الخصخصة التي يطلبها صندوق النقد الدولي لا تزيد اقتصاد باكستان إلا ضعفًا
الخصخصة التي يطلبها صندوق النقد الدولي لا تزيد اقتصاد باكستان إلا ضعفًا

الخبر:   في يوم الخميس، 22 كانون الثاني/يناير 2016م، قدّمت الحكومة مشروع قانون بعنوان "تحويل شركة الخطوط الجوية الباكستانية الدولية 2015"، يتم من خلاله تحويل الخطوط الجوية الباكستانية من الناقل الوطني إلى شركة عامة محدودة، وكان الغرض من هذا القانون تمهيد الطريق لخصخصة الخطوط الجوية الباكستانية الدولية. وقد أكدت الحكومة الباكستانية لصندوق النقد الدولي أنه سيتم تخصيص 10 مؤسسات من القطاع العام في عام 2016م بينها 26٪ من أسهم الخطوط الجوية الباكستانية.

0:00 0:00
Speed:
February 20, 2016

الخصخصة التي يطلبها صندوق النقد الدولي لا تزيد اقتصاد باكستان إلا ضعفًا

الخصخصة التي يطلبها صندوق النقد الدولي

لا تزيد اقتصاد باكستان إلا ضعفًا

الخبر:

في يوم الخميس، 22 كانون الثاني/يناير 2016م، قدّمت الحكومة مشروع قانون بعنوان "تحويل شركة الخطوط الجوية الباكستانية الدولية 2015"، يتم من خلاله تحويل الخطوط الجوية الباكستانية من الناقل الوطني إلى شركة عامة محدودة، وكان الغرض من هذا القانون تمهيد الطريق لخصخصة الخطوط الجوية الباكستانية الدولية. وقد أكدت الحكومة الباكستانية لصندوق النقد الدولي أنه سيتم تخصيص 10 مؤسسات من القطاع العام في عام 2016م بينها 26٪ من أسهم الخطوط الجوية الباكستانية. ومن أجل منع الحكومة من خصخصة الخطوط الجوية الباكستانية، بدأت لجنة العمل المشتركة (JAC) في الخطوط الجوية الباكستانية - والتي تمثل الموظفين - إضرابًا عن العمل اعتبارًا من يوم الثلاثاء، الثاني من شباط/فبراير 2016م، وقد قُتل في اليوم الأول من الإضراب اثنان من الموظفين المضربين خلال إطلاق النار على العاملين في الخطوط الجوية الباكستانية بالقرب من المطار الدولي في كراتشي. وبعد ثمانية أيام من الإضراب، علّقت لجنة العمل المشتركة لموظفي الخطوط الجوية الباكستانية الإضراب، الثلاثاء، التاسع من شباط/فبراير 2016م. وكانت قد ألغت مئات الرحلات الجوية لرُكّاب تقطعت بهم السبل، وضاعت مليارات الروبيات من الإيرادات بسبب هذا الصراع بين الخطوط الجوية الباكستانية والحكومة.

التعليق:

تشكلت الخطوط الجوية الباكستانية الدولية في العاشر من كانون الثاني/ يناير من عام 1955م، وبعد تشكيلها أحرزت تقدمًا ملحوظًا في منافسة العديد من شركات الطيران في المنطقة. ومع ذلك، فقد عينت الأنظمة السياسية والعسكرية المتعاقبة أعدادًا كبيرة من أتباعها ومؤيديها ورجالها في إدارة الخطوط الجوية الباكستانية؛ وذلك لملء جيوبها. ولكن الإهمال الإجرامي المتعمد لشئون الشركة أدّى لمأساة فيها، وهي الآن تعاني من خسائر بأكثر من ثلاثمائة مليار روبية، بعد أن كانت تتمتع بأرباح كبيرة. وبما أنها خطوط جوية حكومية، فقد تكبدت الحكومة جميع الخسائر، مما زاد من العجز في ميزانية الحكومة.

وعندما تقدم النظام للحصول على مساعدة مالية من صندوق النقد الدولي، لأخذ قرض ربوي قدره 6.6 مليار دولار في ظل تسهيل الصندوق الممدد (EFF)، في الرابع من أيلول/ سبتمبر 2013م، وضع صندوق النقد الدولي شروطًا "تعجيزية" كما هي عادته، وكان أحد تلك الشروط هي خفض العجز في الميزانية، بفرض بيع الأصول الحكومية، وقد كان الصندوق في الماضي يطلب بيع الأصول الحكومية المربحة، وغايته هي بيع الأصول التي تكبد خسائر فادحة لخزينة الحكومة. ومع ذلك، فإن صندوق النقد الدولي قد طالب هذه المرة ببيع تلك الشركات التي تحقق أرباحًا جيدة! والآن، ومن أجل جعل مطالبهم تبدو عقلانية، بدأت الحكومة بتقديم حجة جديدة للناس، هي أنه ليس من وظيفة الحكومة القيام بأعمال تجارية.

ولتغطية نفقات الدولة، فإن الحكومة تحتاج إيرادات، وهذه يمكن تدبرها من خلال الضرائب والأرباح من الأصول المملوكة للدولة. وإذا كانت الحكومة تكسب المال من أصولها، فإنها في نهاية المطاف ستكون في حاجة أقل لفرض الضرائب أو الحصول على قروض من مصادر محلية أو أجنبية. وإذا كان الأمر كذلك، وكانت الشركات الحكومية تقوم بأداء جيد، فإن الدولة والشعب يصبحون أقوى اقتصاديًا وسياسيًا أيضًا؛ لأنه بدلًا من استثمار مليارات الدولارات لتغطية الخسائر، فإن الدولة ستكسب مليارات كأرباح، وفي نهاية المطاف تخفض من العجز في الميزانية، ومن دون إثقال كاهل الشعب بفرض مزيد من الضرائب عليهم. وهناك العديد من الأمثلة في الماضي تؤكد ذلك، فإنه عندما تم تعيين إدارة قوية مع دعم سياسي كامل على شركات حكومية خاسرة، انقلب حالها مما أدّى لكسب المليارات من الروبيات للخزانة العامة.

وأيضًا فإن وجود الشركات المملوكة للدولة في النقل يشجع المنافسة السليمة، ويضع حاجزًا ضد العصابات التي تستغل المستهلكين، كما حصل خلال إضراب الخطوط الجوية الباكستانية، حيث بدأت شركات الطيران الخاصة تتقاضى أجرة مضاعفة، وفي بعض الحالات ثلاثة أضعاف. وعلاوة على ذلك، فإن توفير النقل العام هو من مسئوليات الدولة، مع مجرد السماح للشركات الخاصة بتوفير ذلك أيضًا. وقد تبنّى حزب التحرير في كتابه "الأموال في دولة الخلافة" أن المرافق العامة هي الأصول والخدمات التي وضعتها الدولة لصالح جميع الرعايا، وهي تشمل خدمات النقل، مثل القطارات وخطوط السكك الحديدية، والطرق العامة، والممتلكات العامة، وهو ما ينطبق أيضًا على الطائرات ووسائل النقل البحري، وهذه من الملكية الفردية التي يسمح للأفراد تملكها، وفي الوقت نفسه يُسمح للدولة أن تتملك هذه الوسائل، مثل الطائرات والقطارات والبواخر، إذا رأت أنه من المناسب للمسلمين لمساعدتهم وتسهيل تنقلهم. وإذا كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يخشى أن يحاسبه الله سبحانه وتعالى على بغلة تعثرت في أرض العراق إذا لم يسوِ لها الطريق، فمن مسئولية الدولة ضمان توفير وسائل النقل بتكلفة معقولة، من خلال توفير وسائل النقل التابعة للدولة. لذلك فإن واجب الدولة أن تلعب دورها في وسائل النقل، فرعاية شئون الأمة فرضٌ عليها.

لا توجد دولة فقيرة استفادت من برامج صندوق النقد الدولي يومًا، فهي مؤسسة استعمارية تشكلت لخدمة الدول الاستعمارية بقيادة أمريكا. وصندوق النقد الدولي وإملاءاته على الاقتصاد الباكستاني، سيضع الدولة في قبضة يديه، ويُكرِه البلاد على اتخاذ المزيد من القروض، ومن ثم فرض المزيد من الضرائب على الناس لتسديد تلك القروض. لذلك فإن باكستان بحاجة للخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فالنظام الاقتصادي في الإسلام سيمكّن باكستان من تحقيق الازدهار الاقتصادي خصوصًا مع إمكاناتها الضخمة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ

نائب الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست