الكرملين يحاول التخلص من المشاكل بالأكاذيب!
الكرملين يحاول التخلص من المشاكل بالأكاذيب!

الخبر: ذكرت الخدمة الصحفية لجهاز الأمن الفيدرالي في 18 شباط/فبراير: "قام جهاز الأمن الفيدرالي للاتحاد الروسي، بالتعاون مع وحدات من الخدمة الفيدرالية للقوات، والحرس الوطني، ووزارة الشؤون الداخلية لروسيا، كجزء من وحدة خاصة، بعملية في جمهورية القرم، ومدن موسكو، وسانت بطرسبرغ، وبريمورسكي، وأقاليم كراسنودار، وجمهوريات باشكورتوستان، وداغستان، وكذلك في أورلوف، وكالوغا، وإيفانوفو، اعتقلت أعضاء المنظمة الإرهابية الدولية حزب التحرير الإسلامي (محظور في روسيا بقرار من المحكمة العليا للاتحاد الروسي عام 2003).

0:00 0:00
Speed:
February 24, 2021

الكرملين يحاول التخلص من المشاكل بالأكاذيب!

الكرملين يحاول التخلص من المشاكل بالأكاذيب!
(مترجم)


الخبر:


ذكرت الخدمة الصحفية لجهاز الأمن الفيدرالي في 18 شباط/فبراير: "قام جهاز الأمن الفيدرالي للاتحاد الروسي، بالتعاون مع وحدات من الخدمة الفيدرالية للقوات، والحرس الوطني، ووزارة الشؤون الداخلية لروسيا، كجزء من وحدة خاصة، بعملية في جمهورية القرم، ومدن موسكو، وسانت بطرسبرغ، وبريمورسكي، وأقاليم كراسنودار، وجمهوريات باشكورتوستان، وداغستان، وكذلك في أورلوف، وكالوغا، وإيفانوفو، اعتقلت أعضاء المنظمة الإرهابية الدولية حزب التحرير الإسلامي (محظور في روسيا بقرار من المحكمة العليا للاتحاد الروسي عام 2003).


ونتيجة لأنشطة البحث العملياتية التي تم إجراؤها، ثبت أن أعضاء التنظيم، بما في ذلك عبر الإنترنت، نشروا أيديولوجية إرهابية إسلامية متشددة، إلى جانب عدم التسامح مع الأديان الأخرى بين سكان الاتحاد الروسي، كما قاموا بتجنيد الروس المسلمين في صفوف هذه المنظمة الإرهابية الدولية. في أنشطتهم الدعوية، طبقوا عقيدة إنشاء وإعلان ما يسمى بـ"الخلافة العالمية"، التي يسعون لتأسيسها عبر الإطاحة بالحكومات العلمانية بالانقلابات العسكرية و"الثورات الإسلامية".

التعليق:


بعد تصريحات الخدمة الصحفية لجهاز الأمن الفيدرالي حول اعتقال شباب الحزب، امتلأت وسائل الإعلام الروسية بالعناوين الرئيسية حول العمليات واسعة النطاق للأجهزة الأمنية والعمل الناجح لجهاز الأمن الفيدرالي في البلاد. معظم وسائل الإعلام لم تكلف نفسها عناء التحقق من مصداقية المعلومات، وحتى أكثر من ذلك لم يتحقق أي منها من حقيقة تورط حزب التحرير في أنشطة إرهابية!


كان نظام الكرملين ولا يزال منذ الوقت الذي وصل فيه الشيوعيون الملحدون إلى السلطة في روسيا، مجرماً وموجوداً على حساب هياكل السلطة مثل الشرطة، وجهاز الأمن الفيدرالي، وما إلى ذلك. وتعتقد السلطات أن شعب روسيا كان ولا يزال عبدا لهم. حيث إن كل من لديه رأي يعارض هذه القوة الإجرامية، يقوم الكرملين بقمعه بلا رحمة. وكان هذا هو الحال في الاتحاد السوفيتي، ولا زال إلى هذا اليوم.


التصفية الجسدية، دون صراع فكري، هي الأداة الوحيدة للكرملين، إذ لا بديل له؛ فالفكرة يمكن أن تدحض أفكار المعارضين، وتقنع الناس وتحكم سلمياً وبانسجام مع شعبها.


إن الوضع مع حزب التحرير هو مثال جيد. فقد حظرت المحكمة العليا الحزب، دون سبب ودليل على نشاط إرهابي. الكرملين ببساطة لا يملك فكرة يمكن أن يقدمها للناس يعارض بها أفكار الحزب. لذلك، فإن طريقة الكرملين الوحيدة هي حظر الحزب، وحظر دراسة أدبياته، والقضاء المادي عليه حتى لا يتمكن الناس من دراسة أفكاره واتخاذ قرارهم بأنفسهم. لذلك نرى أكاذيب صارخة تنشرها وسائل الإعلام الروسية بشأن الحزب.


هذا من جهة، ومن ناحية أخرى، فإن الكرملين غارق في جرائمه لدرجة أنه يستخدم كل أساليبه الإجرامية لإبقاء السلطة في يديه. ففي الآونة الأخيرة، سئم شعب روسيا من استبداد السلطة، وأصبحوا غالبا ما يخرجون إلى شوارع المدن مطالبين بالتغيير. ومن أجل صرف انتباه الناس عن مطالبهم، فإن الكرملين يخوفهم بخطر وهمي بالإرهاب، وينشر معلومات كاذبة عن الاعتقالات الجماعية للإرهابيين والأعمال الإرهابية التي تم منعها!


ولكن مهما كانت خدعة الطغاة صعبة، فإن نتائجها واحدة. فالشعب، الذي سئم الاستبداد، ينهض في النهاية ويصل إلى الثورة، وسيكون الطغاة من ثَمَّ تحت أقدام الجماهير. نتذكر ونعرف ما حدث للفراعنة وما حدث للقذافي ومبارك ومن شابههم من الطغاة. في الوقت القريب، إحدى الدول الكبرى في الساحة العالمية، النظام الشيوعي لاتحاد الجمهوريات الاشتراكية السوفياتية، والذي لم يتخيل أحد أنه سينهار، سقط تحت وطأة غضب الشعب الروسي. واليوم، السلطة في الكرملين، التي تعتقد أيضاً أنها لا يمكن أن تنهار، تعد أيامها الأخيرة.


إن حزب التحرير بدوره يحمل دعوة من أمر الله، رغم كل قسوة الطغاة حول العالم، سواء في روسيا أو تركيا أو فلسطين أو سوريا، أو غيرها. وحزب التحرير مسلح بكلمة، هي منهاج لحياة الإنسان والمجتمع والدولة، بناءً على الهداية الإلهية من القرآن والسنة. لقد عاش المسلمون لأكثر من 13 قرناً في الدولة الإسلامية، مسترشدين بالقرآن والسنة. وقبل 100 عام خسرنا دولتنا ونظام حكمنا الإسلامي. لكن ذلك لن يدوم طويلا! هذه المرحلة الصعبة والقاسية من حياة المسلمين ستنتهي قريباً! وبإذن الله سيستعيد المسلمون عظمتهم وقيادتهم على الساحة العالمية!


روى الإمام أحمد حديثاً عن النعمان بن البشير أن رسول الله ﷺ قال: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً عَاضّاً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ».


#أقيموا_الخلافة
#ReturnTheKhilafah
#YenidenHilafet
#خلافت_کو_قائم_کرو

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست