الجيش الأمريكي يخطف إدارة ترامب ويدفع للحرب
الجيش الأمريكي يخطف إدارة ترامب ويدفع للحرب

هذا الأسبوع وافق الرئيس ترامب على عقوبات ضد روسيا وإيران وكوريا الشمالية. وقال "إنني أؤيد اتخاذ إجراءات صارمة لمعاقبة وردع السلوك السيئ من جانب الأنظمة المارقة في طهران وبيونغ يانغ. وأؤيد أيضا أن أوضح أن أمريكا لن تتسامح مع التدخل في عمليتنا الديمقراطية، وأننا جنبا إلى جنب مع حلفائنا وأصدقائنا ضد التخريب الروسي وزعزعة الاستقرار [1]". من بين الأنظمة الثلاثة التي تستهدفها العقوبات الأمريكية، بدت تلك التي ضد كوريا الشمالية الأكثر إثارة للاشمئزاز. وجهة نظر مشتركة بين الدول دائمة العضوية في مجلس الأمن الدولي. ويتزامن هذا التطور مع تعيين الجنرال كيلي رئيسا لأركان البيت الأبيض ويثير شبح الحرب في شبه الجزيرة الكورية.

0:00 0:00
Speed:
August 10, 2017

الجيش الأمريكي يخطف إدارة ترامب ويدفع للحرب

الجيش الأمريكي يخطف إدارة ترامب ويدفع للحرب

(مترجم)

الخبر:

هذا الأسبوع وافق الرئيس ترامب على عقوبات ضد روسيا وإيران وكوريا الشمالية. وقال "إنني أؤيد اتخاذ إجراءات صارمة لمعاقبة وردع السلوك السيئ من جانب الأنظمة المارقة في طهران وبيونغ يانغ. وأؤيد أيضا أن أوضح أن أمريكا لن تتسامح مع التدخل في عمليتنا الديمقراطية، وأننا جنبا إلى جنب مع حلفائنا وأصدقائنا ضد التخريب الروسي وزعزعة الاستقرار [1]". من بين الأنظمة الثلاثة التي تستهدفها العقوبات الأمريكية، بدت تلك التي ضد كوريا الشمالية الأكثر إثارة للاشمئزاز. وجهة نظر مشتركة بين الدول دائمة العضوية في مجلس الأمن الدولي. ويتزامن هذا التطور مع تعيين الجنرال كيلي رئيسا لأركان البيت الأبيض ويثير شبح الحرب في شبه الجزيرة الكورية.

التعليق:

في الأيام الأولى لإدارة ترامب، اقترح سلوك الرئيس تقوية العلاقات مع روسيا وتبريد العلاقات مع الصين. مع مرور الوقت، موقف ترامب تصلب ضد روسيا، وخف تجاه الصين. وقد ساهمت وسائل الإعلام من خلال التدخل الروسي في الانتخابات الرئاسية الأمريكية وتواصل ترامب مع بكين لكبح جماح اختبارات صواريخ بيونغ يانغ، في إعطاء خلفية عن ترامب المفاجئ.

وقد ثبت أن ذلك لم يدم طويلا. فقد أظهرت التجارب الصاروخية المتتالية من قبل كوريا الشمالية لترامب أن بكين كانت غير قادرة أو غير راغبة في الضغط على بيونغ يانغ للتخلي عن سعيها لامتلاك تكنولوجيا صاروخية ذات مصداقية يمكن أن تحمل حمولة نووية ضد المدن الأمريكية. للتخفيف من هذا التهديد، رد ترامب عن طريق نشر منظومة دفاع جوي صاروخي [2] في كوريا الجنوبية وتجميع البحرية الأمريكية بالقرب من الشواطئ الصينية.

وقد أدى القلق من "منظومة الدفاع الجوي الصاروخي" القادرة على تتبع الصواريخ الباليستية العابرة للقارات وتقديم إشعار مسبق إلى الدفاعات المنزلية الأمريكية إلى جانب الموقف الأمريكي العدواني ضد كوريا الشمالية، أدى إلى تسريع استعدادات روسيا والصين للحرب. فقد عززت الصين دفاعاتها على طول الحدود مع كوريا الشمالية بينما نشرت روسيا 100 ألف جندي بالقرب من الحدود مع دول الناتو بحجة القيام بتدريبات عسكرية.

كلا هذين المقياسين لهما بُعدٌ هجومي ويشبهان الأحداث التي أدت إلى الحرب الكورية في عام 1953. حرب على شبه الجزيرة الكورية قد تؤدي بالقوات الصينية والأمريكية للقتال من أجل الأراضي عبر خط العرض 38 [3]، بل قد تؤدي إلى حرب نووية. إن انشغال أمريكا مع الصين في شبه الجزيرة الكورية قد يؤدي إلى التدخل الروسي في أوروبا الشرقية، وخاصة رغبة موسكو في ضم أوكرانيا.

سياسة ترامب تجاه كل من روسيا والصين لا تختلف عن سياسة سلفه المتمثلة في احتواء كلا القوتين. في الواقع، هناك تشابه مثير للجزع بين سياسات بوش وأوباما، والمصرح منها هو تقييد كلا البلدين لعدم تأكيد هيمنتهم في أوراسيا. والفرق الوحيد هو أن أمريكا كانت في الماضي مستعدة لخوض حربين متزامنتين ولكن الأزمات المالية لعام 2008 والتخفيضات العسكرية العميقة في زمن أوباما تعني أن قدرة الحرب الأمريكية تقتصر على حرب واحدة تنطوي على قوة عظمى.

هناك فرق رئيسي بين سياسات حكومات أمريكا السابقة وإدارة ترامب التي يتردد صداها الظاهر عليها كلها. وهو صعود المؤسسة العسكرية في إدارة ترامب. الجنرال جون كيلي هو رئيس الأركان في البيت الأبيض، وزير الدفاع هو الجنرال جيمس ماتيس، الجنرال ماكماستر هو مستشار الأمن القومي للبيت الأبيض، وفي يوم الثلاثاء، تم تعيين النائب العام جيف سيسيونس المسمى بالجنرال مارك س. إتش كمدير لاتحادية مكتب السجون.

ويهيمن الجنرالات الآن على صنع السياسات وتنفيذها. تقليديا في العلاقات الخارجية الأمريكية، كانت الدبلوماسية قليلا ما تلجأ للقوة العسكرية لإصلاح المشاكل الدولية. وجود الرجال العسكريين في المواقع السياسية يرجح تضخيم هذا الاتجاه، لأنهم يساوون معظم المشاكل الدولية مع المسامير التي تحتاج إلى مطرقة لإصلاحها. وبعبارة أخرى، يسعى الجنرالات إلى إيجاد حلول صفرية للمشاكل السياسية، وهذا يتوقف على الاستسلام غير المشروط للعدو. وهذه العقلية تزيد من احتمالية الحرب.

بالإضافة إلى ذلك، الهيمنة العسكرية للسلطة التنفيذية هي علامة على أن التفكير السياسي في انخفاض. في نهاية المطاف سوف ينهار النظام، كمنظور سياسي يعارضه الخصم. وعلى الرغم من سمعة أمريكا في الشؤون العالمية، فمن المحتمل جدا أن تكون القوة العسكرية الأمريكية السبب الرئيسي وراء زوالها. وأوضح المؤرخ كينيدي بإسهاب كيف أن انتشار الجيش الأمريكي سيعجل سقوطه.

أمريكا ليست الدولة الرائدة الوحيدة في العالم التي تستسلم لمضايقات قوتها العسكرية. لقد كانت الدولة العثمانية مذنبة بالسماح للجيش بالسيطرة على السياسة الخارجية، ولم تول اهتماما كافيا للسياسة. في السنوات اللاحقة، لم يتمكن العثمانيون من وقف مخططات القوى الأوروبية، بل حتى استخدم جيشها ضدها.

ومن هنا، من المهم لأبناء الأمة تطوير العقلية السياسية الصحيحة وفهم التفاعل بين الدبلوماسية والقوة العسكرية وحدود كل منهما. رسول الله e أظهر كلتا المهارتين خلال وبعد إبرام معاهدة الحديبية. حيث سمحت المعاهدة لرسول الله e بالقضاء على يهود خيبر، ونشر الإسلام في جميع أنحاء شبه الجزيرة العربية وفتح مكة المكرمة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي

المراجع:

[1] http://www.cbsnews.com/news/trump-signs-sweeping-sanctions-bill-targeting-russia-iran-and-north-korea/

[2] http://www.lockheedmartin.co.uk/us/products/thaad.html

[3] https://www.theguardian.com/commentisfree/2017/aug/06/north-korea-un-vote-russia-china-resolution-2371

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست