الخلافة ليست حكما دينيا وليست في خبر كان
الخلافة ليست حكما دينيا وليست في خبر كان

الخبر:   نشر الكاتب والمفكر السعودي توفيق السيف مقالا في جريدة الشرق الأوسط تحت عنوان "هل انتهى نموذج الحكم الديني؟" ملخصه أن "الخلافة التي اعتبرها معظم المسلمين نموذجاً للسياسة الفاضلة، لم تعد منذ مطلع القرن العشرين احتمالاً جدياً أو مرغوباً. ولهذا لا تجد بين جمهور المسلمين، فضلاً عن المفكرين والعاملين في الحقل السياسي، من يسعى إليها. وإذا تحدثوا عنها، تحدثوا عن ماضٍ جميل، لا عن مشروع ممكن. هذا يعني ببساطة أن الخلافة قد خرجت من التاريخ، وباتت جزءاً من المكتبة. وقد اعتاد العرب التعبير عن الشيء الذي خرج من التاريخ، بالقول إنه أمسى في خبر كان. ولا شك أن فكرة الخلافة قد أمست كذلك".

0:00 0:00
Speed:
January 01, 2023

الخلافة ليست حكما دينيا وليست في خبر كان

الخلافة ليست حكما دينيا وليست في خبر كان

الخبر:

نشر الكاتب والمفكر السعودي توفيق السيف مقالا في جريدة الشرق الأوسط تحت عنوان "هل انتهى نموذج الحكم الديني؟" ملخصه أن "الخلافة التي اعتبرها معظم المسلمين نموذجاً للسياسة الفاضلة، لم تعد منذ مطلع القرن العشرين احتمالاً جدياً أو مرغوباً. ولهذا لا تجد بين جمهور المسلمين، فضلاً عن المفكرين والعاملين في الحقل السياسي، من يسعى إليها. وإذا تحدثوا عنها، تحدثوا عن ماضٍ جميل، لا عن مشروع ممكن. هذا يعني ببساطة أن الخلافة قد خرجت من التاريخ، وباتت جزءاً من المكتبة. وقد اعتاد العرب التعبير عن الشيء الذي خرج من التاريخ، بالقول إنه أمسى في خبر كان. ولا شك أن فكرة الخلافة قد أمست كذلك".

التعليق:

مهلا يا حضرة المفكر! فأنت هنا تناقض نفسك وتغالط الواقع وتثبت وتنفي على هواك!

أقل ما يطلب ممن يصف نفسه بالمفكر هو أن يجتهد في البحث ويوسع التفكير في المادة ويتناولها من مختلف الزوايا ووجهات النظر، ويعمل العقل في الحكم بعد استيفاء الشروط المعروفة في البحث العلمي أو الفكري.

لم نجد في هذه المقالة ما يدل على بحث أو تفكير أو مقارنة أو تحليل لنرد عليه ردا علميا أو فكريا نحاججه بالأدلة التي ساقها! والمؤشران اللذان ساقهما للدلالة على رأيه هما نموذج الحكم في إيران وما يحصل الآن فيها من احتجاج على إلزام النساء بلبس الحجاب، والآخر في طالبان وما كان مؤخرا من منع الفتيات عن الدراسة. وهنا نستغرب أن يقر الكاتب في مطلع المقال أن الخلافة سادت 13 قرنا، ولم يفكر لحظة تفكيرا جديا في هذه المدة الزمنية التي تعتبر بلا شك أطول فترة حكم شهدتها الإنسانية، وأعظم دولة شهد لقوتها العدو والصديق، ولكن أخانا الكاتب مر عليها هكذا دون أدنى اعتبار، ثم انتقل فجأة إلى هدم الخلافة وقرر بشكل سطحي فاضح: "ومع سقوط الدولة العثمانية في 1924م، لم تعد احتمالاً جدياً أو جديراً بالعناء عند أحد من المسلمين"! وهنا لم يراجع الكاتب نفسه قبل أن يكتب ما كان من أحداث أدت إلى هدم الخلافة على أيدي أعداء الإسلام وأعوانهم، وما سبق ذلك من مكائد ومؤامرات لإسقاط الدولة العظمى في ذلك الوقت. ثم لم يقارن الكاتب حال المسلمين بعد هدم الخلافة وهو واقع غني عن التفصيل والتدليل.

يذكر الكاتب أن "الاستثناء الوحيد هو حزب التحرير الذي بقي مخلصاً لفكرة الخلافة حتى اليوم. لكن سيرة الحزب ذاته دليل على القول السابق، فقد أخفق تماماً في إقناع الجمهور، كما أخفق في الحصول على مكان في الحياة السياسية، منذ تأسيسه وحتى يومنا هذا". وهنا نؤكد فخرنا في حزب التحرير بأنه مخلص لهذه الفكرة، ونؤكد هنا مجددا أنه من دلالات الثبات والإخلاص للفكرة أن الحزب لا يسعى للحصول على مكان في الحياة السياسية، حيث نعلم أن هذه التي يعنيها الكاتب ليست حياة سياسية بل هي مقتل للأمة ومقبرة للفكرة وانتحار سياسي. فالسياسة في نظر الحزب هي رعاية الشؤون على أساس الإسلام وليس مجرد انتماء للبرلمان أو فتح مكتب سياسي أو مشاركة في وزارة تقر الكفر وتحكم به، وكان حريا بالكاتب أن يعلم ذلك ويثبته في مقاله لتوضيح الفكرة، ولكنه أراد هنا تضليل القارئ وصرف ذهنه عن الحق.

أما قول الكاتب "إن العنصر المميز لنموذج الحكم الديني المعاصر، هو قدرته على صنع مجال عام غير متأثر بنمط الحياة الغربي"، فهو يدل على سطحية متناهية حيث استدل على الخلافة بنموذج الحكم الديني واستشهد عليها بحكم طالبان وإيران ولم يجهد نفسه في فهم أن الخلافة ليست حكما دينيا وأنه ليس في الإسلام رجال دين وليس في الإسلام بابا ولا ماما! وهنا نلفت النظر إلى ما ورد في ثقافة حزب التحرير في تعريفه للخلافة والاستدلال على وجوبها وما يتعلق بها من أحكام وغير ذلك في أبحاث مستفيضة كان حريا بالكاتب أن يراجعها ويناقشها على أسس فقهية أو علمية أو على الأقل بشيء من العمق ولا نطلب الاستنارة في التفكير بل يكفي أن يجهد نفسه ويظهر أنه جاد في بحثه وليس مشغولا في ملء عامود في الجريدة أو تلقي أجرة على مقالة بعدد الكلمات!

وهنا ننبه الكاتب إلى البعد عن مؤثرات الغرب المضللة التي تظهر في عدائه للإسلام باتخاذ طالبان أو إيران نموذجا للحكم الإسلامي أو حصر الخلافة في تاريخ أواخر الدولة العثمانية دون البحث في الحكم الشرعي وما جاء من أدلة شرعية مستفيضة تدل على فرضية الحكم بما أنزل الله.

وللمزيد نوجه الكاتب إلى هذا المقال المبسط في تعريف الخلافة وما قاله العلماء والفقهاء لعله يراجع ما كتبه ويهتدي للحق. وإن أراد المزيد فثقافة الحزب مفتوحة في مواقعه وميسرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. يوسف سلامة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست