النحو "لم أشعر أبداً بالخوف في هذه المرحلة من التعبير عن رأي مختلف بنوايا حسنة لتوفير البدائل. على الفور تعرضتُ لهجوم عنيف في كل مكان، وتمزقت الخصوصية الشخصية"، كما جاء في تغريدته في أوائل شباط/ فبراير. 2021. يمثل هذا البيان حقاً الوضع الاجتماعي والسياسي الحالي في إندونيسيا والذي يميل إلى أن يكون مليئا بالخلل. ...

0:00 0:00
Speed:
February 20, 2021

الجرس وواقع مواقع التواصل الإلكتروني المرير في إندونيسيا

الجرس وواقع مواقع التواصل الإلكتروني المرير في إندونيسيا

(مترجم)

الخبر:

غرد خبير اقتصادي إندونيسي معروف بانتقاداته - كويك كيان جي على هذا النحو "لم أشعر أبداً بالخوف في هذه المرحلة من التعبير عن رأي مختلف بنوايا حسنة لتوفير البدائل. على الفور تعرضتُ لهجوم عنيف في كل مكان، وتمزقت الخصوصية الشخصية"، كما جاء في تغريدته في أوائل شباط/ فبراير. 2021. يمثل هذا البيان حقاً الوضع الاجتماعي والسياسي الحالي في إندونيسيا والذي يميل إلى أن يكون مليئا بالخلل.

وفقاً لما أوردته كومباس في 11 شباط/فبراير، قال خبير الاتصالات والثقافة الرقمية من جامعة إندونيسيا فيرمان كورنياوان إن أجهزة التنبيه لها تأثير كبير جداً في العصر الرقمي الحالي. لا تزال ثقافة دعم الرأي على وسائل التواصل في مستوى معقول، ولكن في الواقع، هناك طرف واحد يبدأ باختلاق الدعم، ويمكنه استخدام إنذارات مدفوعة الأجر، ويمكنه استخدام الروبوتات لتشكيل أجواء معينة. نتيجة لذلك، يصبح الجرس غير طبيعي وخطيراً عند إجراء هندسة الرأي المصحوبة بالترهيب والخداع (نشر البيانات الشخصية في الفضاء الإلكتروني بهدف مهاجمة أو قتل شخص ما)، والسبب هو أنهم يختلقون أيضاً حقائق لا تتناسب مع الموقف أو تزور الواقع.

التعليق:

ديستوبيا هي جماعة أو مجتمع غير مرغوب فيه أو مخيف، على عكس المدينة الفاضلة. عندما تكون التكنولوجيا في أيدي الفاعلين الخطأ، وتستخدم في حضارة فاسدة، فإن ما قد يحدث هو ديستوبيا واستبداد. أصبح المجتمع البائس حقيقة في هذا القرن، مجتمعاً غير مرحب به مطلقا، لأنه لا يتمتع بالحرية ويمتلئ بالخوف. ما يحدث في إندونيسيا: تبدأ مواقف الواقع المرير في أن تصبح حقيقة، عندما يصبح النقد أمراً مخيفاً لأهلها، عندما يتم قصف الأمور الشخصية لمجرد أن وجهات نظرهم تتعارض مع الحكومة، عندما تواجه بتهديدات التشهير لمجرد قول الحقيقة.

لقد خلق هذا الجرس موقفاً مروعاً، لأنه مثل مراجعة تيمبو لشهر تشرين الأول/أكتوبر 2019، يمكن لهؤلاء الأشخاص بسهولة الحصول على ملفات تعريف لمن يعتبرونهم معارضين، مثل بطاقات الهوية وأرقام الهواتف وحتى نوع الهاتف الخلوي المستخدم. وجودهم على وسائل التواصل مكلف بتأمين سياسات النظام من خلال نشر أخبار كاذبة للتأثير على الرأي العام والمواقف.

ومن المثير للاهتمام أن الجرس يزدهر بالفعل في ظل نظام ديمقراطي، لأن الدولة لا تريد أن تكون في الصورة مباشرةً لتجنب وصفها بالسلطوية. لذا، فإن مطلقي الأجراس موجودون هنا لنشر الافتراء ويصبحون جلادين افتراضيين على وسائل التواصل لأي شخص يتكلم بصوت عال منتقدا الحكومة. إن وجود هذا الجرس يكشف في الواقع المزاعم الكاذبة لمن يدعم الديمقراطية. لقد تم التأكيد دائماً على أن الديمقراطية قادرة على توحيد الأمة، وأنها تمكن من التداول السلمي للسلطة، وتعطي الحقوق للجميع، وأنها تحمي الأقليات، وتقمع أعمال الشغب، وتمكن من النقاش المثمر وهذا هو ذروة الحضارة. ولكن ما هي الحقيقة؟ أنه لا مجال للآراء المختلفة، ناهيك عن الآراء التي تأتي من وجهة نظر إسلامية.

عندما يتعذر على السلطات التحكم في التدفق السريع للمعلومات، فإن ما تفعله هو خلق "فوضى" في المعلومات عن طريق السماح لتدفق المعلومات المضللة وإغراق وسائل التواصل، بما في ذلك الحفاظ على قاتل رقمي مستأجر يُطلق عليه "الجرس" للقيام بعملهم و"قتل الرسول" أي إسكات أصحاب الحق ومنهم حملة دعوة الإسلام.

هذه الظاهرة الجديدة تدل على اليأس أيضاً من هزيمة الإسلام فكريا؛ لأن هذه الأنظمة لا تحاول إسكات الدعوة الإسلامية فحسب، بل تمارس أيضاً أساليب متلاعبة قذرة لتشويه سمعة الإسلام ودعاة الخلافة. لقد حاولوا في السابق منع تدفق الاتصال والرقابة عليه وعرقلته، لكن هذه الطريقة لم تنجح في وقف الدعوة الإسلامية. والآن يقودون إلى استراتيجية استقطاب تخون قيمهم الخاصة من خلال استخدام وسائل التواصل للسيطرة على الناس وزرع الارتباك والجهل والتحيز وفوضى المعلومات.

وصدق النبي ﷺ حين قال: «سَيَأْتِيَ عَلَى الناَّسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيْهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيْهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيْهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيْهَا الأَمِيْنُ وَيَنْطِقُ فِيْهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيْلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ رواه الحاكم

الضغط والاضطهاد المتزايد على النشطاء المسلمين علامة على اقتراب النصر. في هذه المرحلة، هناك حاجة متزايدة إلى شجاعة وتصميم المسلمين لنظهر لله أننا أهل للنصر الحقيقي للإسلام، إن شاء الله.

﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست