الخلافة تاج الفروض التي يقام بها الإسلام يا فضيلة المفتي وقوانين مصر ودستورها يخالفان الإسلام
الخلافة تاج الفروض التي يقام بها الإسلام يا فضيلة المفتي وقوانين مصر ودستورها يخالفان الإسلام

الخبر:   نقلت اليوم السابع في 2017/10/24م، عن مفتي مصر خلال الندوة التي تعقدها كلية الدعوة بجامعة الأزهر، بالتعاون مع المنظمة العالمية لخريجي الأزهر، بعنوان "تطبيق الشريعة في مصر بين الحقائق والأوهام"، قوله: "العقيدة صحيحة، نقولها نحن ونربي الناس عليها، لكن أمر الخلافة هل من صلب الإيمان؟ أم أنه وسيلة فقهية لإدارة شؤون الأمة؟ مفتي الجمهورية الأسبق الشيخ محمد بخيت قال عام 1926 إن أمر الخلافة الإسلامية من الأمور الفقهية الفرعية وليس من أصول الدين ولا العقائد، وهو ما يخالف كلام حسن البنا مؤسس جماعة الإخوان، علينا أن نطمئن لأن القوانين المعمول بها في مصر مطابقة للشريعة، ولم نشهد قانونا بإلغاء الصلاة والحج والزكاة"، منتقدا ما يُثار من أحاديث حول اصطدام بعض القوانين مع الشريعة الإسلامية.

0:00 0:00
Speed:
October 30, 2017

الخلافة تاج الفروض التي يقام بها الإسلام يا فضيلة المفتي وقوانين مصر ودستورها يخالفان الإسلام

الخلافة تاج الفروض التي يقام بها الإسلام يا فضيلة المفتي

وقوانين مصر ودستورها يخالفان الإسلام

الخبر:

نقلت اليوم السابع في 2017/10/24م، عن مفتي مصر خلال الندوة التي تعقدها كلية الدعوة بجامعة الأزهر، بالتعاون مع المنظمة العالمية لخريجي الأزهر، بعنوان "تطبيق الشريعة في مصر بين الحقائق والأوهام"، قوله: "العقيدة صحيحة، نقولها نحن ونربي الناس عليها، لكن أمر الخلافة هل من صلب الإيمان؟ أم أنه وسيلة فقهية لإدارة شؤون الأمة؟ مفتي الجمهورية الأسبق الشيخ محمد بخيت قال عام 1926 إن أمر الخلافة الإسلامية من الأمور الفقهية الفرعية وليس من أصول الدين ولا العقائد، وهو ما يخالف كلام حسن البنا مؤسس جماعة الإخوان، علينا أن نطمئن لأن القوانين المعمول بها في مصر مطابقة للشريعة، ولم نشهد قانونا بإلغاء الصلاة والحج والزكاة"، منتقدا ما يُثار من أحاديث حول اصطدام بعض القوانين مع الشريعة الإسلامية.

التعليق:

الغرب ترتعد فرائصه كلما ذكرت الخلافة يتذكر كيف كانت جيوشها تسير شرقا وغربا في الماضي وكيف كانت تقف حائلا بينه وبين ثروات الشعوب التي يرتع فيها الآن نهبا وسلبا في غيابها عن الوجود، الغرب الذي يخشى هذه الدولة التي كانت تسمى في أضعف عصورها بالباب العالي والذي كاد لها حتى تمكن من إسقاطها يخشى عودتها ويجند كل طاقاته وطاقات عملائه في سبيل منع أو تأخير قيامها.

وما يقوله فضيلة المفتي عن الخلافة ليس إلا هراء من هراء سادته في الغرب، فالخلافة التي يعرف ونعرف هي الطريقة التي بينتها السنة كطريقة لتطبيق الإسلام وأجمع الصحابة عليها وعاشوا في ظلها وظلت هي النظام الذي يحكم به المسلمون ما يزيد على ثلاثة عشر قرنا من الزمان تطبق عليهم الإسلام في الداخل وتحمله للعالم بالدعوة والجهاد، فالخلافة التي يتقول علينا فضيلة المفتي بأنها رأي فقهي موحياً لكونها وسيلة من الوسائل المباحة لإدارة شئون البلاد رغم كونها ليست وسيلة وإنما هي الطريقة الشرعية والوحيدة لحمل الإسلام وتطبيقه فهي الدولة التي نصت عليها ودلت النصوص الشرعية من قول النبي r«ثم تكون خلافة راشدة... ثم تكون خلافة على منهاج النبوة» وهي التي عبر عنها إمام الحرمين أبو المعالي الجويني بقوله عن الخلافة أو الإمامة أنها (رياسة تامة، وزعامة عامة، تتعلق بالخاصة والعامة، في مهمات الدين والدنيا)، وهي كما دلت النصوص رئاسة عامة للمسلمين جميعا، وانعقد الإجماع على وجوب إقامة الخلافة في الإسلام، وهي واجبة على الكفاية، نقل ذلك الماوردي وابن حزم والجويني والقرطبي وغيرهم، يقول ابن حزم في الفصل: "اتفق جميع أهل السنة وجميع المرجئة وجميع الشيعة وجميع الخوارج على وجوب الإمامة وأن الأمة واجب عليها الانقياد لإمام عادل يقيم فيهم أحكام الله ويسوسهم بأحكام الشريعة التي أتى بها رسول الله r"، ودرج على هذا الفقهاء بلا نزاع، وثبت دليل الوجوب بالنقل ثم العقل.

هذا عن الخلافة التي يقول عنها المفتي أنها رأي فقهي، أما القوانين المصرية التي يدعي أنها مطابقة للشريعة فقول لا نعرف من أين أتى به ولا يقوله إلا جاهل بالشريعة، فيكفينا من هذه القوانين أنها من وضع البشر وأنها وضعت محل تخيير واستفتاء حتى تكون أحكاما مخالفة للشرع بخلاف ما فيها وما في دستورها من مواد تقول صراحة إن مصر تحكم بالديمقراطية وتجعل السيادة للشعب لا للشرع، فعن أي شريعة يحدثنا فضيلة المفتي والسيادة في ديننا للشرع والشعب لا يخير بل يلزم الشعب والحاكم باتباع أحكام الشرع ولا خيار لهم في ذلك ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾، هذا بخلاف أن الإسلام لا تطبق أحكامه في نظام ديمقراطي بل في ظل الخلافة التي تتقول علينا أنها رأي فقهي يا فضيلة المفتي، وبخلاف ما يتضمنه القانون الذي يطبق في مصر من مخالفات جسام آخرها ما استحدثه الرئيس المصري برفع سن الزواج إلى 21 عاماً مشجعا بذلك على تفشي الفحش في أرض الكنانة.

أيها العلماء والشيوخ في أرض الكنانة! إن الإسلام الذي تعلمون لا يطبق إلا في دولة خلافة على منهاج النبوة تطبقه على الناس وتحمله إلى العالم بالدعوة والجهاد، والعمل لإقامتها هو واجبكم قبل غيركم فأنتم أهل العلم وحراس العقيدة وقادة الناس إلى ما فيه خير دينهم ودنياهم، فكونوا كما أراد الله لكم وكما تتوقع الأمة منكم هداة لها تقودونها لخيرها في الدنيا والآخرة ولا تكونوا كالتي نقضت غزلها فتبيعوا دينكم بدنيا الحكام وتكونوا أداة تطوع الشعب لهم وتؤخر النصر الذي وعد الله به، واعلموا أن الخلافة قائمة لا محالة بكم أو بغيركم فكونوا أنتم من جنودها وحملة رايتها يكن الفوز نصيبكم ويربح بيعكم.

يا أهل مصر الكنانة! لا تسمعوا لعلماء باعوا دينهم بدنيا غيرهم فخاب فألهم وخسر بيعهم وبارت تجارتهم ومآلهم خسران مبين، واسمعوا لمن تبع دينكم وعمل لخيركم وقام منكم مقام الرائد الذي لم ولن يكذبكم، اسمعوا لإخوانكم في حزب التحرير واحملوا معهم حملكم الذي ارتضاه لكم ربكم والذي يعيد لكم السيادة والسؤدد ويحقق العدل الذي ترجون في خلافة على منهاج النبوة تطبق الإسلام على الناس وتحمله للعالم بالدعوة والجهاد تطبيقا يرى الناس فيه الإسلام واقعا عمليا فيدخلون في دين الله أفواجا، ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله، اللهم اجعله قريبا واجعلنا من جنوده وشهوده.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست