الجيل الهارب: سوق كبير للصناعة الرأسمالية
الجيل الهارب: سوق كبير للصناعة الرأسمالية

  الخبر: في أوائل شهر آب/أغسطس، أطلق وزير الشباب والرياضة الإندونيسي، ديتو أريوتجو، مركز الصحة العقلية للشباب لدعم الصحة العقلية لجيل الشباب في إندونيسيا. ويعتمد هذا على دراسة استقصائية أجرتها الدراسة الاستقصائية الوطنية للصحة العقلية للمراهقين في إندونيسيا (I-NAMHS)، والتي تفيد بأن واحداً من كل 3 شباب إندونيسيين تتراوح أعمارهم بين 10 و17 عاماً يعاني من مشاكل في الصحة العقلية (سيندونيوز). وبحسب الوزير، فقد تم تصميم برنامج الصحة العقلية هذا أيضاً لتعزيز برامج تنمية الشباب.

0:00 0:00
Speed:
August 28, 2023

الجيل الهارب: سوق كبير للصناعة الرأسمالية

الجيل الهارب: سوق كبير للصناعة الرأسمالية

(مترجم)

الخبر:

في أوائل شهر آب/أغسطس، أطلق وزير الشباب والرياضة الإندونيسي، ديتو أريوتجو، مركز الصحة العقلية للشباب لدعم الصحة العقلية لجيل الشباب في إندونيسيا. ويعتمد هذا على دراسة استقصائية أجرتها الدراسة الاستقصائية الوطنية للصحة العقلية للمراهقين في إندونيسيا (I-NAMHS)، والتي تفيد بأن واحداً من كل 3 شباب إندونيسيين تتراوح أعمارهم بين 10 و17 عاماً يعاني من مشاكل في الصحة العقلية (سيندونيوز). وبحسب الوزير، فقد تم تصميم برنامج الصحة العقلية هذا أيضاً لتعزيز برامج تنمية الشباب.

التعليق:

يتعين على صناع السياسات في إندونيسيا أن ينظروا إلى هذه المشكلة عن كثب، وليس مجرد التوقف عند الجوانب النهائية، حتى يقعوا في فخ متلازمة الإصلاح الجزئي. إن الأسباب الجذرية للصحة العقلية التي تؤثر على الشباب تحدث في الواقع بشكل أكثر منهجية وتحتاج إلى النظر إليها من خلال عدسة أكبر، وليس مجرد التعامل معها كحالات فردية.

طوال هذا الوقت، نشأ ملايين الشباب في إندونيسيا على التكنولوجيا الأجنبية ومنتجات الترفيه. إنهم مستهدفون ليصبحوا مستهلكين في صناعة لنمط حياة من مختلف منصات التكنولوجيا العالمية. استناداً إلى تقرير "حالة الهاتف المحمول 2023"، تم تصنيف إندونيسيا على أنها الدولة الأكثر إدماناً لتصفح الهواتف المحمولة في العالم، حيث يقضي استخدام الأجهزة أكثر من 5.7 ساعة يومياً. ويكشف التقرير أيضاً أن إندونيسيا هي ثالث أكبر سوق لألعاب الهاتف المحمول في العالم، بإجمالي 3.45 مليار عملية تنزيل لألعاب الهاتف المحمول في عام 2022 وحده. ليس هذا فحسب، بل إن إندونيسيا تقود أيضاً الاستهلاك في جنوب شرق آسيا لمنصات بث الأفلام عبر الإنترنت (OTT) مثل Netflix أو Viu أو Prime Video أو Disney Hotstar. ويشاهد واحد من كل ثلاثة إندونيسيين محتوى OTT ويستهلكون 3.5 مليار ساعة من المحتوى كل شهر.

ومن ناحية أخرى، يعاني الشباب في إندونيسيا، وهي أكبر بلد إسلامي، من ضغوط متعددة الأبعاد في الحياة، سواء من الناحية الاقتصادية أو التعليمية أو الاجتماعية. إن ارتفاع تكلفة التعليم، والمناهج الكثيفة، وأسلوب الحياة المرن على وسائل التواصل، يسبب الإحباط المجتمعي، ناهيك عن ظاهرة الأسر المسلمة المفككة التي أصبحت منتشرة بشكل متزايد. هذه الحياة الكئيبة هي في الواقع نتيجة حقيقية لمدى ابتعاد الشباب عن الإسلام، كما يؤكد قول الله تعالى في القرآن: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَإِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكاً وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾.

إن التفاعل المعقد بين العوامل المذكورة أعلاه، أي ضغط الحياة متعدد الأبعاد والتدفق التسويقي لمنتجات تكنولوجيا الترفيه الرأسمالية، قد خلق عرضاً خطيراً يعرف باسم الهروب بين الشباب. الهروب هو آلية تأقلم نفسية تقود السلوك إلى الهروب لتجنب مرارة الواقع أو تعقيد المشكلات في العالم الحقيقي، من خلال الهروب إلى عالم آخر (عموماً في العالم الرقمي) من خلال الترفيه أو مصادر المتعة الأخرى. تتميز ظاهرة الهروب هذه أيضاً بحروب التذاكر المكثفة بين الشباب الإندونيسي ليتمكنوا من حضور الحفلات الموسيقية، وخاصة من فناني الموسيقى الغربيين والكوريين. الهروب من الواقع الذي يحدث بشكل جماعي يمكن أن يكون إنذاراً خطيراً لبلد ما، فهو تهديد الجيل الضائع الذي يظهر فقدان جيل المستقبل لقدرات حل المشكلات.

ومن عجيب المفارقات أن بلداً مسلماً مثل إندونيسيا لا يمتلك حتى الآن ضوابط تنظيمية قوية لحماية الشباب، وذلك بسبب الاعتماد الاقتصادي والتكنولوجي على السوق الحرة التي تحكمها العولمة. حتى لو كان هناك قانون ITE Cyber، فهو أكثر هيمنة في تنظيم حرية التعبير، والذي يميل إلى أن يكون أداة للدولة لإسكات الناس ومنعهم من انتقادها، بدلاً من السيطرة على المنصات الرقمية الأجنبية.

ونتيجة لذلك، تتم الإمبريالية الرقمية غير المتماثلة دون عوائق كبيرة. يمكن لمنصات التقنية الرأسمالية مع أنظمتها الخوارزمية أن تتحكم بحرية في المحتوى الذي يجذب الشباب، بما في ذلك المحتوى المتعلق بالليبرالية والمادية والنسوية والشواذ ومزدوجي الميل الجنسي ومغايري الهوية الجنسية الذي يدمر الروح المعنوية ويستغل عواطف الشباب. ويدعم ذلك أيضاً المستوى العالي لانتشار الإنترنت في إندونيسيا، والذي وصل بالفعل إلى 78% (وصل عدد مستخدمي الإنترنت في إندونيسيا إلى 213 مليوناً من أصل عدد السكان البالغ 280 مليوناً).

وهكذا، دخلت العديد من منصات التقنية الرأسمالية إلى هذا البلد بسجادة حمراء منذ العقود الثلاثة الماضية وافترست ببراعة جيل الشباب المسلم. إنها تصرف العاطفة الحادة والحماسة النابضة بالحياة والطاقة لديهم نحو الانحطاط الأخلاقي. كما أنها دمرت الطبيعة الإنتاجية لديهم، وجعلتهم واهنين عقلياً، وفقدوا مستقبلهم المشرق مع الإسلام. ثم أين هو حضور الدولة؟ وأين دورها في حماية الشباب من هذه المخاطر الحقيقية؟ قال النبي ﷺ: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» صحيح مسلم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست