الكفار يئسوا من الله ورسوله والمؤمنين كلما رأى الكفار أنك ترضيهم فاحذر من تصرفاتك!
الكفار يئسوا من الله ورسوله والمؤمنين كلما رأى الكفار أنك ترضيهم فاحذر من تصرفاتك!

الخبر:   أكدت الممثلة الخاصة للأمم المتحدة في أفغانستان، ديبورا ليونز، أثناء مخاطبتها اجتماع مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة بشأن أفغانستان، أن الوضع المقبل في أفغانستان غير مؤكد، وبالتالي هناك حاجة إلى خارطة طريق وتفويض إشرافي لكي تعود أفغانستان بنشاط إلى الأسرة العالمية. وألقى ممثلو الولايات المتحدة وبريطانيا وفرنسا ودول الجوار لأفغانستان كلمات في الاجتماع وطالبوا حكومة طالبان بالالتزام بالقيم العالمية لمعالجة الأزمة الإنسانية في البلاد. (بي بي سي) 

0:00 0:00
Speed:
March 09, 2022

الكفار يئسوا من الله ورسوله والمؤمنين كلما رأى الكفار أنك ترضيهم فاحذر من تصرفاتك!

الكفار يئسوا من الله ورسوله والمؤمنين

كلما رأى الكفار أنك ترضيهم فاحذر من تصرفاتك!

(مترجم)

الخبر:

أكدت الممثلة الخاصة للأمم المتحدة في أفغانستان، ديبورا ليونز، أثناء مخاطبتها اجتماع مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة بشأن أفغانستان، أن الوضع المقبل في أفغانستان غير مؤكد، وبالتالي هناك حاجة إلى خارطة طريق وتفويض إشرافي لكي تعود أفغانستان بنشاط إلى الأسرة العالمية. وألقى ممثلو الولايات المتحدة وبريطانيا وفرنسا ودول الجوار لأفغانستان كلمات في الاجتماع وطالبوا حكومة طالبان بالالتزام بالقيم العالمية لمعالجة الأزمة الإنسانية في البلاد. (بي بي سي)

التعليق:

أولاً: يجب على طالبان وجميع المسلمين في العالم أن يدركوا أن مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة هو مؤسسة الذئاب التي تهدف إلى صيد الأغنام في جميع أنحاء العالم. تعمل الأمم المتحدة بالفعل بصفتها المنظم والمبرر للاحتلال الغربي والإرهاب والجريمة والاستعمار. حصلت جميع البلاد الإسلامية تقريباً، بما في ذلك أفغانستان، التي شهدت غزواً من الاحتلال الاستعماري على إذن مما تسمى قرارات مجلس الأمن الدولي. فما الذي يجعلنا نستجيب بشكل إيجابي لرغبة العدو وقاتل ملايين المسلمين؟!

ثانياً: في وقت سابق من هذا الشتاء، أعلنت الأمم المتحدة صراحة أن معظم الأفغان كانوا يتضورون جوعاً وأن الوضع في أفغانستان سيتحول قريباً إلى كارثي. لكننا شهدنا أن الشتاء قد مضى ولحسن الحظ لم يواجه الناس مثل هذا الوضع العصيب. يزعمون أن الوضع مختلف بشكل رئيسي بسبب مساعدات المجتمع الدولي، في حين إن الواقع هو أن أقل من 30٪ من هذه التبرعات تصل إلى الناس، أما الـ70٪ فإنها تُهدر لأنها تُنفق على العمليات الإدارية للأمم المتحدة والمنظمات الدولية والمنظمات غير الحكومية المحلية والسلطات المحلية.

ثالثاً: القيم التي تروج لها الأمم المتحدة كثيراً على أنها عالمية وتعززها من خلال عشرات الحيل في العالم ليست كذلك، ولكنها قيم علمانية تتعارض مع الطبيعة البشرية والتوجيهات الإلهية. تتحدث الأمم المتحدة عن مبادئ وقيم ومعايير تقوم على فكرة عدم تدخل الله تعالى في شؤون الإنسان، لذلك لا يجوز أبداً للمسلمين قبول قيمهم التي لا يسمح لنا الله سبحانه وتعالى بفعلها.

رابعاً: بعد قرابة ستة أشهر من سيطرة طالبان على السلطة، ما زالت لم تبايَع من الشعب. فقد تأخر تنفيذ أوامر الله سبحانه وتعالى في الداخل وأيضا أوقف حمل الإسلام إلى العالم بالدعوة والجهاد. كما أنهم لم يعلنوا أن الدستور يقوم على القرآن والسنة وإجماع الصحابة والقياس. وكذلك استمروا في معالجة شؤون الناس ضمن هيكل النظام الجمهوري المشوه السابق ويطالبون باستمرار السعي للحصول على اعتراف الدول والأمم المتحدة. مثل هذا السلوك من طالبان شجع المستعمرين الغربيين على تغيير نهجهم حيث كانوا يحاولون ردع الإمارة عن القيم الأساسية للإسلام من خلال إظهارهم باب الحوافز والتشجيعات لتمهيد الطريق تدريجياً للإمارة من خلال تذويبهم في النظام العالمي الحالي كدولة قومية ذات ألقاب إسلامية.

لهذا السبب، ذكرت ديبورا ليونز أن أي تعاون مع مسؤولي الإمارة يخضع لضمانات تعليمية لجميع الفتيات والفتيان، واحترام حقوق الإنسان، ودعم إنشاء هيكل سياسي شامل لضمان انعكاس مخاوف جميع الأفغان في عملية صنع القرار، ودعم الحوارات السياسية لإضفاء الشرعية على الحكومة ومكافحة المخدرات والإرهاب. وأضافت أن التقدم الذي أحرزته الإمارة حتى الآن يحفزها على العمل مع سلطات الأمر الواقع والأفغان الآخرين لتمهيد الطريق أمام الحكومة الأفغانية للانضمام إلى المجتمع الدولي.

وبالتالي، فإن الدولة الإسلامية الحقة لا تصادف أبداً أن تتوافق مع القيم العالمية الحالية. لا ينبغي أن تذوب في النظام الدولي الحالي ولا أن تعطي الأمل للكفار المستعمرين بتغيير سلوكهم بناءً على رغبتهم، لأن الإسلام لديه القدرة على بناء دولة من خلال قدرات الأمة الإسلامية والحلول المبدئية الراسخة التي من شأنها التغلب على النظام العالمي الحالي وإجبار العديد من البلدان على الدخول في تفاعل معها ليس بطريقة أن يبتلع النظام الحالي النظام الإسلامي.

إذا كانت الإمارة الإسلامية تفتقر إلى مثل هذا الفقه والمنهج، فإن حزب التحرير، باعتباره أعظم قيادة فكرية وسياسية في العالم، قد استعد بشكل كامل لإعادة الخلافة على منهاج النبوة، وهو ليس فقط جاهزاً لتقديم دستوره الذي يستند فقط إلى الإسلام، وفقه الأنظمة الإسلامية: في الحكم، والاقتصاد، والمال، والاجتماع، والقضاء، والتعليم، والسياسة الخارجية، إلخ للإمارة الإسلامية، لكنه سيجمع أيضاً القدرات الفكرية والسياسية من جميع أنحاء الأمة الإسلامية لنتعاون في تطبيق الإسلام في جميع جوانب حياتنا. أخيراً، يجب علينا نحن المسلمين أن نؤمن بأن الكفار دائماً يخيب أملهم من الله ورسوله ﷺ والمؤمنين، لذلك يجب أيضاً أن نجعل الكفار يرون خيبة أملهم. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست