اللاجئون يحتاجون إلى نظام يكفيهم الهجرة  وليس إلى وعود كاذبة من قادة العالم (مترجم)
اللاجئون يحتاجون إلى نظام يكفيهم الهجرة  وليس إلى وعود كاذبة من قادة العالم (مترجم)

الخبر: وفقا للأخبار التي نشرها مركز أنباء الأمم المتحدة، في قمتها التي عقدت في 19 أيلول/سبتمبر 2016، فقد تبنى زعماء العالم خطة جريئة لتعزيز حماية اللاجئين. وقد هنأ الأمين العام للأمم المتحدة بان كي مون الدول الأعضاء قائلا: "تمثل قمة اليوم انفراجًا في جهودنا الجماعية لمواجهة تحديات التنقل البشري". وقال بأن اعتماد إعلان نيويورك هذا يعني بأن "مزيدًا من الأطفال سيتواجدون في المدارس،

0:00 0:00
Speed:
September 24, 2016

اللاجئون يحتاجون إلى نظام يكفيهم الهجرة وليس إلى وعود كاذبة من قادة العالم (مترجم)

اللاجئون يحتاجون إلى نظام يكفيهم الهجرة

وليس إلى وعود كاذبة من قادة العالم

(مترجم)

الخبر:

وفقا للأخبار التي نشرها مركز أنباء الأمم المتحدة، في قمتها التي عقدت في 19 أيلول/سبتمبر 2016، فقد تبنى زعماء العالم خطة جريئة لتعزيز حماية اللاجئين. وقد هنأ الأمين العام للأمم المتحدة بان كي مون الدول الأعضاء قائلا: "تمثل قمة اليوم انفراجًا في جهودنا الجماعية لمواجهة تحديات التنقل البشري". وقال بأن اعتماد إعلان نيويورك هذا يعني بأن "مزيدًا من الأطفال سيتواجدون في المدارس، ومزيدًا من العمال سيتمكنون من السعي لإيجاد عمل بشكل آمن خارج بلادهم، بدل أن يكونوا تحت رحمة مهربين مجرمين، كما أن مزيدًا من الأفراد ستكون لديهم فرصٌ حقيقية للعودة متى ما أنهينا الصراع، سنحافظ على السلام وعلى زيادة الفرص المتاحة داخل البلاد". ودعمًا لما ذكر في الإعلان، فقد أطلق الأمين العام حملة جديدة عنوانها "معا – الاحترام، الأمان، الكرامة للجميع" كـ"رد فعل على تزايد رهاب الأجانب وتحويل الخوف إلى أمل". وحث "قادة العالم على الانضمام إلى هذه الحملة والالتزام معًا من أجل إعلاء حقوق وكرامة كل من أجبر لظرف ما على الفرار من بلاده بحثًا عن حياة أفضل".

التعليق:

في قمة الأمم المتحدة المنعقدة حول "أزمة المهاجرين واللاجئين" سمع العالم مرةً أخرى الوعود الخاوية لزعماء العالم والتي تعطي أملاً زائفًا لملايين المهاجرين الذين فروا من بلادهم هربًا من الأوضاع اليائسة. وقد شهدنا سابقًا قمة بانكوك التي عقدت خلال العام الماضي لمواجهة أزمة المهاجرين من الروهينجا، والتي تعهد زعماء جنوب شرق آسيا حينها بمساعدة هؤلاء المهاجرين العاجزين، إلاّ أن شيئًا لم يتغير وبقي اضطهاد الروهينجا قائما. في مثل هذه القضايا يناقش قادة العالم بشيء يلفه الغموض ما يسمى "حقوق الإنسان" بالنسبة للمهاجرين وزيادة المساعدات المالية. ويتحدثون عن عمليات تسهيل لهجرة فعالة وسريعة. ولكن المستغرب هو أن أيًا من هؤلاء القادة لا يتحدث أبدًا عن السبب الذي يقف وراء هذه الأعداد الصادمة للاجئين في المقام الأول.

إن الأمر مكشوف تمامًا؛ فليس سرًا أن قادة العالم الغربي الذين يذرفون دموع التماسيح على هؤلاء المهاجرين، هم المسؤول بشكل مباشر عن هذه الأزمة الإنسانية غير المسبوقة. وقد شهد التاريخ بأن الحرب التي يشنها الغرب على العالم الإسلامي، والسياسات الاقتصادية القمعية التي يفرضها صندوق النقد الدولي والبنك الدولي وما شابههما، كل هذه الأمور التي تتسلط فيها الحكومات الغربية على دول العالم غير المتطورة في السر والعلن هي السبب الجذري لأزمة اللاجئين الكبرى هذه. كان إنشاء دولة غير شرعية لليهود من قبل الغرب سببًا في جعل عشرات آلاف من أهل فلسطين لاجئين بين ليلة وضحاها داخل بلادهم. وأن الغزو الممنهج لأفغانستان والعراق من قبل الولايات المتحدة وحلفائها سبب في جعل الملايين من أهل العراق وأفغانستان لاجئين، أولئك الذين فروا إلى بلدان مجاورة أو يعيشون في مخيمات للنازحين داخل بلادهم في أوضاع يرثى لها. وعلاوةً على ذلك فقد أجبرت الحرب السورية المميتة 4.5 مليون من أهل سوريا على الفرار من بلادهم أو النزوح داخل البلاد أو التعرض للحصار داخل كابوس الحرب المروعة هذه. إلى جانب ذلك، فإن الظاهر هو أن هذه الحرب ستدوم طويلاً فمن يدعم نظام الأسد ليس روسيا فحسب بل إن القوى الدولية والإقليمية المختلفة تدعمه أيضا، وتدعم بلا خجل الجماعات المقاتلة المختلفة بما في ذلك تنظيم الدولة لجني مصالح خاصة بهم. والحقيقة هي أن قادة الغرب عديمو القلوب لم يظهروا أي نوع من القلق والاهتمام بهؤلاء اللاجئين إلاّ عندما وصلت نسبة قليلة منهم إلى شواطئ الغرب وانتشار انتقادات كبيرة بحقهم بعد غرق الآلاف من هؤلاء اللاجئين في مياه البحر الأبيض المتوسط. وبالإضافة إلى ذلك فقد لعبت المؤسسات المالية الدولية كالبنك وصندوق النقد الدوليين دورًا حاسمًا في تفاقم هذه الأزمة. ووفقًا لتقرير الاتحاد الدولي للمحققين الصحفيين للأعوام ما بين 2010- 2015 فقد تسبب البنك الدولي بتشريد 3.4 مليون شخص حول العالم من خلال إملائه للخصخصة واستيلائه على الأراضي والسدود وكذلك عبر دعمه للشركات والحكومات المتهمة بالاغتصاب والقتل والتعذيب. أضف إلى ذلك، فقد خلقت العمليات السرية للحكومات الغربية في القارة الإفريقية صراعات قاسية لا رحمة في هذه المنطقة، سلخت الملايين من الناس هناك من أوطانهم أيضا.

لذلك، فإن أي حل لا يتصدى لهذه الأسباب الرئيسية سيجعل من حلها أمرًا مستحيلا. ولسوء الحظ فإن حكام العالم الإسلامي الذين ليسوا سوى مصدر سخرية للغرب لن يخطوا ولا خطوة واحدة تجاه القضاء على هذه الأسباب على الرغم من أن الغالبية العظمى من هؤلاء اللاجئين الذين لا حول لهم ولا قوة هم من المسلمين. وعوضًا عن ذلك، وللحفاظ على عروشهم، فإنهم مستعدون للمشاركة في هذه القمة التي لا معنى لها، بل وتهنئة هؤلاء المجرمين الذين يتحملون مسؤولية هذه الأزمة في المقام الأول. والحقيقة هي أن هذه الدول الغربية وأيديولوجيتها الرأسمالية الفاسدة لا يمكنها أن تحل المشكلة أبدا، فعقيدة هذه الدول هي المسؤولة عن أزمة اللاجئين الواسعة هذه في القرن العشرين. ووفقا لإحدى الإحصائيات، فقد بلغ عدد اللاجئين في أوروبا بعد الحرب العالمية الثانية 40.5 مليونا. ولذلك، فمن أجل حل هذه المشكلة نحن بحاجة إلى التخلي عن هذا الفكر الذي فشل في ضمان الحقوق الأساسية لملايين الناس في هذا العالم وما علينا هو إعادة إقامة أيديولوجية إسلامية في ظل خلافة راشدة ثانية على منهاج النبوة، تحرر العالم من الحروب الظالمة والقمع الاقتصادي، والعنف الهمجي الوحشي، وتقتلع الأسباب الجذرية المسؤولة عن أزمة اللاجئين.

قال الله تعالى في كتابه العزيز: ﴿الَر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾ [إبراهيم: 1]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست