الجولة الإخبارية 28-8-2014
August 28, 2014

الجولة الإخبارية 28-8-2014


العناوين:


• مسؤول ليبي يكشف عن مشاورات مع الأمريكيين لتأسيس نظام علماني
• كيان يهود يتحدى الأمة ويدعو سكان غزة لمغادرة بيوتهم لتدميرها
• أنظمة عربية تعقد اجتماعا لمحاربة الجماعات الإسلامية

التفاصيل:


مسؤول ليبي يكشف عن مشاورات مع الأمريكيين لتأسيس نظام علماني:


نقلت صحيفة الشرق الأوسط في 2014/8/25 تصريحات مستشار الجيش الليبي محمد بويصير قال "إن ليبيا تستعد لمرحلة صعبة سيكون فيها برلمانان وحكومتان" وقال إن "مشاورات جرت في السابق مع أطراف معنية بالشأن الليبي من الداخل والخارج ومن بينهم السفيرة الأمريكية في ليبيا وأن الصورة التي جرى التحدث بشأنها تتلخص في أن التوجه المدني هو الذي ينبغي أن ينتصر من أجل دولة القانون وحماية المواطنين والابتعاد عن حكم المجموعات المتشددة التي أدخلت البلاد في معارك دينية وجهوية يدفع الشعب الليبي ثمنها من استقراره وأمواله ومستقبله". وقال: "إن إمكانيات الجيش الوطني الذي يقوده خليفة حفتر يتحسن وإن الجيش يمكن الاعتماد عليه لاستعادة الدولة الليبية". فمستشار الجيش الليبي يؤكد تدخل الأمريكان في ليبيا وفي إدارة الأحداث عندما أشار إلى المشاورات التي تجري مع السفيرة الأمريكية لتأسيس دولة ذات توجه مدني أي علماني ومحاربة حكم ما أسماه المجموعات المتشددة التي يقصد بها الجماعات الإسلامية ويؤكد أنها أي أمريكا تقف وراء عملية خليفة حفتر وتجري اتصالات مع جيشه.


وعن العلاقة بمصر قال: "إن القاهرة لم تنم كما لم تنم عند دخول قوات مصراتة لمطار طرابلس". وفي هذا اليوم ترأس النظام المصري اجتماعا في القاهرة لدول جوار ليبيا لبحث الأوضاع هناك. وقد نفت الخارجية المصرية قيام طائرات مصرية عسكرية بقصف مواقع تسيطر عليها مجموعات إسلامية، بينما أكد مسؤولون أمريكيون ذلك. وأضافت الخارجية المصرية إلى أنها تتابع تطورات الأوضاع السياسية والأمنية في ليبيا. مما يدل على أن أمريكا التي تتدخل بشكل غير مباشر في الشأن الليبي تستخدم النظام المصري التابع لها والذي لا ينام ولا تقر له عين حتى ينجز ما طلبت منه، وكذلك تستخدم الأدوات الداخلية كخليفة حفتر لتقيم نظاما علمانيا في ليبيا يسيطر عليه عملاؤها حتى تتمكن من بسط نفوذها هناك ومنع تحرر ليبيا وعرقلة عودة حكم الإسلام إليها.


---------------


كيان يهود يتحدى الأمة ويدعو سكان غزة لمغادرة بيوتهم لتدميرها:


قال رئيس وزراء كيان يهود نتانياهو في 2014/8/24 أثناء اجتماع لحكومته: "أدعو سكان غزة إلى إخلاء أي موقع تنفذ فيه حماس نشاطا إرهابيا على الفور. كل واحد من هذه الأماكن هو هدف لنا". وذلك بعد يوم قيام هذا الكيان المجرم بتوجيه ضربة إلى مبنى مكون من 13 طابقا في غزة إذ سواه بالأرض حيث كان يقيم فيه 45 عائلة. والجدير بالذكر أن الكيان اليهودي المغتصب لفلسطين دمر آلاف المنازل والمساجد والمدارس والمصانع وغير ذلك من المنشئات والمحطات الضرورية للسكان في قطاع غزة بجانب تشريده لأكثر من نصف مليون من الناس أي حوالي ربع سكان القطاع، وقتل أكثر من ألفين، منهم أكثر من 400 طفلا عندما بدأ اعتداءه الأخير على القطاع منذ أوائل الشهر الماضي في 2014/7/8 وقد أعلنت وزيرة عدل الكيان اليهودي تسيبي ليفني هدف حكومتها قائلة: "إنه يجب وقف إطلاق النار قبل أي مفاوضات جديدة، وإن أي اتفاق لوقف القتال يجب أن يضمن أيضا ألا تجني حماس أي إنجازات وأن تصبح السلطة الفلسطينية الأكثر اعتدالا في موقع السيطرة على قطاع غزة". فكيان يهود يعمل على أن يملي على أهل غزة السلطة التي يريدها وفي الوقت نفسه يطلب من أهل غزة إخلاء منازلهم حتى يدمرها بدعوى نشاط المجاهدين المقاومين له والذين يعتبرهم إرهابيين في تحد صارخ لأمة الإسلام التي يبلغ تعدادها أكثر من مليار ونصف ولا يتحرك أبناؤها لنصرة إخوتهم في غزة لتنقذهم من براثن يهود المفسدين في الأرض. وقد ظهر أن أكبر عائق يقف أمام أبناء الأمة لنصرة إخوانهم في غزة وفي غيرها من البلاد التي يضطهد فيها المسلمون هو الأنظمة التابعة للغرب ولفكره، فشعوب الأمة الإسلامية كلها تعتصر ألما لما يقترفه كيان يهود في غزة وهم يريدون أن ينصروا إخوانهم هناك إلا أن هذه الأنظمة تحول دون ذلك إما مباشرة كالنظام المصري والسعودي والأردني وإما بطريقة غير مباشرة كالنظام الإيراني والتركي حيث يخدعان الشعب بالكلام من دون أن يطلقا أية رصاصة على العدو اليهودي المغتصب لفلسطين التي يعتبرها المسلمون إحدى أعز وأقدس بلادهم.


---------------


أنظمة عربية تعقد اجتماعا لمحاربة الجماعات الإسلامية:


تعقد الأنظمة في السعودية ومصر والأردن وقطر والإمارات اجتماعا حول الأزمة في سوريا لمناقشة تداعيات هذه الأزمة وأخطارها عليها. فنقلت صحيفة الشرق الأوسط في 2014/8/24 تصريح وزير خارجية مصر سامح شكري الذي قال فيه: "الاجتماع الوزاري الذي تستضيفه السعودية اليوم سيركز على موضوع سوريا والتطورات هناك بصفة عامة، في ضوء التطورات في المشرق العربي وهي مرتبطة بقضية سوريا وأي جهود قد تبذل على مستوى الدول النواة في إطار هذه المجموعة للتوصل إلى إطار سياسي مناسب ينهي الأزمة السورية". وعندما سئل عما إذا كانت التهديدات الأمريكية الأخيرة بالتدخل عسكريا في كل من سوريا والعراق هي السبب وراء هذا الاجتماع أشار شكري إلى أن هذا التطور أي التهديدات الأمريكية سيكون محل بحث من جانب الوزراء. أي أنه أراد أن يقول أن أمريكا التي بدأت تتحرك فيما يتعلق بالشأن السوري أوعزت لمصر لتعقد هذا الاجتماع حتى تقوم بمحاولات جديدة لتطبيق مشروعها في سوريا للحفاظ على النظام هناك بتشكيل حكومة من النظام والائتلاف التابعين لأمريكا حسب مقررات جنيف. ونقلت الصحيفة عن المتحدث الرسمي للخارجية المصرية بدر عبد العاطي تصريحا قال فيه: "إن اجتماع السعودية الذي يبدأ صباح اليوم يركز على أخطار ومخاطر الجماعات الإرهابية التي تهدد سوريا والعراق والدول العربية". فهذه الدول لم تعقد أي اجتماع لدراسة أخطار ومخاطر كيان يهود وما يرتكبه من جرائم في غزة من قتل وتدمير ولا يهمها ذلك، بل هي أظهرت أنها متآمرة مع كيان يهود على أهل غزة. ويؤكد متحدث خارجية النظام المصري أن هذه الأنظمة تنفذ العديد من حلقات التآمر على الأمة الإسلامية حيث أشار إلى أن الهدف من الاجتماع هو محاربة الجماعات الإسلامية التي يطلقون عليها جماعات إرهابية أو متطرفة أو متشددة أو غير ذلك من الأسماء التي يعملون من خلالها على محاربة عودة الإسلام إلى الحكم وتشويه صورة الإسلام وضرب حركة الأمة الإسلامية نحو التحرر من ربقة الاستعمار الغربي وعلى رأسه أمريكا وكذلك ضرب ثورتها على الأنظمة العميلة التابعة لهذا الاستعمار الذي يحارب الإسلام وأهله منذ مئات السنين إلى أن تمكن من هدم كيان الأمة وتمزيقها واحتلالها ونهب ثرواتها بعدما هدم نظام حكمها الإسلامي المتمثل بالخلافة التي كانت تقض مضاجعهم وتفتح بلادهم بلدا تلو الآخر وهم يعملون على منع عودتها حتى لا تكرّ عليهم مرة أخرى.

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست