الخلافة قادمة بعز عزيز أو بذل ذليل
الخلافة قادمة بعز عزيز أو بذل ذليل

  الخبر: في خطابه المسجل يوم الاثنين 2025/4/21 قال رئيس وزراء كيان يهود، نتنياهو "لن نقبل بقيام أي خلافة على شاطئ البحر المتوسط".

0:00 0:00
Speed:
April 23, 2025

الخلافة قادمة بعز عزيز أو بذل ذليل

الخلافة قادمة بعز عزيز أو بذل ذليل

الخبر:

في خطابه المسجل يوم الاثنين 2025/4/21 قال رئيس وزراء كيان يهود، نتنياهو "لن نقبل بقيام أي خلافة على شاطئ البحر المتوسط".

التعليق:

ليس غريبا ولا مستهجنا على نتنياهو مثل هذا القول، فهو يؤمن بشكل قطعي أن الخلافة هي القادرة على إزالة كيانه الهش، وهي وحدها القادرة على قيادة أمة الإسلام، وتسخير مقدراتها، وتحمل رسالة الإسلام إلى العالم أجمع. ومن قبله حذر منها جورج بوش رئيس أمريكا الأسبق، ومعه وزير دفاعه رامسفيلد، وجون مكين، ومن بعدهم مدير الاستخبارات الروسي الذي بين أن خطر الخلافة وعودتها قد ارتبط بحزب سياسي يعمل على إقامتها وذكر حزب التحرير تحديدا. فمسألة الخلافة ومقدرتها على التصدي لكل أعداء الأمة، بل وحمل رسالة الإسلام إلى العالم أجمع، ليست محل جدال عند أعداء الإسلام يهودا كانوا أو صليبيين، أو علمانيين ملحدين. فالمسألة عندهم هي العمل على منع عودة الخلافة من جديد. وقد سمعت في إحدى ندوات المستشرق الإنجليزي برنارد لويس يقول إن الخطر الأكبر الذي يتهدد أوروبا هو عودة جيوش المسلمين في ظل دولة الخلافة لتستأنف حصارها لمدينة فينا، والتي أقلعت عنها قبل أكثر من ثلاثة قرون.

ولكن المستغرب والمستهجن، هو أن تقعد الأمة الإسلامية عن طلب الخلافة والعمل الحثيث لاسترجاع جذوتها ومدها بالحرارة اللازمة لتعود شعلة وضاءة في جبين العالم بأسره. فكلما أتيحت فرصة لها للإطاحة بنظام علماني عميل، تجدها تنكص إلى الوراء لتطالب بما يريده الغرب الكافر ويمليه عليها من نداءات بحرية زائفة، أو علمانية ديمقراطية ومدنية كافرة! بدل أن ترتقي إلى ما فرضه الله عليها، وجعل فيه عزتها وتمكينها وأمنها. وكأن أقطاب الغرب الكافر مثل نتنياهو، هم من يعرف حقيقة قول الله عز وجل: ﴿وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾. فالخلافة يأتي معها التمكين والأمن، الذي تبحث عنه اليوم كل شعوب الأرض وترنو إليه بعيدا عن التدمير وقتل وتشريد ملايين البشر كما هو حاصل في السودان وسوريا وفلسطين وأوكرانيا وميانمار، وغيرها الكثير.

وكأن المسلمين أصحاب الرسالة، لا يقرؤون في كتاب الله أن العدل والقسط لا يمكن أن يتحقق في أي بقعة من الأرض بدون سيادة شريعة الله وأحكامه، فالله تعالى يقول في سورة الحديد: ﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾. فالعدل الذي تنشده كل شعوب الأرض، والذي تدوسه أمريكا والغرب الكافر كل يوم وكل حين، مغيّب بقوة السلاح والأحابيل الخبيثة، والسياسات اللعينة المتمثلة بحروب عسكرية دموية أحيانا، وحروب تجارية مالية أحيانا أخرى، وبانحطاط خلقي وتعدٍّ على خلق الله مرات ومرات، وغيرها كثير.

فليعلم المسلمون الذين جعل الله أمتهم خير أمة أخرجت للناس أن هذه الخيرية لها ثمنها وعليها وزرها إن لم يقوموا بواجبها. فالله تعالى حين وضع سمة الخيرية لهذه الأمة، بيّن استحقاقاتها. فخير أمة أخرجت للناس عليها أن تمارس دورها المنوط بها، والذي حدده الله لها، وأهمه تحقيق العدل والقسط للناس كافة، وكف ظلم أمريكا وصويحباتها عن أذى الناس والإضرار بهم، ورفع الذل الذي ترزح تحته شعوب الأرض كافة.

وما تحدي نتنياهو وزبانية الغرب للخلافة إلا لأنهم يعلمون أن هذه الأمة لن تقوى على القيام بواجباتها الملقاة على عاتقها إلا بقيادة خليفة راشد يقودها لما فيه خير البشر. فزعماء الكيان ومن ورائهم الغرب الكافر يعلمون مكمن الخطر عليهم، فيشعلون النيران هنا وهناك ليصرفوا الأمة عن تاجها وعزها، ويأتون بكل السحرة ليصرفوا أنظار الأمة عن حقيقة عزتهم وأصل قوتهم، وترياق حياتهم، فلا يعودون يرون النور الذي ينتشر من ثنايا رايات الخلافة خفاقة في الآفاق.

نعم ليس مستغربا ولا مستهجنا أن يقف نتنياهو وغيره من زعماء العالم اليوم يتحدى قيام دولة الخلافة الراشدة. ولكن المستهجن والمستغرب أن لا يهب المسلمون ويشدوا على أيدي من يعملون بكل قوة وإصرار على رد كيد الأعداء في نحورهم ليعلموا أي منقلب ينقلبون! وعلى المسلمين اليوم أكثر من أي وقت مضى أن يصطفوا وراء من نذروا أنفسهم من أول يوم لاسترجاع صرح الخلافة الراشدة الذي أسقطه الغرب الكافر بعد عقود من صراع مرير. على المسلمين أن يقفوا بكل ما أوتوا من قوة وتصميم وإصرار مشحونة بالإيمان، أن يقفوا كالطود العظيم مع هذا النفر الذي لا يزال يقف ثابتا على إيمانه المطلق بأن الخلافة الإسلامية التي يتحداها نتنياهو وترامب وبوتين، هي تاج الفروض، وهي مصدر عزة المسلمين، وهي راعية العدل لكل البشرية، وأنها السبيل الوحيد لتحقيق العبودية المطلقة لله، بنبذ كل الأرباب من دون الله.

وإن كان المسلمون قد غضوا الطرف يوما عن استنهاض هممهم بآيات الله المحكمة مثل ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ﴾، ومن مثل ﴿وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ﴾، ومن مثل ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ﴾، فقد آن لهم أن ينهضوا اليوم ولو بسبب تحدي عدو الله وعدوهم لهم، وطعنهم بأعز قضية لديهم بعد أن طعنهم في غزة وجنين، في يافا والخليل، وفي القدس والأقصى. فإلى عزكم وتاج فروضكم نستنهضكم أيها المسلمون لنرضي الله تعالى أولا، ونقيم أود أمتنا ثانيا، ونخزي عدو الله نتنياهو وشياطينه من الإنس والجن ثالثا.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست