الخلافة الراشدة ستنهي التدمير الذي يسببه صندوق النقد الدولي
الخلافة الراشدة ستنهي التدمير الذي يسببه صندوق النقد الدولي

الخبر:   في 3 تشرين الأول/أكتوبر 2024، ذكرت صحيفة باكستان اليوك أن "ناثان بورتر، مدير بعثة صندوق النقد الدولي في باكستان، حذر من أن حزمة الإنقاذ الأخيرة البالغة 7 مليارات دولار قد تكون الفرصة الأخيرة للبلاد إذا تم تنفيذ الإصلاحات الموصى بها بنية صادقة". (المصدر)

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2024

الخلافة الراشدة ستنهي التدمير الذي يسببه صندوق النقد الدولي

الخلافة الراشدة ستنهي التدمير الذي يسببه صندوق النقد الدولي

(مترجم)

الخبر:

في 3 تشرين الأول/أكتوبر 2024، ذكرت صحيفة باكستان اليوك أن "ناثان بورتر، مدير بعثة صندوق النقد الدولي في باكستان، حذر من أن حزمة الإنقاذ الأخيرة البالغة 7 مليارات دولار قد تكون الفرصة الأخيرة للبلاد إذا تم تنفيذ الإصلاحات الموصى بها بنية صادقة". (المصدر)

التعليق:

لقد دخلت باكستان للتو في برنامجها الخامس والعشرين مع صندوق النقد الدولي، بعد استكمال الشروط القاسية بموجب الترتيب الاحتياطي لمدة تسعة أشهر. وقد عبر رئيس الوزراء عن رضاه، وكأن هذا سبب للاحتفال (المصدر). ومع ذلك، لفهم تأثير برنامج صندوق النقد الدولي، من الضروري التعرف على الأزمات العميقة الجذور الناتجة عن الشروط النيوليبرالية، أو بالأحرى الاستعمار الجديد، ضمن برامج صندوق النقد الدولي.

تظهر الآثار المدمرة للبرامج المتعاقبة لصندوق النقد الدولي في البيانات الاقتصادية؛ فقد انكمش الناتج المحلي الإجمالي الحقيقي لباكستان من 316.5 مليار دولار في عام 2018 إلى 298.2 مليار دولار في عام 2023، ما يشير إلى تراجع مقلق في الصناعة المحلية. ومع معدل تضخم يبلغ 11.5% سنوياً، تتحمل الغالبية ذوي الدخل المنخفض من السكان أقسى الضغوط في هذه الأزمة الاقتصادية الممتدة. على مدار السنوات الخمس الماضية، لم تغطِ احتياطيات باكستان من العملات الأجنبية سوى ثلاثة أشهر ونصف من الواردات، بينما ارتفعت الديون الخارجية إلى 42% من الناتج المحلي الإجمالي. ومع بلوغ أسعار الربا 17.5%، فإن تكاليف الاقتراض للشركات والصناعات مرتفعة. محاصرة في فخ الديون، يُنفَق حوالي 75% من إيرادات الضرائب في باكستان على مدفوعات الضرائب، ما يترك موارد محدودة للتعليم والصحة والتنمية. (المصدر)

بعيداً عن الأرقام، فإن الواقع المجتمعي والاقتصادي في باكستان مروع. حيث هناك فجوة كبيرة بين الأثرياء والطبقات الكادحة. لقد ارتفعت تكلفة الاحتياجات الأساسية بشكل كبير، حيث تكافح الأسر لتلبية حتى احتياجاتها الأكثر أساسية. والزيادات المتكررة في فواتير الخدمات العامة وتكاليف النقل تزيد من الأعباء. تشعر منشآت الأعمال بالضغط، حيث تتقلص طلبات الاستهلاك بينما ترتفع نفقات التشغيل، ما يفاقم الوضع بفعل الضرائب العالية، والناس يفرون من البلاد.

إن برامج صندوق النقد الدولي هي سبب تدمير الاقتصادات في جميع أنحاء العالم. والأزمة في باكستان هي القاعدة، وليست الاستثناء. تشترط شروط أي برنامج لصندوق النقد الدولي بالدرجة الأولى تحقيق مصالح المقرضين العالميين على حساب الأولويات المحلية. وتحوّل البرامج الموارد من الأهداف التنموية الحيوية إلى بناء احتياطيات النقد الأجنبي. وهذا يضع البلاد في حلقة مفرغة من الاقتراض والسداد، ما يزيد من الاعتماد الخارجي. لقد تم تصميم التدابير لمعالجة المؤسسات المالية ذات رأس المال المنخفض لحماية مصالح الدائنين. ومن أجل إدارة خدمة الدين والعجز المالي، تقترض الحكومة بشكل متكرر من البنوك التجارية، ما يخلق حلقة ديون مفرغة.

ثم هناك قائمة طويلة من الشروط المتعلقة بالاقتصاد. حيث يُصر صندوق النقد الدولي على خصخصة المشاريع المملوكة للدولة، بما في ذلك الكيانات في القطاعات الأساسية مثل الزراعة والنسيج والصناعات التحويلية والتعليم. تضعف الخصخصة قدرة الدولة على الإشراف على الصناعات وتلبية احتياجات المجتمع، ما يجعلها أكثر اعتماداً على القروض. كما تشجع الشروط المتعلقة بالتجارة والأسواق الشركات المتعددة الجنسيات الكبرى، ما يجعل من الصعب على الشركات المحلية المنافسة. تصبح الاقتصاديات معتمدة بشكل كبير على الواردات من القوى الكبرى، لا سيما في قطاعات مثل الطاقة والنسيج والسيارات والإلكترونيات والأدوية. وتؤدي إزالة الدعم إلى تحميل المزيد من الأعباء على العامة. وأما سياسات تعزيز القدرة على التكيف مع المناخ، فهي تفضل التكنولوجيات الأجنبية، ما يزيد من الاعتماد الخارجي.

غارقة في القروض القائمة على الربا، مع كون الاقتصاد فعلياً مرهوناً، قد تخفض الحكومة بعد ذلك أسعار الربا في محاولة لتحفيز الاستثمارات والنمو. وغالباً ما يؤدي ذلك إلى انتعاش قصير الأمد، يتبعه انهيار مدمر. ثم تعود الحكومة إلى المقرضين للحصول على المزيد من القروض!

إن برامج صندوق النقد الدولي تمثل عبئاً على معظم البشرية. فقط الأحكام الإسلامية التي ستطبقها الخلافة الراشدة على منهاج النبوة القائمة قريبا بإذن الله يمكن أن تنقذ العالم من الظلم الاقتصادي. قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ﴾.

ستُنهي الخلافة استغلال الاستعمار من خلال مجموعة من الأحكام الشرعية، سواء في باكستان أو في بقية بلاد المسلمين:

أولاً: سيساهم اعتماد الذهب والفضة كأساس للعملة في إنهاء الطباعة المستمرة للنقود الورقية، وتفكيك هيمنة الدولار، ما سيجلب الاستقرار للتجارة الدولية ويحد من العجز التجاري.

ثانياً: سترفض الخلافة جميع مدفوعات الربا الأجنبية والمحلية، ما سيحرر الاقتصاد من أعباء الديون الجائرة.

ثالثاً: ستضع الخلافة الملكية العامة مثل الطاقة والمعادن تحت إشراف الدولة، ما سيقلل التكاليف على الناس ويزيد الإيرادات لخزينة الدولة، ما يساعد على تقليل الاعتماد على الضرائب والقروض.

رابعاً: ستلغي الخلافة الضرائب الظالمة، وستطبق نظاماً إسلامياً يشمل الخراج والجزية والزكاة، لضمان جمع الإيرادات دون تحميل الفقراء والمدينين الأعباء.

خامساً: تسهل الشركات الإسلامية والأحكام الشرعية التي تربط ملكية الأرض بزراعتها المشاركة في الإنتاج الزراعي والصناعي.

لا مفر من البؤس الاقتصادي سوى بإقامة الخلافة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عفان – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست