الكثير من الكلام والقليل من العمل!
الكثير من الكلام والقليل من العمل!

الخبر:   تم عقد الاجتماع الاستثنائي للجنة التنفيذية لمنظمة التعاون الإسلامي. وأكدّ وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو أن (إسرائيل) هي وحدها المسؤولة عن الفظائع في القدس الشرقية والضفة الغربية وغزة خلال اجتماع مفتوح عبر الإنترنت. وقال جاويش أوغلو، الذي قال إن القيود المفروضة على الصلاة في المسجد الأقصى وحقيقة تهجير الناس بالقوة أدت إلى الوضع الحالي، "إذا لم يتم عكس هذا التوجّه، يصبح حل الدولتين مستحيلاً مادياً". وقال جاويش أوغلو مرة أخرى: "نحن بحاجة إلى عمل المزيد، وليس فقط الإخطارات والبيانات. إن المجتمع الدولي ملزم بحماية المدنيين الفلسطينيين، وفي هذا السياق تتحمل منظمة التعاون الإسلامي مسؤولية كبيرة". (يني شفق، 2021/05/17م)

0:00 0:00
Speed:
May 25, 2021

الكثير من الكلام والقليل من العمل!

الكثير من الكلام والقليل من العمل!

(مترجم)

الخبر:

تم عقد الاجتماع الاستثنائي للجنة التنفيذية لمنظمة التعاون الإسلامي. وأكدّ وزير الخارجية التركي مولود جاويش أوغلو أن (إسرائيل) هي وحدها المسؤولة عن الفظائع في القدس الشرقية والضفة الغربية وغزة خلال اجتماع مفتوح عبر الإنترنت. وقال جاويش أوغلو، الذي قال إن القيود المفروضة على الصلاة في المسجد الأقصى وحقيقة تهجير الناس بالقوة أدت إلى الوضع الحالي، "إذا لم يتم عكس هذا التوجّه، يصبح حل الدولتين مستحيلاً مادياً".

وقال جاويش أوغلو مرة أخرى: "نحن بحاجة إلى عمل المزيد، وليس فقط الإخطارات والبيانات. إن المجتمع الدولي ملزم بحماية المدنيين الفلسطينيين، وفي هذا السياق تتحمل منظمة التعاون الإسلامي مسؤولية كبيرة". (يني شفق، 2021/05/17م)

التعليق:

آخر مرة نظرنا فيها رأينا بشكل أوضح وأثناء هجوم كيان يهود على القدس أن الحكام الذين ادّعوا أنهم مع الأمة يخشون التحدث عن الحل، ناهيك عن حل المشاكل الجوهرية في الأراضي الإسلامية. ولا يؤخذ أبداً في عين الاعتبار حقيقة أن 57 دولة عقدت اجتماعا استثنائيا تحت اسم منظمة التعاون الإسلامي. إنّ الغرض من وجود هذه المنظمات هو الحدّ من التوترات المتصاعدة لدى الشعوب الإسلامية، ومن خلال الحديث كثيراً وعدم اتخاذ أي إجراء، لتحطيم الشعوب برسائل إدانة بسيطة. وهناك تعبير جميل باللغة التركية يلخص هذا الوضع: "من أجل المظاهر". أيها الحكام! إن الأمة التي تحكمونها كبيرة وهائلة ومساحتها الجغرافية أيضاً كبيرة واستراتيجية، لكن للأسف، أنتم صغيرون وخائفون وليست لديكم القدرة ولا أنتم جديرين بهذا الأمر.

إذا لم يكن الأمر كذلك، لكنتم محوتم كيان يهود من مسرح التاريخ في غضون ساعتين بالقوة التي بين أيديكم. إذا اجتمعت الدول التي تمتلك ملايين الجنود، وآلاف الطائرات المقاتلة والصواريخ وآلات الحرب، لكنها ما زالت تحيل الحل إلى الأمم المتحدة، فإن هذا يسمى عاراً ووقاحة.

مرة أخرى، لا يزال الحديث بلا خجل عن حل الدولتين، وهو مشروع أمريكي، هو ذروة الوقاحة. إن الاعتراف بكيان يهود في الأراضي المقدسة المحتلة وإقناع الأمة بإقامة دولة فلسطينية على مساحة صغيرة هو خيانة. أولئك الذين يسمون كيان يهود إرهابياً ولا يمتنعون عن أي علاقة تجارية، ويتشاركون جميع أنواع الاستخبارات، والذين يخدمون هذا الكيان ويؤسسون قاعدته الرادارية على أراضينا، بالطبع لا يمكنهم التنفيذ ولا الحديث عن الحل الحقيقي الذي سيقضي على هذا الكيان.

هل ما زلتم تحيلون حماية الفلسطينيين المسلمين إلى المجتمع الدولي بينما لديكم هذا العدد الكبير من الجيوش؟ انظروا، الدول التي دعمت المجازر التي ارتكبها كيان يهود والتي تسميها أصدقاء وحلفاء، من الواضح أنها تنحاز إلى جانب معين، وتقدم كل أنواع الدعم لهؤلاء الكفار بينما "تدعمون" إخوانكم وأخواتكم بالتسابق في الإدانة! في الأرض التي بدأ فيها الاحتلال، أولاً، يتم وضع المحتل في الصف، ثم يتم اتخاذ الخطوات الدبلوماسية إذا لزم الأمر. الإيمان والعقل السياسي يمليان ذلك. عقود من الإدانات التي عبرتم عنها، لم تجعل هذا الكيان يتراجع خطوة إلى الوراء، ولا حتى مليمتراً واحداً. بل على العكس يجعلهم يذهبون بعيداً، وأنتم، أي الحكام، أنتم المسؤولون عن ذلك. لا حوار ولا معاهدة ولا سلام ولا مفاوضات ولا دبلوماسية مع كيان يهود. إن المكان الوحيد لمواجهتهم هو ساحة المعركة، ويجب أن يستمر هذا حتى القضاء عليهم تماماً.

لقد شهدت الأمة الآن عجز الحكام المسؤولين وجبنهم وخيانتهم. من الآن فصاعداً، يجب أن تكون الأمة الإسلامية مصممة على التخلص من حكامها في أسرع وقت ممكن. وعليها أن تحاسب الحكام في الساحات حول التعاون السياسي والعسكري والمالي الذي قاموا به مع كيان يهود الذي يسمونه دولة إرهابية. عليها أن تدير ظهرها للقادة الذين يدافعون عن حل الدولتين، وهي خطة أمريكا. لا ينبغي لها أن تثق أبداً بالقادة الذين يدعون إلى تسويات سلمية. وعليها ألا تستمع إلى أي تصريح من القادة الذين لا يحشدون الجيوش التي تضم ملايين الجنود من أجل القدس. بينما يتم انتهاك قيمنا المقدسة، وبينما يتم ذبح إخواننا وأخواتنا، لا ينبغي أبداً قبول قيادة الجبناء الذين يحيلون الحل إلى مكان آخر.

هذا الآن مفترق طرق. الأمة مجبرة على إقامة نظام الخلافة الذي سيحل مشاكلها بشكل جذري، ويقضي على الاحتلال، ويدمر نظام الكافرين. إن الخلفاء والقادة الذين يتصرفون مع هذا النظام، والذين لا يخافون، والذين لا يستبدلون بقيم الأمة المقدسة مزايا بسيطة، والذين لا يمتنعون عن حشد الجيوش، هو ما تستحقه هذه الأمة. إن الحل لأراضينا المحتلة يكمن في الجيوش. الحل هو نظام الخلافة الذي يحشد هذه الجيوش في يد الأمة. حان الوقت لاستبدال الحل الذي لدينا.

#الأقصى_يستصرخ_الجيوش

#Aqsa_calls_armies #AqsaCallsArmies

#OrdularAksaya

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست